اشاعت کے باوقار 30 سال

مر کے بھی چین نہ پایا

ثریا بابر
یہ واقعہ میری خالہ ساس نے مجھے سنایا تھا ۔ یہ ان ہی کے گائوں کا واقعہ ہے۔ اب تو ان کا انتقال ہوئے بھی پانچ سال ہونے کو آئے۔ مگر آج بھی جب یہ یاد آتا ہے تو میں بے اختیار سوچنے لگتی ہوں ''کیا انسان پتھروں سے زیادہ بے حس ہو سکتا ہے؟'' خالہ نے بتایا ۔
ہمارے گائوں کا عجیب رواج تھا۔ لڑکی پیدا ہوتی تو اس کے ماموں، نانا اس کے لیے چھوچھک لے کر آتے ۔جس میں اس کے کم از کم دو درجن جوڑے، بچھانے کے لیے چھوٹے گدے ، بچی کے اوڑھنے کے لیے دلائی، اور ساس سسر کا جوڑا شامل ہوتا۔ بڑی ہوتی تو ہر عید بقر عید پر نانی کے گھر سے جوڑا آنا لازمی تھا ورنہ بہو کو طعنے ملتے۔ شادی ہوتی تو ماموں بھات چڑھاتا جس میں لڑکی کے سارے خاندان کے جوڑے، میووں کے دو درجن ہار ،دوپٹے ،تولیے شامل ہوتے ۔

ایک دن میں حیرت سے پوچھ بیٹھی ''خالہ کیا وہ صابن بھی لڑکی کے گھر والوں سے منگواتے تھے ؟''
''دولھا کا جو سامان آتا اس میں صابن لازمی تھا، مگر بٹیا تو آگے تو سُن'' خالہ محمو دہ رسان سے بولیں'' لڑکی کی شادی پر بھات کے بعد ماموں کا کھاتا بند اور ماں باپ کا کھاتا کھل جاتا۔ پہلا بچہ میکے میں پیدا ہو گا۔بہو متوقع وقت پیدائش سے پندرہ دن پہلے میکے میں ہونی چاہیے۔ ساتواں مہینہ لگتے ہی گود بھرائی کی رسم ہو گی جس میں ساس نندوں، نندوئی، دیور جیٹھ کے جوڑے ضرور شامل ہونے چاہئیں۔ پہلی عیدی پانچ کلو سویوں کے ساتھ میکے سے آئے گی ساتھ میں ساس سسر کے جوڑے لازمی ہیں مگر اس گائوں میں ایک اور چیز نہایت لازمی تھی... کہ لڑکی مر جائے گی تو اس کا کفن اس کے میکے والے دیں گے۔''
اب میں نے فیصلہ کر لیا کہ خالہ جب تک بات ختم نہ کر لیں میں کچھ نہ بولوں گی۔خالہ نے اپنی بات جاری رکھی۔

''اس دنیا میں آنے میں تو ترتیب ہے ،جانے میں نہیں۔ زچگی کے سوا مہینے بعد ہمارے گائوں کی ایک لڑکی مر گئی۔ نو زائیدہ بچہ بھی دو گھنٹے بعد چل بسا۔ میکے والوں نے گود بھرائی کی رسم میں بہت سا مال دیا تھا۔ پھر نواسا ہونے پر مال لے کر آئے جو لڑکی کی ساس نے قابو کر لیا تھا۔ ماں باپ ابھی اس خرچے سے سنبھل نہ پائے تھے کہ و ہ بد نصیب مر بھی گئی۔ ایک خرچہ اور !لڑکی کا میکہ دوسرے گائوں میں تھا۔ صبح تڑکے گدھا گاڑی میں بیٹھتے تو دوپہر کے کھانے کے وقت تک سسرال پہنچتے۔ میکے والوں کو اطلاع بھجوا دی گئی کہ لڑکی ملک عدم سدھاری مگر دوپہر کے وقت تک کوئی نہ پہنچا۔ ایک دن گزر گیا، دوسرا دن گزر گیا۔ لاش پڑی سڑتی رہی۔ کچھ لوگوں نے دبے دبے انداز میں کہا بھی ''انتظار فضول ہے دفنا دو''مگر شوہر اور لڑکی کی ساس اڑ گئے'' کیسے دفنائی جائے گی ؟میکے سے کفن تو آیا نہیں۔''

کچھ ہمدرد نوجوانوں نے لڑکی کے شوہر اور ساس کو بتائے بغیر تیز رفتار گھوڑوں کا انتظام کیا اور لڑکی کے میکے پہنچے۔ انہیں جا کر صورت حال بتائی ۔لڑکی کے باپ نے ٹوٹے دل کے ساتھ جواب دیا ''بیٹا اب ہمارے پاس اتنے پیسے بھی نہیں کہ گائو ں تک گدھا گاڑی کا کرایہ دے سکیں۔ کفن کے پیسے کہاں سے لائیں؟ شرمندگی کی وجہ سے یہاں منہ چھپائے بیٹھے ہیں۔''
نوجوان درد دل رکھتے تھے ۔وہاں سے ایک مولوی صاحب کے پاس گئے۔ ساری صورت حال بتا کران سے درخواست کی کہ بنت حوا کو پتھروں کے درمیان میںسے نکال کردھرتی ماں کی مہر بان آغوش میں پہنچانے میں مدد کریں۔

مولوی صاحب گائوں پہنچے۔ گائوں کے سر بر آوردہ لوگوں سے بات کی اور ایک وفدبنا کر لڑکی کے شوہر اور ساس کے پاس گئے۔ ان سے لاش کو دفنانے کا کہا ۔مگر ان کی ایک ہی رٹ تھی اور خاص طور پر ساس کی ''میکے سے تو ابھی کفن آیا نہیں۔''
تب مولوی صاحب بگڑ گئے ۔ لڑکے کی ساس سے بولے''او بے غیرت عورت، جس لڑکی نے تیرے بیٹے کے بستر کو سجایا، اپنا کنوار پن کھویا، تیری خدمت کی، تیری اولاد کی خدمت کی، تیری اولاد کی اولاد پیدا کرتے کرتے اپنی جان کھو بیٹھی۔ تو اسے دو گز لٹھا دینے پر آمادہ نہیں؟ اللہ میاں کی قسم، اب اگر تمہارے گائوں میں سے کسی نے کسی لڑکی کے مرنے پر اس کے ماں باپ سے کفن منگایا تو تم سارے گائوں والوں پر ایسا عذاب آئے گاکہ تمہارا نام و نشان مٹ جائے گا۔''
لڑکی کی ساس پر تو کوئی اثر نہیںہوا ۔مگر شوہر کا دل ڈر گیا ۔ اس نے دفنانے کی اجازت دے دی ۔ سب گائوں والوں نے مل ملا کر چندہ کر کے کفن دیااور لڑکی دفنا دی گئی۔

کفن دفن سے فارغ ہو کر گائوں کے لوگوں نے پنچایت بلائی اور مل جل کر جو فیصلہ کیا وہ یہ تھا '' عورت جس مرد کی اور مرد کے پورے خاندان کی خدمت کرتی ہے۔ وہ اتنا حق ضرور رکھتی ہے کہ مرنے کے بعد اسے اس کے سسرال والے اور شوہر کفن دیں۔''
جب میری خالہ ساس یہ قصہ سنا چکیں تو میں نے پوچھا تھا ''کیا اس لڑکی کی ساس زندہ ہے؟''
''نہیں'' خالہ نے ایک جھر جھری لیتے ہوئے کہا ''اسے کچھ دن بعد ایک شیر گائوں میں آکر لے بھاگا۔خدا کا شکر ہے کہ اس کے بعد یہ ظالمانہ رواج ختم ہوگیا۔''
مگر ایک سوال میرے ذہن میںاب بھی ہے۔کیا ہر رواج کو چھوڑنے کے لیے کوئی نہ کوئی بڑا نقصان اٹھانا ضروری ہے؟ کیا ہم عقل سلیم سے کام لیتے ہوئے ا چھے رواج نہیں ڈال سکتے۔؟؟

نوٹ : ادارے کو کسی بھی کالم نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروی نہیں ۔