اشاعت کے باوقار 30 سال

دادی اماں سیر کو جائیں

ہمیں بڑی بوڑھیوں کہانی سنانے کا انداز بہت اچھا لگتا تھا۔ ہماری نانی جب،، ہاں تو بچو! ایک تھا بادشاہ ۔۔ مگر ۔۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ۔۔ کہہ کر کہانی شروع کرتیں تو ہماری تو جان جیسے اس ایک جملے میں آ جاتی۔ ہمارا دل للچاتا کہ ہمارے آس پاس ڈھیر سارے بچے ہوں اور ہم انہیں کہانی سنائیں۔ ہم خود دادی نہیں بنے تھے۔ سولہ سال کی عمر میںبن بھی نہیں سکتے تھے مگر دل کی خواہش عمر کا خیال تھوڑا ہی رکھتی ہے۔
انہی دنوں ہمارے گھر والوں کا ایک میت کے سلسلے میں شجاع آباد جانا ہوا۔ وہاں ہمارے چھوٹے چھوٹے بھانجی بھانجوں کی کافی تعداد رہتی ہے۔ ہماری امی اور خالہ شیر خوار بچوں کو تو ساتھ لے جا رہی تھیں مگر ان سے کچھ بڑے بچوں کو گھر میں چھوڑنا مجبوری تھی کیونکہ اس عمر کے بچے وقت اور موقع دیکھے بغیر ، بھوک ، بھوک ، چلانا شروع کر دیتے ہیں۔ ہماری خالہ کی دو بیٹیاں آل اولاد والی ہیں ماشاء اللہ پوتا پوتی بھی ہیں۔ ہائے اللہ اتنے سارے بچے ۔۔۔۔۔۔ ہمیں اپنے کہانی سنانے کے خواب پورے ہوتے نظر آنے لگے۔ ہم نے فوراََپیش کش کی کہ ہم بچوں کے پاس رہ جائیں گے ان کا خیال رکھیں گے۔ حمیدہ باجی، فہمیدہ باجی اور ثمینہ باجی نے تشکر بھری نظروں سے ہمیں دیکھا اور آمادگی ظاہر کر دی۔ مگر ہماری امی کی آنکھوں میں شک بھرا تھا۔ تو وہ تو ہماری حرکتوں کی وجہ سے اکثر رہتا ہی ہے ۔ مگر میّت کا معاملہ تھا ہماری امی نے کچھ نہ کہا ،، ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ہی ۔۔ لوگ مجبوریوں کے ہاتھ کیسے مجبور ہو جاتے ہیں۔

چنانچہ ہوا یوں کہ کل 9 بچوں کا انچارج ہمیں بنا دیا گیا۔ ہم نے سب سے پہلے حساّن سے 1 کلو برفی منگوائی ۔ بیٹھک میں ، ایک بڑی سی ٹرے میں برفی رکھ کر ،، ہلّہ بول،، کا نعرہ لگا دیا۔ جتنی دیر بچے برفی کھانے میں لگے ہم خالہ کے کمرے میں بجلی کی سی تیزی سے پہنچے ان کا سفید رنگ کا پرانا شٹل کاک برقعہ نکالا ، نانی اماں کی موٹے شیشوں والی عینک لگائی ، برقعہ کچھ اس طرح سے لپیٹ لیا کہ منہ کا اکثر حصّہ نظر نہ آئے کپڑے دھونے کا لمبا سا ڈنڈا لیا اور تھوڑا سا دروازہ کھول کر بچوں کے کمرے میں جھانکا ۔ بچے کمرے میں ہی تھے، ہم کھانستے ہوئے کمرے میں داخل ہوئے ُبچے جو برفی کی چھینا جھپٹی میں لگے ہوئے تھے حیران ہو کر ہمیں دیکھنے لگے ۔ماہم ، طلحہ، سدرہ ، عروہ ، حذیفہ جن کی عمریں 5 سے 7 سال کے درمیان تھیں ۔۔۔ زمین پر سے برفی چننا بھول کر ہمیں دیکھنے لگے۔

ارے بچو ! تمہاری نانی کہاں چلی گئیں اور حسّان تمہاری دادی کہاں ہیں ؟ ،،ہم نے آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوئے دھوپ میں سے آنے کا کامیاب تاثر دیا،، آپ کون ہیں ؟ کس سے ملنا ہے ؟ سیمی نے فورااپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے پوچھا۔ میں تمہاری نانی کی دوست ہوں، ان سے ملنے آئی ہوں،ہم نے کہا ، وہ تو میّت میں گئی ہوئی ہیں ، شام تک آئیں گی ،، سہیل نے آگے بڑھ کر جلدی سے کہا ، وہ ہمیں شک بھری نظروں سے گھور رہا تھا۔

،، ارے تو بیٹا پانی تو پلا دو ، تھک گئی میں تو ،ہم دھم سے صوفے پر بیٹھ گئے۔ اتنا اطمینان ہمیں تھا کہ بچے مل کر ہمیں باہر نہیں نکالیں گے ، کیونکہ ہماری خالہ عرصہ پندرہ سال سے بیوہ تھیں اور ان کے گھر عمر رسیدہ خواتین کا آنا جانالگا رہتا تھا۔ سیمی نے ہمیں پانی لا کر دیا اور ہم نے خوشی خوشی بچوں سے باتیں شروع کر دیں ۔ ان باتوں میں وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔ ماہم اور طلحہ نے اچانک ہی کہانی سننے کی فرمائش کر دی اب شوق ہونا الگ بات ہے اور موقع مل جانے کے بعد اس سے فائدہ اٹھانا ایک بالکل دوسری بات ۔۔ تو اس وقت کوئی کہانی ذہن میں آئی ہی نہیں۔۔۔ مگر اب ہم اتنے بدّھو بھی نہیں کہ ایسے حالات میں ہار جائیں۔ کالج میں ہم اردو ادب کے طالب علم ہیں ۔۔ اور مثنوی ،، سحر البیان،، پڑھ رہے ہیں۔ اسی کا خلاصہ ہم نے بچوں کو سنانا شروع کر دیا۔

ہاں تو بچو ! ایک تھا بادشاہ ۔۔ مگر ۔۔ ہمارا تمہارا خدا بادشاہ ،، تو جو بادشاہ تھا اس کی ایک بہت ہی خوبصورت بیٹی تھی۔ ایک مرتبہ وہ نہا کر چھت پر بال سکھا رہی تھی کہ ایک جن کا وہاں سے گزر ہوا اس نے جو اتنی خوبصورت شہزادی دیکھی تو وہ اس پر ، فریفتہ ہو گیا۔ یہ فریفتہ کیا ہوتا ہے ؟؟ سدرہ نے اچانک سوال کیا ۔۔۔۔ ہمیں بچوں سے اس قسم کے سوال کی توقع نہیں تھی ہم مشکل میں پڑ گئے۔ آہا ۔۔ اردو ادب میں ہمیں لفظوں کی ترکیب کرنا سکھائی جاتی تھی وہ ہی ہم نے ِ فورا استعمال کر ڈالی ۔۔''فریفتہ ،،، فریفتہ ،،، اچھا دیکھو ۔! اس لفظ کے حصّے کر لو ،، فری انگلش کا لفظ ہے ،، ۔۔ جس کا مطلب ہے مفت کا ،، اور۔۔ فتہ ۔۔ فتہ ۔۔۔ یہ ہے فتنہ کا مخفف ۔۔ تو فریفتہ کا مطلب ہوا ۔۔۔ مفت کا فتنہ ۔۔۔۔۔ '' کیوں بچوں کی اردو اور انگلش دونوں خراب کر رہی ہو؟'' ایک کھلکھلاتی ہوئی آواز سنائی دی ۔۔۔ ہائیں ۔۔۔ کیا ہم نے دروازہ کھلا چھوڑ دیا تھا۔

یہ ہم نے کیا کیا ۔۔اور پھر وہ ہی ہواجس کا خطرہ تھا ۔۔ ہمارے سارے شیطان کزنز آچکے تھے اور ان کی تیز نظروں سے کچھ بھی پوشیدہ نہ رہ سکتا تھا ۔۔۔۔ ''اچھّا جی کہانی سنائی جا رہی ہے '' خالدہ صاحبہ اٹھلاتی ہوئی ہمارے پاس بیٹھ گئیں۔۔۔'' چلو ہٹو ۔۔۔ ہم بچوں کو کہانی سنا رہے ہیں '' ہم گھبرائے ۔۔ '' تو ہم بھی سن رہے ہیں نہ کہانی '' وہ اور قریب ہو گئی ۔۔ پہلے کہنی ماری پھر شٹل کاک برقعے کا کنارہ اٹھا کر بڑا لمبا تاااااااا کیا اور اچانک ہمارا چشمہ بھی کھینچ لیا ۔۔۔شازیہ بی بی بھی اتنی دیر میں اپنی کارروائی کر چکی تھیں ۔ یعنی انہوں نے اپنے بالوں سے بالپن نکالی اور کمال مہارت سے ہمارا شٹل کاک بر قعہ بالپن پر اٹھا لیا ۔ہم نے چیخ ماری اور چھلانگ لگا کر شازیہ کے سر پر ایک دھپ جڑ دی ۔ '' ہائے میرا دماغ توڑ دیا ۔ پتہ نہیں ہے تجھے ۔۔۔ دماغ کتنی چیز ہوتا ہے ؟؟ ۔۔ شازیہ چیخی ۔۔۔۔ '' ابے دماغ ہوگا تو قیمتی ہو گا نہ ۔۔۔۔ ۔ ہم کون سا پیچھے رہنے والے تھے ۔۔۔ ''یہ کیا دھما چوکڑی مچی ہوئی ہے۔ '' امّی ۔خالہ۔ امّاں سب نازل ہو چکے تھے۔ ہونا کیا ہے ؟؟ خالدہ صاحبہ معنی خیز انداز میں مسکرائیں۔۔۔سولہ ساون پورے ہوئے نہیں ۔۔ اور بھرے باغ کے ارمان دل میں مچل رہے ہیں ۔۔۔ ہم نے اتنی زیادہ آنکھیں باہر نکال کر خالدہ کو دیکھا جتنی زیادہ ہم آنکھیں نکال سکتے تھے ۔ یہ اسے ڈرانے کی ایک بھر پور کوشش تھی مگر ہماری خالہ نے سارا مزا کرکرا کر دیا ۔۔ بولیں ۔۔ اے ثریا یہ آنکھیں اندر کر لے ،، باہر آپڑیں گی ۔ ہم نے فورا پلکیں جھپکیں ۔۔ مگر یہ بچے ۔۔۔ ارے بچے ۔۔۔ ہم نے بچوں کی طرف دیکھا جو ہنستے ہی چلے جا رہے تھے ۔۔۔۔ ''آپ تو ثریا باجی ہیں مگر آپ تو بالکل بھی پہچانی نہیں جا رہی تھیں '' ۔۔۔۔ ۔۔ بچوں کا کیا قصور ہے ؟؟ کچھ لوگوں پر مستقبل حال سے زیادہ سوار ہو جاتا ہے ۔۔۔ صبا صاحبہ نے فلسفیانہ انداز میں فرمایا ۔۔'' یہ مت کہنا اتنے اچھے تاثرات دیئے اتنی اچھی ایکٹنگ کی '' ہم روٹھنے کے موڈ میں تھے کہ امّی نے ڈانٹ دیا ۔۔۔ '' کوئی کیوں کہے ؟؟۔۔ کیا تو نے اداکارہ بننا ہے ۔'' اور ہم خاموشی سے کان لپیٹ کر باہر نکل آئے۔ مگر وہ دن اور آج کا دن ،، خاندان میں کہیں بھی جائیں تو بچے گنگناتے پھرتے ہیں ۔۔۔۔ دادی امّاں ، دادی امّاں سیر کو جائیں ۔۔۔ وہاں سے جان بچا کر نکلیں تو دوسرے بچے ہمارے سامنے ٹھمک ٹھمک کر کہتے ہیں ۔۔ دادی امّاں ۔۔ آج کہانی نہیں سنائیں گی ،، اور ہم یوں کان لپیٹ کر گزر جاتے ہیں جیسے کچھ سنا ہی نہیں۔

ثریا بابر