اشاعت کے باوقار 30 سال

مزاح کبھی دھوکا نہیں دے گا

ثریا بابر

ماشاء اللہ آج، بزم مزاح پاکستان، کا افتتاح ہو رہا ہے۔ ابتلا و مصیبت کے اس دور میں یہ دلوں کو زندہ رکھنے کی ایک خوشگوار کوشش ہے کیونکہ مزاح آپ کو غم کے باوجود مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اقبال عظیم نے کہا تھا
غم غلط کرنا کوئی مشکل نہیں
انتقاماً مسکرانا چاہیے
حاضرین محفل! جب بھی کوئی انسان اس دنیا میں آتا ہے تو لازماً روتا ہے مگر اس کے بعد صرف اس وقت روتا ہے جب اسے کوئی تکلیف ہو۔ ایک چھوٹا بچہ دن میں کم از کم پچاس مرتبہ مسکراتا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ اگر وہ نہیں ہنسے گا تو وہ بڑا نہیں ہو گا۔ اسی طرح وہ شخص بھی بڑا نہیں ہوتا جو اپنے درد وغم چھپا کر مسکرانا نہیں جانتا ۔ وہ شخص بھی بڑائی حاصل نہیں کر سکتا جو زندگی میں آنے والی مشکلات کا ہنس کر مقابلہ نہیں کرتا۔ اور وہ تو بڑا کہلایا ہی نہیں جا سکتا جو ہر وقت اپنے مسائل اور مصائب کا رونا روتا رہے۔ بزم مزاح پاکستان کی اس تقریب میں ما شا اللہ بڑے بڑے لوگ موجود ہیںجو مخلوق خدا کو قہقہوں اور مسکراہٹوں کی سو غاتیں بانٹنے کا عزم رکھتے ہیں۔ یہ سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ زندگی میں مزاح اتنا ہی ضروری ہے جتنا بھوکے کے لیے کھانا ، ذیابیطس کے مریض کے لیے انسولین، سر درد کے لیے ڈسپرین اور پاکستانی فیلڈرز کے لیے کیچ ڈراپ کرنا!

حاضرین کرام! مزاح یا ظرافت بڑی سنجیدہ چیز ہے۔ سید مشکور حسین یاد کے الفاظ میں'' انسان حیوان ظریف ہے۔ ''انسانیت کے ساتھ ساتھ حیوانیت کو سنبھالنا خاصا مشکل کام ہے۔ اگر یہ کام کر لیا جائے تو ظرافت پیدا ہوتی ہے۔ یہ ظرافت ہی ہے جو حیوانیت کو شرم و حیا کے ساتھ بننا سنورنا سکھاتی ہے اور انسانیت کو رنگ و تازگی سے گلزار بناتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ جس طرح ظرافت سے حیوانیت میںشرافت کے سوتے پھوٹتے ہیں اسی طرح ظرافت سے انسانیت میں اعلی اقدار کے چشمے نکلتے ہیں۔ اکبر الہٰ آبادی نے غلط نہیں کہا تھا۔ جانور کو ہنسی نہیں آتی۔

نِطشے کے مطابق ،صرف انسان ہی کیوں ہنستا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ صرف انسان ہی اتنے شدید مصائب جھیلتا ہے کہ اسے ہنسی ایجاد کرنی پڑی۔ یقین جانئے آپ اس لیے ہنسنا نہیں چھوڑ دیتے کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں بلکہ اس لیے بوڑھے ہو جاتے ہیں کہ ہنسنا چھوڑ دیتے ہیں۔ مشتاق احمد یوسفی کہتے ہیں کہ حس مزاح ہی در اصل انسان کی چھٹی حس ہے اگر یہ موجود ہو تو انسان ہر مشکل مقام سے بآسانی گزر جاتا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ '' میرا یہ دعویٰ نہیں کہ ہنسنے سے سفیدبال کالے ہو جاتے ہیں ہاں، اتنا ضرور ہے کہ پھر وہ اتنے برے معلوم نہیں ہوتے۔''

مزاح نگار شدید المناک صورت حال میں بھی شگفتگی پیدا کر دیتا ہے۔ غالب کے دور میں دلّی میں وبا آئی۔ سینکڑوں لوگ اس میں جاں بحق ہو گئے لیکن مرزا نے اپنے ایک دوست کو لکھا ''میں کوئی ایسا گیا گزرا انسان نہیں تھا کہ عام وبا میں مر جاتا۔''
سامعین کرام! ہمارے ایک سابق وزیر خزانہ جناب سر تاج عزیز نے ایک بارکہا تھا کہ طنز و مزاح تخلیق کرنے والے ملکوں میں امریکہ پہلے نمبر پر ہے اور پاکستان چالیسویں نمبر پر۔ لیکن اس سے ہر گز یہ لازم نہیں آتا کہ ہم طنز و مزاح کا چالیسواں کر چکے ہیں۔ طنز و مزاح کے میدان میں نئے نئے پودے لگ رہے ہیں اور تازہ گلاب کھل رہے ہیں ۔ مجھے امید ہے کہ ''بزم مزاح پاکستان'' بھی ایسا ہی خوش مزاج اور پر مزاح گلدستہ ثابت ہوگی۔ میں آپ کو پورے وثوق کے ساتھ یقین دلاتی ہوں کہ، سرفراز دھوکا دے سکتاہے ... مزاح کبھی دھوکا نہیں دے گا!

نوٹ : ادارے کو کسی بھی کالم نگار کی رائے سے متفق ہوناضروی نہیں ۔