اشاعت کے باوقار 30 سال

انوکھا پیغام

میری بیگم صاحبہ بڑی معصوم سی ہیں۔ انداز سخن ایسا بے ساختہ ہے کہ بات کانوں کو چھیدتی ہوئی دل چیر کر جگر پارہ پارہ کر دے۔ کبھی کبھی ایسی بات بھی کر جاتی ہیں کہ بندہ وسوسوں میں گھر جائے، کمزور دل کا ہو تو ہارٹ اٹیک ہو جائے۔ وجہ پوچھی جائے تو ایسی معصومانہ نکلتی ہے کہ بندہ سر پیٹنے کے علاوہ کچھ نہ کر سکے۔ موبائل فون نے پاکستانی معاشرے میں وبا کی صورت اختیار کر لی ہے۔ بیگم صاحبہ بھی مچل گئیں، موبائل فون چاہیے، میں نے دلا دیا۔ بیگم صاحبہ نے بڑی تیزی سے سیل فون چلانا سیکھ لیا۔ میسج پیکج کروا کر نہ جانے کس کس سے رابطے کر لیے۔ فائدہ تو خیر مجھے بھی بہت ہوا۔ گھر کے بارے میں پل پل کی خبر نہایت تفصیل سے ملنے لگی مثلا، چائے کی پتی ختم ہو گئی ہے ۔دکان کے پاس والی دکان سے ضرور لے آئیے گا۔ یہاں محلے کی دکان سے تو دو روپے مہنگی ملے گی۔ ہمارے بچے چیز ہی کھا لیں گے۔چائے کی پتی ضرور لانی ہے۔

بیگم صاحبہ کے ایسے میسجز میں صرف آخری جملہ ہی کام کا ہوتا۔ یا میسج آتا، آج میرا سالن بنانے کا ارادے نہیں ہے، انڈے بھونو ںگی اگر آپ متفق ہیں تو مس کال دیں اگر متفق نہیں ہیں تو مس کال نہ دیں، میں پانچ منٹ تک انتظار کروں گی، میں صابر شاکر آدمی ہوں۔ میسج پڑھنے کے دوسرے سیکنڈ میں مس کال دے دیتا۔ مگر اس دن کے میسج نے مجھے پریشان کر دیا۔ میں رزق حلال کی تلاش میں صبح دکان کے لیے روانہ ہوا ۔کوئی ساڑھے بارہ بجے بیگم کا میسج آیا۔ رات کو جو کارروائی ہوئی تھی اس کے سارے نشانات میں نے مٹا دیئے ہیں ۔بیڈ پر ٹیلکم پائوڈر بھی چھڑک دیا ہے، اب تو کسی کو پتہ تک نہیں چلے گا۔
میری تو سانس رک گئی ۔اللہ جانے کون سی رات کی بات کر رہی ہیں ؟؟ کل رات بھر میں بھی تو گھر میں ہی تھا۔ چلو کل رات لائٹ جانے کی وجہ سے ہم ڈرائنگ روم میں سو گئے تھے۔ بیڈ روم خالی تھا تو بیگم صاحبہ کون سے بیڈ اور ۔۔۔۔۔ پھر ٹیلکم پائوڈر کی بات کر رہی ہیں ۔۔مگر بیگم صاحبہ بھی تو ڈرائنگ روم میں ہی خراٹے لے رہی تھیں۔ پھر اس میسج کا کیا مطلب ؟؟ کہیں کسی اور کا میسج مجھے تو نہیں بھیج دیا ؟؟
میرے کانوں سے سوچ سوچ کر دھواں نکلنے لگا۔ عورت ذات ہوتی ہی بے وفا ہے۔ لوگوں سے سنے ہوئے بیویوں کی بے وفائیوں کے قصے یاد آنے لگے اور میرا خون کھولنے لگا۔

ہر مخلص آدمی اس صورت حال میں یہ ہی مشورہ دے گا، بھائی اتنے کیوں پریشان ہو رہے ہو گھر پر فون کر لو پتہ چل ہی جائے گا۔ اس لیے میں نے بھی تھوڑی دیر بعد خود پر قابو پا کر بیگم صاحبہ کے نمبر پر فون کر لیا۔ بیل جاتی رہی مگر فون کسی نے نہیں اٹھایا۔ دل پر وسوسوں کی بارش اور تیز ہو گئی۔ میں مسلسل کال کرتا رہا اور وہاں مسلسل بے نیازی رہی۔ دل تو چاہا کہ کرائے کی سائیکل اٹھائوں اور اچانک گھر جا کر چھاپہ ماروں ۔۔۔۔۔ مگر گھر سے دکان کا فاصلہ کافی ہے۔ پھر گاہک آ گئے اور میں مصروف ہو گیا ۔ شام کو تو گھر جانا ہی تھا مگر ہلکی ہلکی چبھن ہوتی رہی۔

شام ساڑھے آٹھ بجے میں گھر پہنچ گیا ۔بیگم صاحبہ نے مسکراتے ہوئے استقبال کیا اور پانچ منٹ میں کھانا لگا دیا۔ کھانا کھاتے ہوئے میں ان کے سانولے سلونے چہرے کو غور سے دیکھتا رہا۔ شاید کوئی بات معمول سے ہٹ کر ہوئی ہو تو انداز واطوار میں کوئی تبدیلی نظر آئے مگر وہ تو بے طرح شرما گئیں۔ ہائے اللہ آج کیا ہوا ؟ آپ اس طرح سے کیوں دیکھ رہے ہیں ؟ میں نے کھانا ختم کیا اور پوچھا ،، بیگم صاحبہ میں آپ کو فون کر رہا تھا آپ نے فون کیوں نہیں اٹھایا، فون پتہ نہیں کہاں ہے ؟ دوپہر کو سونے سے پہلے سائلنٹ پر لگایا تھا پھر پتہ نہیں کہاں رکھ دیا۔ گھر میں ہی ہو گا۔

دماغ تو ٹھیک ہے آپ کا ؟؟ مجھے بے تحاشا غصہ آنے لگا۔ اتنا مہنگا موبائل ۔۔۔ سنبھال کر نہیں رکھ سکتیں آپ۔ آج تو ماسی بھی نہیں آئی۔ سارا کام میں نے خود کیا ہے۔ گھر میں ہی ہو گا کہاں جائے گا ؟ بیگم صاحبہ کی دلیلیں تیار تھیں۔ میں مس کال دے رہا ہوں دیکھیں فون کہاں ہے ؟ میں نے اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے مس کال دی۔اسی وقت چھوٹے بیٹے نے سامنے رکھا فریج کھول دیا۔میری نظر پڑی۔ موبائل فریج کے دروازے میں جل بجھ رہا تھا۔ میں نے بیگم کو اشارے سے بتایا ۔وہ فون لے کر آئیں ،دیکھا تو میری پچیس مس کالز تھیں۔ بیگم صاحبہ بری طرح پریشان ہو گئیں۔ خیریت تو تھی آپ کیوں فون کر رہے تھے ؟؟
میں نے اپنا موبائل فون نکالا ۔ساڑھے بارہ بجے والا میسج انھیں دکھایا اور سختی سے پوچھا ، یہ میسج آپ نے کس کو کیاتھا اور کیوں کیا تھا؟؟
،خود بھی بھول جاتے ہیں ۔۔۔ بیگم صاحبہ ایک دم چمک کر بولیں ۔ رات کو بلی نے بیڈ پر کارروائی کر دی تھی ۔آپ نے صبح فجر میں مجھے اٹھا کر کہا تھا کہ صفائی کر دیں ۔ میں نے کہا تھا صبح سویرے دھو دوں گی ۔صبح دس بجے ہی دھو دیا تھا مگر پھر خیال آیا کہ آپ سوچیں گے صفائی ہوئی یا نہیں ؟ اس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بیگم صا حبہ کو تو تفصیل میں جانے کی عادت ہے اور وہ کسی بھی ۔۔ تفصیل۔۔۔ میں جا سکتی ہیں آخر وہ میری پیاری بیگم صاحبہ ہیںمگر میں نے سکھ کا سانس لیا۔

ثریا بابر