اشاعت کے باوقار 30 سال

محبت آخر شے ہے کیا ؟

جیازبیری

محبت آخرش ہے کیا....یہ کیوں انسان کو اتنا بے بس اور مجبور کر دیتی ہے جسے دیکھوں محبت کا راگ الاپ رہا ہے جس محبت کے لیے اپنی راتیں برباد کرتے ہیں یہ محبت کرنے والے رات رات بھر جاگ کر روتے ہو رب کے حضور ملن کی دعائیں مانگتے ہو۔ کیا وہ اس محبت سے بڑھ کر ہے جو ہمارا رب ہم سے کرتا ہے، اگر راتوں کو جاگ کر رونے سے دعائیں کرنے سے ایک فانی انسان کی محبت مِل سکتی ہے تو اس خدائے بزرگر و برتر کی کیوں نہیں.....میں محبت کرنے والوں سے پوچھتی ہوں کہ کیا وہ کبھی اس رب کی محبت کے لیے گڑ گڑائے، کیا ہم اپنے رب کی محبت کا قرض ادا کر سکتے ہیں؟ جو ستر ماں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے ہم سے۔۔۔چلو اِس بات کو چھوڑتے ہیں کیوں کہ فانی انسان سے محبت عشقِ حقیقی کی پہلی سیڑھی ہے جسے عشقِ حقیقی کہتے ہیں اگر ایسی محبت کریں تو "ولی" ٹھہریں۔۔۔سرورِکائنات محبوبِ خدا ہمارے پیارے نبی پاک ۖاپنی امت کے لیے راتوں کو اپنے رب کے حضور رو رو کر مغفرت اور بخشش کی دعائیں مانگا کرتے تھے کیا ہم ان کی آنکھ سے گِرے ہوئے ایک آنسو کا قرض ادا کر سکتے ہیں سچ تو یہ ہے کہ ہم اللہ اور اس کے نبی کی محبت کا قرض نہیں چکا سکتےََََ۔۔۔انسان ازل سے نا شکرا ہے اتنی محبتیں ہونے کے باوجود وہ ایک محبت کے لیے سب چھوڑنے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ انسان اپنے لیے دکھ کے بیج خود بوتا ہے۔ پھر قسمت کو کوستا ہے جب کے انسان اپنی قسمت خود بناتا ہے اللہ پاک صرف جزا و سزا کا فیصلہ کرتا ہے۔۔۔۔آج ہم اسلام سے اپنے اللہ سے دور ہیں اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت سے دور ہیں اللہ پاک ہم سب کو سیدھے رستے پہ چلنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین۔