اشاعت کے باوقار 30 سال

عروسہ اور گڑیا کا گھر

عروسہ کی عمر دس سال تھی۔ رضوان اور سدرہ اس کے بہن بھائی تھے۔ وہ اپنے امی ابو اور چچا چچی کے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتے تھے۔ چچا کے بھی دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی۔ چچا کے مالی حالات کچھ بہتر تھے مگر آپس میں ضد بحث نہ تھی۔ بچے سکول جانے لگے۔ ایک وقت میں کچن میں کام کرنے میں مشکل ہونے لگی تو چچا نے اپنا کچن الگ کر لیا۔ کھانا الگ الگ پکنے لگا مگر شام کی چائے سب مل کر پیتے تھے۔
چچا کو کاروبار میں نفع ہوا۔ انہوں نے اپنا کمرہ اونچا کروا لیا۔ وہ اپنے بچوں کے لیے کھلونے بھی اچھے اچھے لانے لگے۔ چچا کی بیٹی زینب کے ساتھ عروسہ کی بہت دوستی تھی۔ مگر اچھے حالات کی وجہ سے اس میں تھوڑا سا ملکیت کا احساس آ گیا تھا۔ کھلونوں سے اکثر مل کر ہی کھیلتے تھے۔

عروسہ کے چچا اپنی بیٹی زینب کے لیے بہت خوبصورت گڑیا کا گھر لائے۔ گھر دو منزلہ تھا۔ ایک مرکزی دروازہ تھا۔ جو کھل بھی سکتا تھا اور یند بھی ہو سکتا تھا۔ دوسری منزل پر جانے کے لیے سیڑھیاں بنی ہوئی تھیں۔ ایک کچن تھا۔ جس میں قریج اور اوون موجود تھا۔ کچن میں برتن تو نہیں تھے مگر برتنوں کی بہت خوبصورت تصاویر لگی ہوئی تھیں۔ سونے کے لیے چھوٹا سا بیڈ تھا۔ ایک ننھا سا قالین تھا۔ ڈرائنگ روم میں کرسی میز اور سوفہ سیٹ موجود تھا۔
عروسہ نے گڑیا کا گھر دیکھا تو اس کے دل میں شدید خواہش ابھری کہ ایسا گڑیا کا گھر اس کے پاس بھی ہوتا۔ رات کے کھانے پر اس نے اپنے ابو سے فرمائش کر دی۔،، ابو مجھے بھی ایسا ہی گڑیا کا گھر چاہیے،،،
اس کے ابو نے کہا،، تمہیں زینب کھیلنے کے لیے دے دے گی۔ مگر زینب نے گڑیا کا گھر الماری میں رکھ دیا۔

عروسہ کی ہمت نہ ہوئی کہ وہ زینب سے گڑیا کا گھر مانگ سکے۔ کیونکہ اسے چچی سے ڈر لگتا تھا اچھے حالات ہونے کے بعد چچی کا رویہ خراب تو نہیں ہوا تھا مگر جب بھی وہ زینب کے کھلونوں سے کھیلنے لگتی تو چچی آتے جاتے اسے غصیلی نظروں سے دیکھتی تھیں۔ مگر جذبات کا کوئی کیا کرے۔
عروسہ کے اندر خواہش زور مار رہی تھی۔ وہ سونے کے لیے لیٹ تو گئی، مگر نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ گڑیا کا گھر اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم رہا تھا۔ پھر اسے خیال آیا کہ امی کہتی تھیں،، اللہ سب سے بڑا ہے، وہ سب کو سب چیزیں دے سکتا ہے، اس سے ہی سب کچھ مانگنا چاہے۔

عروسہ نے اللہ سے دعا مانگی ،، میرے پیارے اللہ، تو سب کو سب چیزیں دیتا ہے۔ زینب کے پاس گڑیا کا گھر ہے۔ وہ کتنی خوش قسمت ہے۔ اللہ میاں تو مجھے بھی ایسا ہی گڑیا کا گھر دیدے،، پھر اسے خیال آیا کہ اگر اللہ نے اسے گڑیا کا گھر دے دیا تو ا سے اللہ کو کیا دینا پڑے گا۔ اس نے اپنی دعا میں اضافہ کیا۔ اللہ میاں اگر تو نے مجھے گڑیا کا گھر دے دیا تو میں پانچ وقت کی نماز پڑھوں گی۔ پورے پورے روزے رکھوں گی۔ جو تو کہے گا میں وہ ہی کروں گی۔ تو بس مجھے گڑیا کا گھر دیدے۔ اللہ میاں بس ابھی ابھی دیدے۔ اسی رنگ میں اسی شکل میں آسمان سے اتار دے۔ میں اس گھر میں اپنی گڑیا رکھوں گی۔ اسے باتھ ٹب میں نہلائوں گی۔ پھر سلائوں گی۔ اللہ میاں تو بس مجھے گڑیا کا گھر دیدے۔ آنسو عروسہ کی آنکھوں سے بہہ رہے تھے۔ روتے روتے وہ نہ جانے کب سو گئی۔

صبح عروسہ کو اپنے ماتھے پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا۔ عروسہ اٹھ جائو اسکول نہیں جانا کیا، یہ اس کی امی تھیں۔ عروسہ نے آنکھیں کھولیں۔ ارے کیا ہوا تمہیں، رات بھر روتی رہی ہو کیا، اس کی امی نے اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے کہا، پھر انہوں نے عروسہ کے ماتھے پر ہاتھ رکھا،، ارے تمہیں تو بخار بھی ہو رہا ہے،،
امی ی ی ی ی،،، عروسہ اپنی امی سے لپٹ گثی۔ امی مجھے زینب کے جیسا گڑیا کا گھر لینا ہے۔ امی دلا دیں نہ،،، عروسہ مچل رہی تھی۔ اس کو اپنی ماں کی آنکھوں میں بے بسی کی جھلک بھی نظر نہ آ سکی۔
بیٹا، وہ بہت مہنگا ہے۔ مگر میں کوشش کروں گی کہ آپ کو دلا سکوں۔، اور بیٹا جی، اسکی امی نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا، آ پ زینب سے مانگ لیتیں گڑیا کا گھر، وہ آپ کو اپنی چیزیں دے تو دیتی ہے،،
میں اس سے کیوں مانگوں،، عروسہ ٹھنک کر بولی آپ ہی تو کہتی ہیں ک سب کچھ اللہ سے مانگنا چاہیے، میں نے اللہ میاں سے بات کر لی ہے۔
عروسہ کی امی کو ناشتہ جلدی بنانا تھا مگر عروسہ کی بات سن کر وہ رک گئیں، میری بچی بتائو تم نے اللہ میاں سے کیا بات کی ہے۔
عروسہ کی دادی اماں باہر سے آوازیں دے رہی تھیں، اری بہو ، اندر جا کر ہی بیٹھ گئی۔ بھوکا مارے گی کیا،، اتنا وقت ہو گیا ابھی تک ناشتہ نہیں ملا، اب اللہ جانے کیا کرنے چلی گئی کمرے میں۔۔۔۔۔۔۔۔
تم بتائو ، عروسہ کی امی نے عروسہ سے کہا۔
امی،، عروسہ نے خوش ہو کر کہا، میں نے اللہ میاں سے بات کی ہے۔ کہ میں اس کی عبادت کروں گی، روزے رکھوں گی، جو وہ کہے گا وہی کروں گی، پھر تو وہ مجھے گڑیا کا کا گھر دے دے گا نہ،،،،،
عروسہ نے ایک کپکپی سی اپنی ماں کے جسم پر طاری ہوتے ہوئے محسوس کی۔ ان کی آنکھوں کے کنارے بھیگ رہے تھے۔ انہوں نے لرزتی آواز میں کہا میری بچی، یہ تم نے کیا کر ڈالا، تم اتنے سخت عہد کا بوجھ اٹھا پائو گی ۔۔۔۔
عروسہ کو اپنی ماں کا پریشان ہونا سمجھ میں نہیں آیا۔ معصومیت سے بولی۔ امی جب اللہ میاں مجھے گڑیا کا گھر دے دے گا تو میں اس کی بات کیوں نہیں مانوں گی۔
دادی اماں نے پھر آواز دی۔ اری بہو بھوک سے دم نکلا جا رہا ہے،، نکل کمرے سے۔۔۔
آ رہی ہوں اماں۔۔۔عروسہ کی امی نے دروازے کے پاس جا کر کہا۔ پھر وہ عروسہ کے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔ اسے غور سے دیکھا اور کہا۔ اب میری بات غور سے سنو، جیسا میں کہوں ویسا ہی تم بھی کہنا۔
جی امی ،،،، عروسہ کی آنکنوں میں الجھن تھی۔
عروسہ کی امی نے آہست آہستہ کہنا شروع کیا ۔
،،اے اللہ میں نے تجھ سے اپنی خواہش کے مطابق وعدہ کیا، میں بے بس ہوں کمزور ہوں، میں جو بات کہتی ہوں، وہ بالکل اسی طریقے سے پوری نہیں کر سکتی، جس طریقے سے تو چاہتا ہے،، میرے رب اگر مجھ سے غلطی ہو جائے، یا میں اپنا وعدہ پورا نہ کر سکوں،، یا میں اپنا وعدہ بھول جائوں ، تو مجھے معاف فرمانا، تو طاقتور ہے ،میں کمزور ہوں بے بس ہوں لاچار ہوں، مجھ پر رحم فرما ، مجھ پر رحم فرما ۔
امی کے ساتھ ساتھ یہ القاظ دہرانے کے بعد عروسہ کو لگا کہ اس کے دل کی بے حینی کچھ کم ہو گئی ہے۔ اسے نیند آنے لگی اس کی امی نے اسے پیار کیا اور کہا، اب سو جائو، میں اسکول میں تمہاری درخواست بھیج دوں گی۔۔۔۔
رمضان شروع ہونے والے تھے۔ اور سردیاں تھیں۔ عروسہ کے ابو نے فیصلہ کیا کہ عروسہ کی روزہ کشائی کروا دی جائے۔ روزے کے لیے ستائیس رمضان المبارک کا انتخاب کیا گیا۔ بڑی مزے دار سحری ہوثی۔ عروسہ کو تھوڑی بہت بھوک لگی مگر روزہ آرام سے گزر گیا۔ اور افطار کا وقت آ گیا۔
عروسہ نے اپنی کچھ دوستوں کو اپنی روزہ کشائی پر بلایا۔ اسے دوستوں نے تحفے بھی دیئے۔ کچھ اور مہمان بھی آئے۔ ان میں عروسہ کی پھوپھو بھی تھیں۔ انہوں نے بھی تحفے میں ایک پیکٹ دیا۔ عروسہ کو تھوڑا عجیب لگا کیوں کہ پھوپھو بہت کنجوس تھیں۔ ہر وقت ابو کا خرچہ کرانے کی فکر میں رہتی تھیں۔ پھر امی سے بھی لڑتی تھیں۔ اس نے پھوپھو کا تحفہ کھول کر بھی نہیں دیکھا، اور ایک طرف رکھ دیا۔
رات کو جب عروسہ کی امی سارے کاموں سے نمٹ کر سدرو کو سلانے کے لیے کمرے میں آئیں۔ تو عروسہ کو پھوپھو کا تحفہ یاد آیا۔ اس نے اپنی امی سے کہا،، امی میں نے پھوپھو کا تحفہ کھول کر نہیں دیکھا ہے۔
عروسہ کی امی نے تحفے کا کاغذ ہٹایا۔ اس کے اندر ویساہی گڑیا کا گھر تھا، جیسا کہ زینب کے پاس تھا۔ وہی رنگ، وہی ساخت، وہی جسامت،۔۔۔۔۔، زینب کا گڑیا کا گھر پینتالیس دن پرانا ہو چکا تھا۔ اور یہ گھر بالکل نیا تھا۔ چمک رہا تھا۔ عروسہ اپنی دعا کی قبولیت پر حیران رہ گئی۔ اس کی امی نے اسے گود میں بھر لیا اور بولیں،،،میری گڑیا میرے لیے بھی دعا کیا کرو ،
جی امی،، میں سب کے لئے دعا کیا کروں گی،،،عروسہ نے کہا
اب عروسہ روزانہ گڑیا کے گھر سے کھیلتی، عید کے بعد عروسہ کا داخلہ مدرسے میں کروا دیا گیا۔ نئی جماعت سے اسے ٹیوشن بھی بھیجا جانے لگا۔ مصروفیات بڑھنے لگیں تو گڑیا کے گھر کا شوق کم ہونے لگا اور پھر وہ گڑیا کے گھر کو بالکل بھول گئی۔
گھر میں مرمت کا کام ہوا ۔ ساری چیزیں ادھر ادھر ہو گئیں۔ گڑیا کا گھر بھی نہ جانے کہاں چلا گیا۔
عروسہ اپنی تعلیم میں مصروف رہی۔ وقت گزرتا گیا۔ عروسہ اب بارھویں جماعت میں آ گئی تھی۔ ایک دن وہ گھر کی صفائی کر رہی تھی کہ اس نے گڑیا کا گھر دیکھا۔ مرکزی دورازہ تو باقی تھا مگر کھڑکیوں کے چوکھٹے نکل گئے تھے۔ سامان گم ہو چکا تھا کچن کے دیواروں پر لگی ہوئی تصاویر مدھم ہو چکی تھیں، آج وہ گھر دعائوں سے مانگی گئی ایک مقدس شے نہیں، بلکہ پلاسٹک کی ایک بے کار سی چیز لگ رہا تھا۔ عروسہ نے وہ گھر اپنی امی کو دکھایا۔ پھر اس پر رنگ و روغن کر کے ایک بیوہ غریب خاتون کی چھوٹی سی بیٹی کو دے دیا۔ اس کی امی نے کہا تھا ،،خواب تو ہر عمر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ اگر اللہ آپ کے خواب پورے کر دے تو آپ کو اللہ کی مخلوق کو خوش کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔