اشاعت کے باوقار 30 سال

مگر اے چارہ گراں

ثریا بابر
'' میں ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی کی ممنون ہوں کہ انہوں نے میرے سوال کو بنظر غور پڑھا اور بنظر تحقیق اس کا جواب دیا۔ میرے انتہائی محدود علم کے ساتھ میرے لیے یہ تو ممکن نہیں کہ میں ڈاکٹر صاحب کی کسی بات کا تحقیقی جواب دے سکوں۔ مگر ڈاکٹر ایس ایم معین قریشی صاحب کی اجازت سے ہی خامہ فرسائی کی ہے۔ گر قبول افتد زہے عز و شرف۔
ہمارا جس خاندان سے تعلق ہے۔ اس میں شوہر پرستی کی وبا عام ہے ۔بات چیت کے دوران ایک حدیث اکثر دہرائی جاتی ہے۔'' اگر اسلام میں کسی انسان کو سجدے کی اجازت ہوتی تو میں بیوی کو حکم دیتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے'' اس حدیث پر عمل کا سادہ سا نتیجہ ہے کہ اکثر لڑکیاں سسرال میں خوش رہتی ہیں،(مخصوص حالات کی بات اور ہے) اور بعض مرتبہ تو شوہر کے انتقال کے باوجود سسرال چھوڑنے پر تیار نہیں ہوتیں۔ اس لیے جب جناب ایس ایم معین قریشی نے 15 فی صد ہی سہی، اعداد و شمار سے ثابت کیا کہ بعض لوگ، اپنی لگائیوں سے پٹتے ہیں تو ہم انگشت بدنداں رہ گئے ۔بھلا بندہ بھی اپنے معبود پر ہاتھ اٹھا سکتا ہے؟؟ داسی کی کیا مجال ؟ کہ دیوتا کے اشاروں پر رقص کے علاوہ کوئی جرات کر سکے، گر یہ دنیا امکانات کی دنیا ہے، یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ہم نے سوچا کہ اگر بیویاں شوہروں کی مار لگاتی ہیں تو اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟؟ کیونکہ اللہ نے مرد اور عورت کا تعلق ایسا بنایا ہے کہ

ان کو آتا ہے پیار پر غصہ ہم کو غصے پہ پیار آتا ہے

جب معاملات ایسے ہوں گے تورشتہ ٹوٹنے اور مار پٹائی کے امکانات بہت کم ہو جائیں گے ۔ لڑائی ہوئی تو حد سے حد بات کہاں تک پہنچے گی ؟ کوئی نہ کوئی یہ کہہ کر مسکرا دے گا۔

بڑا مزا آیا لڑائی میں ٹوٹ گئی چوڑی کلائی میں

اور ہمیں زیادہ تر جو لڑائیاں معلوم ہیں وہ عورت کی عورت سے لڑائی تھی ۔مرد بے چارہ بیزار سا کبھی ایک رشتے کو چپ کرا رہا ہے کبھی دوسرے رشتے کو ۔۔۔ جب دونوں رشتے تھک جاتے ہیں تو خود ہی چپ ہو جاتے ہیں۔
اولاد کو جب بھی کوئی مشکل درپیش ہو تو سب سے پہلے ماں کا خیال آتا ہے ۔چنانچہ ہم نے سب سے پہلے اپنی والدہ سے رابطہ کیا ۔پہلا سوال ان سے یہ تھا۔ کیا آپ کو کوئی ایسا واقعہ معلوم ہے جس میں بیوی نے اپنے شوہر کی پٹائی کی ہو؟؟ہم حیران رہ گئے ۔جب انہوں نے بتایا ''ہاں پتہ تو ہے ۔ ہمارے پرانے محلے میں ایک مرتبہ ایک آدمی کی اپنی بیوی کے ہاتھوں جوتیوں سے پٹائی ہوئی تھی۔ اور بے چارہ جواباً مارنے کے بجائے ہائے اللہ ، اوئی اللہ ، کرنے میں مصروف تھا ۔ یہاں تک تو چلو ٹھیک ہے۔ میاں بیوی کا آپس کا معاملہ تھا مگر محلے داروں کا ایک گروہ جوتیاں سنبھالے اس کے گھر کے سامنے موجود تھا کہ ذرا یہ باہر تو نکلے ہم مزید جوتیاں مار کر اس کی چندیا چمکائیں۔ اس نے سارے مردوں کی ناک کٹوا دی ہے ۔ اللہ ہی جانے بے چارہ کون سی دیوار کود پھاند کر بھاگا۔ فوراً ہی ہمارا دوسرا سوال تھا۔''اس کے پٹنے کی وجہ کیا تھی ''
''اب تو صحیح سے یاد نہیں مگر کوئی نہ کوئی بات تو ہوئی ہو گی '' والدہ کا جواب تھا ( ایک تو ہماری امی کوکسی کی بھی بری باتیں یاد نہیں رہتیں ہم کتنے سارے چٹخاروں سے محروم رہ جاتے ہیں) '' یہ تو بڑی مشکل ہوئی '' ہم نے کہا '' اچھا یہ بتا دیں کہ اندازا وجہ کیا ہو سکتی ہے ؟؟ صحیح وجہ تو پتہ چلنی چاہیے۔ والدہ نے جواب دیا ۔ '' میرا خیال ہے کہ مرد جسمانی طور پر طاقتور ہوتا ہے ۔وہ صرف اس صورت میں پٹ سکتا ہے جب اس کی برین واشنگ کر دی جائے ''
''تو اس برین واشنگ کے مدارج کیا ہو سکتے ہیں '' ہم بھی سوالوں پر تلے بیٹھے تھے۔
'' جہاں تک میں نے دیکھا ہے'' والدہ نے کہا ''بیوی پہلے اپنے شوہر کے دل میں اس کے بہن بھائیوں اور ماں باپ کی برائی ڈالتی ہے۔ کیونکہ ہروقت عیب ڈھونڈنے والے کو کوئی نہ کوئی عیب مل ہی جاتا ہے ۔ ورنہ وہ ان کی عام بات چیت میں سے کیڑے نکال نکال کر میاں کو کھلاتی ہے جب میاں اس ذائقے کا عادی ہو جاتا ہے پھر اس کے ذہن میں بٹھاتی ہے کہ غلطی ہمیشہ تم کرتے ہو ۔ یہ سوچ جب پختہ ہو جائے تو مرد اپنی جسمانی طاقت کے باوجود پٹ جاتا ہے مگر ہر عورت میں یہ گن نہیں ہوتے۔''
ہم نے اپنی گزشتہ زندگی کا جائزہ لیا تو ہمیں تھوڑا سا افسوس ہوا کہ ہم میں یہ گن موجود نہیں تھے (ہوتے بھی کیسے ؟؟ ہم نے اپنی والدہ کو ہمیشہ والد صاحب کی خدمت میں مصروف عمل دیکھا) پھر بھی ہم چشم تصور سے شوہر نامدار کی پٹائی کے مناظر دیکھنے لگے ( دل بے ایمان ہونے میں تو کوئی دیر نہیں لگتی نہ۔۔۔۔۔) مگر جلد ہی ہمارے دل نے ان مناظر کی بجلی یہ کہہ کر منقطع کر دی ''ہم بگڑے ہوئے نہیں ہیں
ابھی تک تو ہم نے طرف والدہ صاحبہ سے پوچھا تھا اور فلسفے کی رو سے جزو کا علم '' کُل '' پر لاگو نہیں ہو سکتا ۔۔ اس لیے ہم نے کچھ اور لوگوں سے بھی سوالات کیے ۔ہمیں یہ معلوم ہوا کہ بہر حال ایسی خواتین موجود ہیں جو '' لٹھ'' پر '' نتھ '' کی حکمرانی چلاتی ہیں مگر ۔۔۔۔۔

اے چارہ گراں !!۔۔۔۔ کچھ توجہ ادھر بھی۔۔۔!کہ یہ تعداد ہمارے سروے کے مطابق 6.5 فی صد تھی ، اور یورپ میں15 فی صد ۔۔ جہاں عورتوں کو مردوں کے خلاف کھڑا کرنے کے لیے مار گریٹ تھیچر اور (خاتون آہن) اور لیڈی آسٹر جیسے رول ماڈل بھی موجود ہیں۔ گستاخی معاف مگر اس بات سے اختلاف کی گنجائش بہر حال موجود ہے کہ عورتیں اپنی غلطی کبھی تسلیم نہیں کرتیں کیونکہ میں نے ایسے مرد بھی دیکھے ہیں جو ہر بگڑ جانے والا کام اتنے بھونڈے طریقے سے عورت کے سر تھوپتے ہیں کہ ان کے معصوم لبوںپر یہ شکایت آ ہی جاتی ہے ک شاید ہیرو شیما اور ناگاساکی پر بم گرنا بھی ہماری ہی جنبش ابرو کا نتیجہ ہے۔ اس رویے کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جب بچے ہر وقت اپنے باپ کے ہاتھوں '' ماں'' کی ناقدری دیکھتے ہیں تو لا شعوری طور پر وہ بھی یہ ہی رویہ اپنا لیتے ہیں ۔ در اصل '' غلطی صرف تم کرتے ہو'' ایک انسانی رویہ ہے جس میں مرد عورت سب برابر ہیں۔۔

شوہر نشے کا عادی اور اس کی غیر تعلیم یافتہ بیوی بچوں کی خاطر جھاڑو پوچا کرنے پر مجبور ۔۔۔ ہر دوسری تیسری ماسی کی کہانی ہے ۔اور پھر ایسے شوہروں کی توقعات بیوی سے بڑھتی چلی جاتی ہیں۔ایک خاتون کا یہ تبصرہ بھی ہمارے کانوں تک پہنچا کہ '' مرد ، عورتوں کو ٹارزن سمجھتے ہیں کہ یہ ہر قسم کا نا ممکن کام بھی کر لیں گی ۔'' شریف مردوں کا ہزار بار شکریہ کہ وہ عورتوں کو عزت و احترام سے رکھتے ہیں اور معاشرہ یقینا ایسے ہی افراد کی وجہ سے قائم ہے مگر عورتوں کو مال تجارت کی طرح سے استعمال کرنے کی گواہی بھی سب سے زیادہ مردوں کے پاس ہی ہوتی ہے ۔