اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

کیا آپ کو انگریزی آتی ہے ؟

سید عارف مصطفی ۔۔۔۔
انگریزی بولنا ہم کو ہمیشہ سے ہی مرغوب ہے لیکن انگریزوں ہی کو ہماری یہ رغبت مطلوب نہیں ، جب بھی ہم نے کسی گورے کے سامنے اپنی انگریزی کا دبستان کھولا وہ مانو بہرہ سا ہوگیا، اپنی طویل گفتگو میں ہم نے جتنے بھی سوالات کیئے کسی ایک کا جواب نہ دیا محض کندھے اچکا کر ہی رہ گیا یا عجب سے ہونق انداز میں دونوں بازو اٹھا کر لہرا کر آگے بڑھ گیا،،، اس روکھے پھیکھے فرنگی طرز عمل سے ہمارے لسانی جذبات مجروح ضرور ہوئے لیکن ہر بار ولولوں کی آنچ اور بڑھتی سی محسوس ہوئی اور ہم نے نئے عزم سے ڈکشنری کو جھاڑ کر کتابوں کے ڈھیر سے برآمد کیا اور اس میں مزید نئے الفاظ رٹنے میں جت گئے ۔ شروع شروع میں تو جزبات اس درجہ گرمائے سے رہتے تھے کہ ایسے ہر واقعے کے بعد کم ازکم اس دن ڈکشنری ہی دیر تک شریک بستر رہتی تھی اور کبھی ہم ڈکشنری پہ تو کبھی ڈکشنری ہم پر پڑی دکھتی تھی۔ ڈکشنری کے ساتھ ہماری یہ 'ہمبستری' رنگ نہ لائے ایسا کبھی نہیں ہوا او ہم نے اگلے ہی دن کتنے کو نئے سیکھے الفاظ کی باڑھ پہ دھرلیا،اور حسب توفیق سرکھجانے بلکہ سب کچھ کھجانے پہ مجبور کر دیا۔

لیکن۔۔ لیکن اس سے ہرگز یہ نہ سمجھاجائے کہ ہمیں انگریزی سے کوئی شکایت نہیں، سچ تو یہ ہے کہ زمانہ طالبعلمی میں بس یہی اک مضمون ایسا تھا کہ جس نے ہم سیکھی وفا نہ کی، کتنا ہی اور کیسا ہی رٹا گھوٹا کیوں نہ لگایا ہو لیکن جب بھی کبھی اسکے ٹیچر نے آنا فاناً برسر عام کوئی سوال کیا وہ ہمارے سر سے پتھر کی مانند ٹن سا ٹکرایا، پھر دفعتًا دماغ میں جیسے دھواں سا بھر گیا اور آنکھوں میں گویا اندھیرا سا چھا گیا اور کندھے اور منہ ایک ہی ساتھ لٹک گئے، ثابت ہوا کہ انگریز بڑی بیوفا قوم ہے، اتنی بیوفا کہ اسکی زبان تک ہم دیسیوں کا یوں اچانک ساتھ چھوڑ دیتی ہے، ساتھ تو ہمارا کہنے کو عمرے کے دوران کئی بار عربی زبان نے بھی چھوڑا لیکن مخاطب یعنی بندہ عربی نے ہمیں نہیں چھوڑا اور مفہوم سونگھ کر ہی دم لیا 1997 میں عمرے پہ جاتے ہوئے ہم حفظ ماتقدم کے طور پہ عربی کے چالیس پچاس ایسے جملے رٹ کر گئے تھے کہ جو اکسیر کی مانند تھے اور روزمرہ امور بھگتانے کیلئے 'حل المشکلات' کا درجہ رکھتے تھے، یہ جملے ہم نے چند دن میں فرفر عربی بولنے پہ قادر کرنے والی ان کتابوں سے سیکھے تھے کہ جنکا مرکز ریگل چوک پہ ہے اور وہاں تو گویا کئی عربی جامعات اسکے فٹ پاتھ پہ علم کی عاجزی کے پیغام کے ساتھ لیٹی ہوئی ہیں اور جن سے رجوع کیلئے خود بھی عاجزی کے ساتھ پینتالیس کے زاویئے سے زمین کی طرف جھکنا پڑتا ہے۔ ان جامعات سے برق رفتار و ایمرجنسی تحصیل علم کے بعد سعودیہ میں عمرے کے اس قیام کے دوران یہ افتاداً کئی بار ٹوٹی کہ ٹیکسی کو اشارے سے بلایا وہ تو فورا آ گئی لیکن ساتھ ہی عربی فٹافٹ چلی گئی ۔۔۔ وہاں ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ متبادل کے طور پہ صحیح انگریزی میں گویائی، غلط عربی بولنے سے زیادہ ناگوار نتائج کا سبب بن جاتی تھی جسکا اندازہ ڈرائیور کے چہرے پہ نمودار ہونے والے فوری و سخت مہیب اثرات سے ہوجاتا تھا،،، تاہم ہمارے حلئے اور بشرے کی رعایت سے کئی بار خود ڈرائیور نے ہی ترس کھایا اور رواں اردو میں ہمارے مدعا کی بابت معلوم کرکے ہمیں فقیرانہ سی ممنونیت کا موقع دیا۔

انگریزی کی بابت ہم یہ بصد ناز یہ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ ہماری کمزوری ہے لیکن یہ کمزوری اس ذمرے میں نہیں آتی کہ کوئی روایتی ماہر کمزوریات دور کرسکے ورنہ تو ڈکشنری کو بستر اور اعصاب پہ یوں سوار کیوں کرتے آن کی آن کسی ماہر بیگ ماہر سے مل لیتے اور 'عین وقت' کی شرمندگی سے کیوں نہ بچ جاتے کہ انکا ہنر کا تو خاص ایسے ہی مواقع پہ خصوصی طور پہ کام آنا بتایا جاتا ہے،، اگر ایسا ہوتا تو پھر تو یہ محض دس پندرہ پھکیوں ہی کی مار ہوتی۔۔۔ لیکن کمزور انگریزی کا ٹیڑھا پن یوں آسانی سے نہیں جاتا ،،، منہ ٹیڑھا کئے بغیر یہ کجی و لاغری پورے طور سے نہیں جاتی مزید استحکام مقصود ہو تو منہ کے ساتھ ساتھ مزاج کو بھی خاصا ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے،،، شنید ہے کہ سیدھے منہ انگریزی بولنے میں دو شدید نقصانات ہیں ایک تو لوگ آپکو پیلے اسکو ل سے فارغ التحصیل باور کرنے لگتے ہیں دوسرے یہ سمجھتے ہیں کہ کسی کی دھمکی ملنے کے بعد آپ منہ سنبھال کر بات کرنے کیلئے مجبور ہیں۔۔۔ بعضے لوگوں کے مطابق مستند انگریزی بولنے کیلئے قمیض اور کوٹ کے کالر بھی کھڑے کرنے پڑتے ہیں اور اس میں البتہ وضعداری و شرافت بارہا بیٹھ بیٹھ جاتی ہے۔

یہ نہیں کہ انگریزی کے عشق میں اک ہم ہی مبتلا ہیں ، اسکے متاثرین ہر طبقہ عمر اور ہر کالونی میں پڑے ملتے ہیں،، کسے شوق نہیں کہ اپ ٹو ڈیٹ کہلائے حتی کہ وہ بھی جو شطرنج کی بساط کے دونوں طرف ہروقت مستقل آنکھیں موندے ملتے ہیں اور وہ بھی کہ جو گلی محلے کے دو کمرے کے اسکولوں میں پھٹی نیکر اور پھٹی آواز میں ہمپٹی ڈمپٹی الاپتے سنائی دیتے ہیں۔۔۔ ایسے اسکولوں میں بالعموم اسکولوں سے بھاگے ہوئے لیچڑ ٹیچر کے روپ میں اسٹاف روم میں پڑے ملتے ہیں ،،، یہ لوگ اسکول سے عام طور پہ اس لیئے بھاگتے ہیں کیونکہ انہیں آگے کسی اسکول میں ٹیچر کی اسامی خالی دکھتی ہے۔

انگریزی سے ہماری قومی الفت یونہی بے سبب نہیں دراصل یہ اسکی آسانیاں پیدا کرنے کی غیر معمولی صلاحیت کے باعث ہے۔ انگریزی بولنا کوئی کھل جا سم سم جیسا منتر ہے کہ یہاں ہر پھاٹک پاٹوں پاٹ کھل جاتا ہے۔۔۔ کسی لمبی سی قطار میں کھڑے لوگوں میں سے کوئی انگریزی بول کر ایکسکیوزمی کا ورد کرتے ہوئے ایک ہی کوشش میں باآسانی دو چار لوگوں کو آن کی آن پھلانگ سکتا ہے اور کوششوں کا یہ سلسلہ جاری رکھ کر بڑی تیزی سے کاؤنٹر تک رسائی پالیتا ہے اور ان پھلانگے گئے لوگوں کو برا بھی نہیں لگتا بلکہ وہ الٹا خود کو پھلانگے جانے کے اعزاز پہ پہ مشکور ہوئے جاتے ہیں ۔۔۔ دیسی زبان منہ میں رکھ کر ایسی کوشش ذرا بھی کی جائے تو نجانے کیوں ہر ایک ایسی زبان کھینچ لینے کی اپنی سی ایک 'ٹرائی' ضرور کرتا ہے۔

مشاہدے سے پتا چلتا ہے کہ انگریزی فلمیں دیکھنے والے کنوارے خود بخود گھر پڑے پڑے بھی بہت لائق و قابل سمجھے جاتے ہیں اور جلد ہی چندے آفتاب سی من کی مراد پاتے ہیں، جبکہ شادی شدہ ہوں تو نیا گھر بسنے کی نوبت آجاتی ہے کیونکہ وہ گھر میں پڑی چمڑی کا فلم کی سفید چمڑی سے موازنہ کرنے لگتے ہیں جسکا نتیجہ عام طور پہ تبدیلی کے حق میں ہی نکلتا ہے۔۔۔ انگریزی کے معاملے میں برصغیر کی حد تک یہ بڑے گر کی بات ہے کہ انگریزی صرف اسکے سامنے بولنی چاہیئے کہ جسے بولنی نہ آتی ہو ورنہ آپکو اسکی بات کا جواب بھی دینا پڑجائیگا جس میں آپکے لیئے آبیل مجھے مار جیسا معاملہ بھی چھپا ہوسکتا ہے اور ویسے بھی آپنے انگریزی کسی مباحثے کیلئے نہیں محض اس لیئے سیکھی ہے کہ دوسرا خشوع و خضوع سے صرف سنے، اگر وہ بھی آگیسے منہ کو آئے تو کیا خاک فائدہ انگریزی بولنے کا۔۔؟؟

انگریزی بولنے کے فوائد میں سے ایک بڑا فائدہ یہ بھی ہے کہ بندہ پیدائشی لفنگا ہو تب بھی دائم معزز دکھائی دینے لگتا ہے اور اسکو کسی بھی جگہ کہیں سے کرسی حاضر کر کے بیٹھنے کو پیش کردی جاتی ہے اسکا اعتبار محلے کے دکانداروں پہ اس حد تک قائم و راسخ ہوجاتا ہے کہ اسکو ادھار مانگنے کی نوبت ہی نہیں آتی، دکاندار سامان پیک کروا کر سپردگی کے بعد بس اتنا ہی پوچھتا ہے کہ "پیسے ابھی دینگے یا بعد میں لے لوں"۔۔۔ اہمیت کا تو یہ حال درپیش رہتا ہے کہ قومی و بلدیاتی انتخابات کے موقعوں پہ علاقے کی ہر کارنر میٹنگ میں امیدوار اپنے پہلو میں بڑے چا سے بٹھاتا ہے اور اگر پہلے سے کوئی اس جگہ پہ قابض ہوا بیٹھا ہو تو اسے بڑے تا سے اٹھاتا ہے۔

جہان تک ہماری قوم کا اپنی زبان سے محبت کا تعلق ہے تو وہ دائم آنکھ مٹکے کی شوقین نار کا ساہے جہاں گھر والوں کی نظر چوکی اور وہاں کسی سے آنکھ لڑی، دنیا جہاں کی زبانوں سے آنا فانا" مراسم استوار کر لیتے ہیں بس اپنی زبان کو بقول یوسفی گالی گنتی و گانے کیلئے 'خاص' وقف کر رکھا ہے، گانے کے معاملے میں تو عجیب یتیمانہ سا رویہ ہے چپکے چپکے لتا و مکیش کو سنتے ہیں مگر کھلم کھلا انگریزی گانے لگا کر تھرکتے ہیں حالانکہ اردو گیت سنگیت بہت ریاض سے معیار کو پہنچتا ہے جبکہ انگریزی گانے کا معاملہ بہت ہی سہل ہے برف کا ٹھنڈا پانی جسم پہ ڈال کر منہ سے فورا جو بھی بول نکالیئے وہ آپ ہی آپ انگریزی گانے میں بدل جائیگا۔ ادھر اہل مغرب میں جو انگریز نہیں جیسے فرانس، ہالینڈ یا جرمنی وغیرہ تو کہتے ہیں کہ کہ انکا اپنی اپنی زبانوں سے محبت کا یہ عالم ہے کہ اگر وہاں اگر کوئی انگریز سڑک پہ گر پڑے تو لاکھ انگریزی میں کتنی ہی ٹیاں ٹیاں کرے کوئی مدد کو نہیں آتا اور یہاں کہیں اگر ایسا ہو جائے تو ہاتھ تھامنے کو ہر طرف سے اتنے لوگ بھاگتے آتے ہیں کہ وہ انگریز ہراساں و بدحواس ہوکر خود ہی دوڑ پڑتا ہے۔ اگر نہ دوڑے تو کوئی بٹوا تھام لیتا ہے تو کوئی گھڑی اور کوئی جینز۔۔۔۔ ہاں گرنے والی اگر خاتون ہو تو جھٹ گود میں اٹھائے اٹھائے پھرتے ہیں اور وہی سڑک ادھر ادھر سے چار پانچ بار کراس کر جاتے ہیں۔

مگر چند لوگ ایسے بھی ہیں کہ جنہیں اس زبان سے کوئی مرعوبیت نہیں اسلئے ارباب اختیار کو ان کیلئے مرغوبیت نہیں، ان دونوں کو اپنی زبان سے عشق کے سوا اور کوئی کام نہیں اور ایسے لوگوں سے باقیوں کو کوئی سروکار نہیں کیونکہ ایسے مجنوں تو کسی کے کام کے نہیں بلکہ اپنے گھر والوں کے کام کے بھی نہیں، انہیں انگریزی سے کوئی پرخاش ہے تو بس اتنی کہ وہ ہم کو بخش کیوں نہیں دیتی اور بطور ایک آزاد و خود مختار قوم ہمیں پنپنے کیوں نہیں دیتی۔