اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

ایک خط کا جواب

ثریا بابر
بات یہاں سے شروع ہوئی تھی

محترم سرفراز شاھد صاحب :السلام علیکم!
سہ ماہی خوش نما ،، میں پہلی بار شرکت کی جسارت کر رہی ہوں ۔عرض یہ ہے کہ میرا مشاہدہ محدود، فکر کوتاہ، علم کم ہے۔ شاعری سے شغف ہے۔ میری پہلی غزل اخبار جہاں میں شائع ہوئی۔ دوسری مرتبہ آپ کے رسالے میں شامل ہونے کی کوشش ہے ۔ اللہ کرے یہ کوشش بار آور ثابت ہو ۔
آپ کا رسالہ ہر لحاظ سے مکمل ہے مگر اسے پڑھ کر ایک سوال ضرور ذہن میں آتا ہے جس کا جواب ساری کی ساری مردانہ برادری سے چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ ،، جب عورت صنف نازک ، جسمانی طور پر کم تر اور مالی طور پر اکثر مردوں کے دست نگر ہوتی ہے تو اسے مردانہ برادری ٫٫ بیوی ،، کی صورت میں ،، جلاد،، کیوں بنا دیتی ہے ۔ جو بیلن، چمٹے یا چپل کی مدد سے ایک پانچ چھ فٹ کے تنو مند، ہٹے کٹے ، کڑیل جوان کو اپنا حکم ماننے پر مجبور کر دیتی ہے۔ کیا ایسا ہونا حقیقی دنیا میں ممکن ہے؟؟؟ عورت، مرد کی کمزوری ہے وہ اس وجہ سے تو بیوی کی بات مان سکتا ہے۔ چمٹے یا بیلن کے ڈر سے کون بات مانے گا۔ سوال سنجیدہ ہے اور میرے خیال میں ہر مزاحیہ شاعر سنجیدہ شاعروں سے زیادہ سنجیدگی سے شاعری کرتا ہے۔ اگر اس سوال کا جواب آپ کے پاس ہو تو ڈاکٹر تونسوی کی طرح پر تحقیق اور مدلل جواب میرے سوال کے ساتھ خوش نما میں شائع کر کے شکریہ کا موقع ضرور دیجیے گا۔ اگر نا دانستگی میں کوئی گستاخی سرزد ہو گئی ہو تو ٫٫ طفلانہ سر کشی ،، سمجھ کر شفقت فرمائیے گا ۔ دعائو ں کی درخواست ہے اور دعا گو ہوں کہ اللہ تعالی آپ کو دین اور دنیا کی تمام بھلائیاں عطا فرمائے۔ آمین

سرفراز شاھد صاجب کا جواب۔!

محترمہ: آپ کو،، خوش نما،، میں آمد پر خوش آمدید۔ آ پ کا سوال اچھا ہے کہ شاعری بالخصوص مزاحیہ شاعری میں عورت ہی کو کیوں مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے ؟؟ اگر آپ سنجیدہ اور مزاحیہ شاعری پر نظر دوڑائیں تو آپ دیکھیں گی کہ ہمارے شعراء نے سینکڑوں موضوعات پر طبع آزمائی کی ہے اور عورت کو بطور صنف نازک نہیں بلکہ ،، بیوی ساس اور محبوبہ کے حوالے سے موضوع بنایا ہے ۔جب کہ ماں ، بہن اور بیٹی کی حیثیت سے اس کو نشانہ بنانے کے بجائے عزت و توقیر بخشی ہے ۔اس طرح مرد کو بطور مرد کے کہیں نہیں کوسا، لیکن یہ بھی سامنے رہے کہ بطور لیڈر ، افسر ، مولانا، سوہر رقیب، سالا وغیرہ کیسے کیسے ملامت کی ہے ۔ خالد مسعود نے تو مرد کو ٫٫ ابا ،، کے کردار میں بھی پیش کر کے اسے ًطنز کا نشا نہ بنایا ہے ۔

اس کی شادی نہ ہونے کا باعث اس کا ابا تھا سب حریان تھے ایسا ابا اس نے کہاں سے لبھا تھا

امید ہے آپ کی غلط فہمی دور ہو گئی ہو گی۔

جاری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔