اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

شریف مرد

ثریا بابر
وہ میرا دوست تھا، بہت قریبی دوست،ساتھ پلے بڑھے، ساتھ کھیلے، معاشی جدوجہد میں بھی ہم رکاب، میں اپنے گھر میں سب سے چھوٹا وہ بھی اپنے گھر میں سب سے چھوٹا۔ وہ لڑکیوں کا دیوانہ تھا اور میں اپنے گھریلو حالات کی وجہ سے حساب کتاب میں کھویا رہنے والا ایک شخص۔ اس نے ایک لڑکی سے مراسم بڑھانے کی کوشش کی، مگر وہ جو کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے، اس کے سخت گیر باپ کو پتہ چل گیا، اس نے وہ پٹائی کی کہ توبہ توبہ کرا دی۔ اور دل کے ارمان دبا کروہ بے چارہ پڑھائی میں مصروف ہوگیا۔

مجھے تلاش معاش اور پڑھائی ساتھ چلانے کے لیے لاہور جانا پڑا۔ اس کی تعلیم بہاولپور میں ہی جاری رہی۔ انجینئر بنتے ہی جاب بھی مل گئی۔ ماں نے تو اس کی ملازمت ہوتے ہی شادی کا شور مچا دیا۔ خاندان کی ایک اچھی لڑکی سے اس کی شادی بھی ہو گئی۔ مجھے خوشی ہوئی کہ اس کی بے قراریوں کے دن ختم ہوئے۔ اللہ نے اولاد بھی جلدی دے دی۔ میں مطمئن تھا کہ اب تو یہ سکون سے بیٹھے گا مگر فطرت کہاں بدلتی ہے۔ میرا بہاولپور آنا ہوتا تو وہ مجھے بس سٹاپ پر ضرور لینے آتا۔ سٹاپ پر لڑکیوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں عجیب سی چمک پیدا ہو جاتی تھی۔ جب تک ممکن ہوتا وہ دیدار میں مصروف رہتا۔ مجھے اس کی یہ حرکتیں کبھی تو بہت ہی بری لگتیں کیونکہ میں بنیادی طور پر ایک باوفا شخص تھا اور محبت میں توحید کا قائل تھا۔

وہ ایک کثیر القومی کمپنی کے ساتھ امریکہ چلا گیا۔ اور وہ بھی بیوی بچوں کے ساتھ۔ میری اس سے انٹرنیٹ پر بات ہوئی تو میں نے اسے چھیڑنے کے لیے کہا، تجھ جیسے لوگوں کے لیے امریکہ ہی بہتر ہے تیری تو موج ہو گئی۔
یار اپنی تو قسمت ہی خراب ہے، اس کی آواز میں شکوے ہی شکوے تھے۔ ایک تو کام اتنا لیتے ہیں کہ بندہ کسی کو دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہتا دوسرے ریٹ بہت ہائی ہیں تیسرے ایڈز کی تلوار سر پہ لٹک رہی ہے۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اب میں اپنی زندگی ہارنے کی غلطی تو نہیں کر سکتا نہ۔
میں نے دل ہی دل میں اسے دو باتوں پر شاباش دی۔ ریٹ، خطروں کے باوجود معلوم کر لیے اور وہ، افسوس سے احتیاط بہتر ہے، کی پالیسی پر چل رہا تھا۔ بہر حال میں اس کا مخلص دوست تھا۔ تو اب کیا کرنے کا ارادہ ہے تیرا، میں نے پوچھا۔
جب بھی موقع ملا دو یا تین شادیاں کروں گا۔ اس کا ارادہ پکا لگ رہا تھا۔ میرا ذہن اس کی بیوی کی طرف چلا گیا۔ خوبصورت، سلیقہ شعار، خوش مزاج، کچھ لوگ نہ جانے کیوں کفران نعمت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔
میں اس کی آواز سے چونکا، وہ پوچھ رہا تھا، تیری شادی ہو گئی۔
کہاں یار، پیسے تو پورے ہوں ولیمے کے لیے، وہی پرانی مجبوری۔
گھر والوں کو بہر حال میری شادی کی فکر تھی۔ شادی ہو گئی۔ میرا خیال تھا کہ اب زندگی میں کچھ سکون آئے گا۔ مگر اس لڑکی نے تو زندگی عذاب بنا دی۔ دعوی کیا کہ میں بہت اچھا گھر چلاتی ہوں۔ میں نے تنخواہ ہاتھ پر رکھ دی۔ محترمہ آدھی تنخواہ ماں کو دے آئیں۔ آدھی کے برتن لے آئیں۔ مہینہ میں نے قرضے پر گزارا۔
بات یہیں تک رہتی تو میں برداشت کرتا۔ مرد اولاد کے لیے شادی کرتا ہے اور محترمہ کو بچے ہی پسند نہ تھے۔ دو مرتبہ خوشی کی امید بھی ہوئی۔ مگر، خوشی مکمل ہونے سے پہلے ہی نامکمل ہو گئی۔ میں محترمہ کے علاج کی بھی ہر ممکن کوشش کرتا رہا۔ اور شاید ان ہی کوششوں کی وجہ سے محترمہ کا دماغ آسمان پر جا پہنچا ۔وہ مجھے ہی مورد الزام ٹہرا کر طلاق کا مطالبہ کرنے لگیں۔ زبان کی لمبائی اور زبان سے بھی لمبی فضولیات تو ان کی زندگی میں شاید سانس کی طرح شامل ہو چکی تھیں۔
طلاق کے مطالبے ایک مرد کب تک سنتا۔ میں نے طلاق دے دی۔

محترمہ کو شاید اب صورت حال کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ انہوں نے والدین کے گھر جانے سے انکار کر دیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی۔ مگر میں اپنے ارادے میں پختہ ہو چکا تھا۔ میں اسی وقت بہاولپور روانہ ہو گیا۔
والد صاحب کا تو انتقال ہو چکا تھا۔ میں نے ساری صورت حال بڑے بھائی اور امی کو بتائی۔ محترمہ کی حرکتوں کی وجہ سے سب ہی نالاں تھے۔ میں نے طلاق کے کاغذات بھی بھجوا دئیے تاکہ حجت تمام ہو جائے
بڑے بھائی کے گھر سب بہن بھائی جمع ہو گئے۔ سب ہی ما شا اللہ شادی شدہ تھے۔ میری دوسری شادی کے تذکرے ہونے لگے۔
اتفاق سے وہ بھی آ گیا۔ اس کی کمپنی کسی ٹرپ پر پاکستان آئی ہوئی تھی۔ میں نے اسے گھر بلالیا۔ ہم تین سال بعد مل رہے تھے۔ بڑی لمبی ملاقات رہی۔ اس کے بچوں کی تعداد چار ہو گئی تھی۔ بات چیت کے دوران اسے اچانک ہی خیال آیا۔ اس نے پوچھا، یار تیری شادی ہو گئی۔

ہاں ہوئی تھی، میرا دل پھر سے بوجھل ہونے لگا۔ وہ دن میری زندگی کی تلخ ترین یادیں بن چکے تھے۔
ہوئی تھی کیا مطلب، اس کی آنکھوں میں سوال تھے۔
پتہ نہیں یار، اسکا دماغ کس نے خراب کیا ہوا تھا۔ تین سال شادی رہی، پھر ختم ہو گئی۔ طلاق دے دی ہے میں نے۔
اس کی آنکھیں اچانک ہی چمک اٹھیں۔ اسکا مطلب ہے تو دوسری شادی کرے گا۔
یار گھر والے باتیں تو کر رہے ہیں۔ میرے دل کا بوجھل پن کم نہیں ہوا تھا۔ اور کرنی تو ہے۔ ابھی تو گھر والے تجاویز دے رہے ہیں کہ یہاں کر لو وہاں کر لو۔
اس نے نہ تو یہ پوچھا کہ شادی کہاں ہوئی تھی۔ نہ یہ پوچھا، بچے ہیں کہ نہیں۔ نہ یہ پوچھا کہ طلاق دینے کی وجہ کیا تھی۔ اٹھ کر میرے گلے لگ گیا۔ میں حیران پریشان رہ گیا۔ اس نے مجھے زور سے بھینچا۔ اور بڑے جوش سے بولا۔۔۔۔۔۔۔یااااااااارررر تو کتنا خوش قسمت ہے۔