اشاعت کے باوقار 30 سال

ایک ماں کے نام کھلا خط

ایک ماں کے نام کھلا خط
ثریا بابر
مقام نامعلوم
تاریخ ،جب دل پر چوٹ پڑے۔ السلام و علیکم!
آپ کو اس دنیا سے گئے بارہ سال ہونے کو آئے اور مجھے آپ کے سب سے بڑے بیٹے کے گھر میں آئے تیئس سال ہونے والے ہیں۔ گیارہ سال میرا آپ کا ساتھ رہا۔ مائوں کا عالمی دن منایا گیا تو میرا دل چاہا کہ میں آپ سے کچھ بات کر لوں۔
مجھے معلوم ہے کہ آپ کا بیٹا بہت اچھا اور فرمانبردار ہے ۔ یہ بہت اچھی بات ہے اور رہے گی کیونکہ میرے بھی بھائی ہیں اگر وہ میری بھابی کے کہنے میں آکر میری ماں کے ساتھ برا سلوک کریں تو مجھے بالکل اچھا نہیں لگے گا۔ اسی طرح اگر آپ کا بیٹا آپ کے ساتھ اچھا سلوک کرتا تھا تو مجھے اچھا ہی لگتا تھا اس لیے کہ آپ کے بیٹے کے نطفے سے ہی میں نے آپ کے پوتا پوتی پیدا کیے ہیں اور آپ کے بیٹے نے ہی مجھے ماں بننے کا بلند وبالا مرتبہ عطا کیا ہے۔

مگر آج مجھے آپ سے کچھ سوال کرنے ہیں۔ ہر ماں اپنے بچوں کے لیے اور ہر بچہ اپنی ماں کے لیے بہت پیارا ہوتا ہے اس لیے ان سے جڑی چیزیں بھی پیاری ہونی چاہیئں۔ اگر آپ کا بیٹا ٹماٹر شوق سے کھاتا تھا تو آپ اس کے لیے ٹماٹر لے کر رکھتی تھیں اور اگر اسے آم پسند تھے تو آپ آم خریدنے کے لیے اپنی دولت خرچ کرنے کے لیے تیار رہتی تھیں۔ آپ اپنے بیٹے کے کپڑے، جوتے، بیگ، ہر چیز سنبھال کر رکھتی تھیں کیونکہ وہ آپ کے بیٹے کی تھیں۔

میں آپ کے دیور کی بیٹی ہوں۔ وہ دیور جسے آپ بہت خوش اخلاق، شریف اور اچھا انسان سمجھتی تھیں۔ آپ خوبصورت نہیں مگر میری ماں خوبصورت تھی۔ میرا باپ خوبصورت نہیں تھا مگر آپ کا شوہر خوبصورت تھا اللہ تعالی نے مجھ میں میرے باپ کی جھلک ڈالی اور آپ کے بیٹے کو اپنے باپ کا ہم شکل بنا دیا۔ آپ کے شوہر کا سایہ آپ کے سر سے اٹھ گیا آپ بیوہ ہو گئیں آپ نے دنیا میں سب سے زیادہ اپنے آپ کو مظلوم سمجھا باوجود اس کے کہ آپ کا شوہر آپ کو چھ بیٹوں کی دولت دے گیا تھا۔ واقعی دنیا بہت عجیب ہے۔

آپ کے بیٹے نے مجھے دیکھا اور پسند کر لیا۔ میری بڑی بہن کو چھوڑ کر میرا رشتہ مانگا اور میرے باپ نے کر دیا۔ خاندان کے اندر رشتے کرنے سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ بری شکلوں والی لڑکیوں کی بھی شادی ہو جاتی ہے۔ میری ماں نے اعتراض کیا تو میرے باپ نے جواب دیا '' ہاں کرنے کے لیے یہ ہی بات کافی ہے کہ وہ میرے بہترین دوست کا تخم ہے وہ میری بیٹی کو ناخوش نہیں رکھے گا۔!''
آپ کو اپنا بیٹا پیارا تھا میں آپ کے بیٹے کو پیاری تھی پھر آپ مجھ سے پیار کیوں نہیں کر سکیں۔ آپ کے شوہر کا انتقال ہوا تھا یہ میرا قصور نہیں تھا۔ انہیں قضا لے گئی تھی۔ میری بد قسمتی یہ ہوئی کہ میں آپ کی سب سے بڑی بہو بنی۔ آپ سمیت آپ کے گھر کے اکثر لوگوں نے مجھے اس شخصیت کا نعم البدل جانا جس کا سایہ ان کے سروں سے اٹھ گیا تھا۔

میری عمر صرف سولہ سال تھی۔ میری طبیعت میں لاابالی پن ہے میں لاپرواہ بھی بہت ہوں۔ مجھے نت نئے انداز اختیار کر کے مردوں کو رجھانا بھی نہیں آتا۔ میرے باپ نے میری سخت تربیت کی ہم صرف آٹھ بجے کا ڈرامہ دیکھ سکتے تھے ہمیں فلمیں دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ سٹار پلس شروع نہیں ہوا تھا اس لیے میں کسی قسم کی گھریلو سازشوں کو نہ تو سمجھ سکی، نہ کر سکی، نہ بچ سکی ۔ آپ کے ماحول میں بہوئوں نے ساسوں کو تگنی کا ناچ نچا رکھا تھا۔ آپ کی تعلیم پرائمری تک ہے آپ نے سوچا بہو بارہ جماعت پاس ہے بہت چالاک ہو گی اس لیے آپ نے مجھے نیچا دکھانے کی تمام تیاری مکمل کر لی۔ یہ شاید آپ نہیں سوچ پائیں کہ میں تو آپ کے پاس ہارنے کے بعد ہی آ رہی ہوں جب میں نے اپنا مورچہ اپنے ماں باپ کا گھر ہی آپ کے بیٹے کی خاطر چھوڑ دیا تو پھر بھی جنگ کیوں ؟؟؟؟؟؟

آپ نے چنددن اپنے بیٹے کو میری ناز برداری کرتے دیکھا تو آپ کو خدشہ ہوا کہ شاید آپ کا اقتدار خطرے میں ہے چنانچہ آپ نے اپنے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت ڈالنے کی کوشش کی اور یقینا آپ مبارکباد کی مستحق ہبں کہ آپ اس کوشش میں مکمل کامیاب رہیں۔ آپ نے آنسوئوں کا ہتھیار استعمال کیا۔ مجھ سے نہیں کہا گیا کہ جالے صاف کر دو مگر آپ نے اپنے بیٹے سے رو رو کر کہا بہو میری بات نہیں مانتی جالے صاف نہیں کرتی۔ جب آپ کے بیٹے نے خود مجھ سے جالے صاف کرنے کا کہا تو آپ نے مجھے دوسرے اتنے کاموں میں پھنسا دیا کہ میں جالے صاف کرنا بھول گئی۔ آپ خود آکر دیکھ سکتی ہیں گھر میں جالے نہیں لگے ہوئے مگر آپ کے بیٹے کے دل میں جالے آج کے دن تک لگے ہوئے ہیں یقینا یہ آپ کے بہترین انداز تربیت کا کمال ہے۔

انصاف کرنا اللہ کا کام ہے۔ آپ کے بہت سے اچھے کام بھی ہوں گے جو آپ کی بخشش کا سبب بن چکے ہوں گے۔ میں آپ سمیت کسی کو بددعا نہیں دینا چاہتی آپ بیمار ہو گئی تھیں آپ نے خود کو بے بس سمجھ کر اپنے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرتیں ڈالی ہوں گی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ نفرتوں کی تجارت کرنے والے کبھی فائدے میں نہیں رہتے چاہے وہ خود کو کتنا بھی کام یاب کیوں نہ سمجھیں۔ آپ آسودئہ خاک ہیں مگر میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں ابھی زندہ ہوں۔

جب تک آپ زندہ رہیں آپ کا بیٹا آپ کے سامنے میری حمایت لیتا رہا۔ میرے لیے حیرانی کی بات یہ ہے کہ آپ دونوں میرا نام لے کر ایسی شکایتوں پر لڑتے رہے جو میں نے کبھی کہیں درج ہی نہیں کرائیں۔ میرے باپ نے کبھی مجھے بڑوں سے بد تمیزی کی تربیت نہیں دی اس نے مجھے سر جھکانا سکھایا ہے اور یہ ہی میری تربیت کی سب سے بڑی خامی ہے۔ آپ کے بیٹے نے آپ کو خوش کرنے کی بھی بہت کوششیں کی ہیں اس نے آپ کے اور اپنے باقی بھائیوں کے سامنے مجھے بلاوجہ خوب ڈانٹا اور پھر مزے لے لے کر اکیلے میں مجھ سے کہا '' آج تو امی خوش ہو گئی ہوں گی'' میں نے ایسی باتوں پر کبھی کوئی احتجاج نہیں کیا اس لیے کہ اگر ایک ماں کا دل اسی طرح سے خوش ہو سکتا ہے تو ایسے ہی سہی۔ مگر اب آپ کے انتقال کے بعد آپ کا بیٹا مجھ سے شدید نفرت کرنے لگا ہے۔ مائوں کے عالمی دن کے موقع پر اس کی نفرت کا اظہار مزید شدید ہو جاتا ہے ۔ میرے بچے مجھ سے اور اپنے باپ سے بہت محبت کرتے ہیں۔ ایں انہیں سکون اور اطمینان دینا چاہتی ہوں۔ مگر نفرتوں کے شکار لوگ کبھی سکون میں نہیں ہوتے آپ کا بیٹا بھی سکون میں نہیں ہے ۔مائوں کا عالمی دن منایا جا چکا ہے مگر ایک ماں کو اپنے بیٹے سے بات کرنے کے لیے کسی خاص دن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک ماں دوسری ماں کے احساسات سمجھ سکتی ہے۔ آپ براہ مہربانی اپنے بیٹے کے خواب میں آکر اسے کہہ دیں کہ اپنے بچوں کی ماں کے لیے اپنے دل کا دروازہ کھول دے۔ اس نے آپ کی محبت میں اپنے دل پر اتنا بھاری قفل ڈال لیا ہے کہ میری ساری دستکیں ناکام ہیں۔ بات بہت الجھ گئی ہے اور مسئلے کا حل صرف آپ کے پاس ہے۔ اور آپ سے رابطہ کرنے کے لیے سوائے خواب کے کوئی اور ذریعہ ]ڈیوائس[میرے پاس نہیں۔ اللہ ہم سب کو محبتیں بڑھانے اور نفرتوں کو شکست دینے کی توفیق دے آمین۔
اس نیک کام کے لیے میں آپ کی ممنون رہوں گی۔
فقط والسلام
آپ کی معتوب بہو آپ کی اولاد کی اولاد کی ماں