اشاعت کے باوقار 30 سال

لہسن

ثریا بابر میر پور خاص

ہمارے پاس تو روز روز اتنے پیسے نہیں آ رہے کہ اتنا اتنا لہسن منگوا کر رکھ لیں۔ ہماری بہو کو تو رتی برابر تمیز نہیں۔ لے۔ بھر بھر کے لہسن ڈال دے سالن میں۔ اللہ جانے اماں نے یہ ہی سکھا کر سسرال بھیجا ہے کیا ؟؟؟؟ اور کچھ کرنا نہ کرنا لہسن کا خرچہ بڑھا دینا۔

ساس اماں نے شام کی چائے پی کر پان منہ میں رکھتے ہوئے کہا۔
ائے ہئے تو کیا ہو گیا؟؟ لہسن کون سا مہنگا ہے، بیس روپے پائو تو ہے۔ بی پڑوسن بولی۔
ائے بہن ایک کمائی ہے۔ روز کے روز کی آمدنی ہے۔ میرا فرمانبردار بیٹا صبح کو جائے، دیہاڑی کما کر شام کو لائے۔ مہینے کی آمدنی ہو تو بندہ پیاز، لہسن، ادرک، سب مہینے کی بھر لے اور ہماری کون سی مربعوں کے حساب سے زمینیں رکھی ہیں کہ لہسن کی فصل اگا لیں اور کلو کلو لہسن گھر میں بھر لیں۔ ساس صاحبہ کے لہجے میں ناراضگی تھی۔
تم تو ایسے کہہ رہی ہو، جبسے تمہارا بیٹا جس دن ایک کلو لہسن بھی لے آیا تو تم اس پر زن مرید ہونے کا ٹھپہ لگا دو گی، پڑوسن ہاتھ نچا کر بولی۔
اوں ہوں۔۔ ساس صاحبہ زور سے نفی میں سر ہلا کر بولیں۔ میرا بیٹا زن مرید ہو ہی نہیں سکتا۔ میرا بہت خیال کرتا ہے۔ ارے چھ سال ہو گئے، اس کے باوا کے انتقال کو، کبھی مجھے خرچے کی پریشانی نہیں ہونے دی۔

بہو آ کر چائے کے بر تن لے گئی اس نے بھی سب کچھ سنا تھا مگر کچھ نہ بولی۔ پڑوسن نے نظر بھر کر سترہ سالہ بہو کو دیکھا اور بولی، بڑی خوش قسمت ہو۔ اتنی خویصورت کم عمر بہو ملی ہے تمہاری اتنی خدمت کرتی ہے، گھر کے سارے کام کرتی ہے، ایک لہسن کا خرچہ بڑھ گیا تو کیا ہوا؟؟ میں تو ترس رہی ہوں ایسی بہو کے لیے۔

ارے ہاں وہ تمہارا بیٹا کسی لڑکی سے شادی کرنے کا کہہ رہا تھا۔ ساس صاحبہ کو اچانک کچھ یاد آ گیا، تو ؟؟ کیا سوچا تم نے۔ کیا بتائوں؟؟ بڑی ہی اچھال چھکا لڑکی ہے۔ پڑوسن منہ بنا کر بولی۔ میرے بیٹے کو قابو کر لیا ہے اس نے، تینوں بیٹوں میں سے سب سے زیادہ گھر میں خرچہ ثاقب ہی دیتا تھا مگر اب تو ہمارے لیے کچھ نہیں ہے اس کے پاس۔ ابھی سے لوٹ رہی ہے ابھی سے، پڑوسن کے لہجے میں دل کی جلن بول رہی تھی۔ کل کو گھر میں آ کر بیٹھے گی تو کیا گل کھلائے گی یہ، مصیبت ہے مصیبت، اب کیا بتائوں جو میرے دل پر گزر رہی ہے میں ہی جانتی ہوں۔ بی پڑوسن رونے کو تھی۔

ساس صاحبہ نے پان کی پیک ایک طرف تھوکی اور زور سے بہو کو آواز دے کر بولیں، اے۔۔ بہو یہ صاف کر۔ پھر پڑوسن کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا۔ ائے بہن میں بھی ہول ہول کر پریشان ہوں، کل کو بہو گھر قابو کر لے گی تو میرا کیا ہو گا ؟؟

تم تو بس رہنے ہی دو، حد ہوتی ہے کسی بات کی۔۔ پڑوسن نے پیک صاف کرتی بہو کو حسرت سے دیکھتے ہوئے کہا، ہائے میرے اللہ، اتنی گرمی اور ریشمی کپڑے ؟؟؟؟ پڑوسن کی حسرت ترس میں بدل گئی۔ اپنے اتنے سوٹ بنائے تھے لان کے، تو ایک آدھ بہو کے لیے بھی لے لیتیں۔ تمہاری اتنی خدمت بھی تو کرتی ہے۔

تو کون سا احسان کر رہی ہے ؟؟ کھانے کو نہ دے رہے کیا ہم۔۔ ساس صاحبہ ایک دم بگڑ کر بولیں۔ اماں ابا نے لان کے دو ہی سوٹ رکھے جہیز میں۔ میلے پڑے ہیں۔ کمبخت ماری کے اتنے بھی ہاتھ نہ چلیں کہ ساتھ کے ساتھ دھو کر ڈال دے۔ جہیز میں تو لوگ اتنا اتنا دیتے ہیں۔ ساس صاحبہ کا پارہ ہائی ہو گیا تھا۔

آپا خدا کا شکر ادا کرو۔ پڑوسن بھی تیزی سے بولی۔ میرے ثاقب کی تو ابھی تک شادی بھی نہ ہوئی اور اس حرافہ نے ابھی سے میرے بیٹے کی کمائی پر قبضہ کر لیا۔ ثاقب کے ابا آج زندہ ہوتے تو کسی کی ایسی مجال ہوتی۔ ارے یہ لڑکی تو جوتوں سمیت آنکھوں میں گھسی چلی آ رہی ہے۔ ہائے اللہ میں کیا کروں ؟؟ بی پڑوسن نے چہکوں پہکوں رونا شروع کر دیا۔

ساس صاحبہ بھی میاں کے راج کو یاد کر کے بھوں بھوں رونے لگیں۔ چھ مہینے کی بیاہتا دلہن گھر کے کام کاج میں مصروف، دونوں کو حیرت سے دیکھتی رہی۔ سب کچھ پلنگ پر بیٹھے بیٹھائے مل رہا ہے، جب مظلومیت کا اتنا پرچار ؟؟؟

روتے دھوتے رات ہو گئی۔ بیل بجی، بیٹا گھر میں داخل ہوا۔ اس نے جو یہ ہائے ویلا دیکھی، آرام سے بی پڑوسن کی خیریت دریافت کی۔ انہیں چپ کرا کر ان کے اپنے گھر بھیجا۔ پھر ماں کو تسلی دلاسے دینے میں مصروف ہو گیا۔ بہو آئی اور بولی کچھ چیزیں ختم ہو گئی ہیں۔

چین سے نہ بیٹھنے دے گی میرے بیٹے کو ؟؟ ساس صاحبہ چلا کر بولیں۔ نہ پانی کا پوچھا نہ کھانے کا۔ یہ ختم ہو گیا وہ ختم ہو گیا۔
سیدھی سادی بہو سہم کر چپ ہو گئی۔ میاں کو کھانا لا کر دیا۔ فرمانبردار بیٹے نے ماں کے پاس بیٹھ کر کھانا کھایا۔ ماں نے کجھ بہو کی شکایتیں لگائیں۔ کچھ خاندان والوں کی، کچھ محلے والوں کی۔۔ بیٹا ہائی بلڈ پریشر کی مریض بیوہ ماں کو نرمی سے سمجھاتا رہا، تسلی دلاسے دیتا رہا، بہو کچھ دیر تو بیٹھی ان کی باتیں سنتی رہی مگر اسے تھکن بہت ہو گئی تھی وہ جا کر سو گئی۔۔۔۔۔۔
فرمانبردار بیٹا رات بارہ بجے کمرے میں داخل ہوا۔ اس کی بیوی گہری نیند سو رہی تھی مگر اس عمر میں کہاں صبر آتا ہے۔ بیوی کو جگا دیا۔ بات کرنا شروع کی۔ بیوی کو تھوڑا ہوش آیا۔ آنکھیں کھلیں۔ ابھی بات آدھے میں پہنچی تھی کہ بیوی کو اچانک کچھ یاد آ گیا، ایک دم سے بولی۔۔۔۔۔۔ لہسن ختم ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔
فرمانبردار بیٹا دانت پیس کر رہ گیا۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن شام کو بیل بجی۔ بیٹا گھر میں داخل ہوا۔ اس کے ہاتھ میں کالے رنگ کے دو شاپر تھے۔ پلنگ پر بیٹھی ساس صاحبہ نے آواز دی اور جھپٹ کر دونوں شاپر قابو کر لیے۔ کھول کر دیکھا تو دونوں لہسن سے بھرے ہوئے تھے۔ فرمانبردار بیٹا پورے دو کلو لہسن لے آیا تھا۔