اشاعت کے باوقار 30 سال

یہ شوہر بڑے وہ ہوتے ہیں

سید عارف مصطفی
پطرس بخاری کی مانند میں بھی ایک شوہر ہوں اور ایک بیوی رکھتا ہوں۔۔۔بے پناہ محبت کا دعویدار نہیں اور تھوڑی سی محبت کا روادار نہیں۔۔۔ وہ کہیں گھر پہ نہ ہو تو بے حساب امن کے باوجود بے تحاشا سناٹے میرے اندر بولنے لگتے ہیں۔۔۔لہو گرم رکھنے کے بہانے ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے، اور مجھے وہی میدان جنگ کی طرح بھانے لگتا ہے کہ جس کو کبھی غصے سے نہ جانے کیا کیا نام دے چکا ہوتا ہوں۔۔۔ لیکن کیا کروں پھر وہ واپس آجاتی ہے اور ماحول پھر ویسے کا ویسا ہی ہوجاتا ہے ۔۔۔ مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی جھجک نہیں کہ میں زیادہ تر شوہروں کی طرح اک عام سا شوہر ہوں۔۔۔تاہم یہ بتانے میں بھی کوئی حرج نہیں کہ میری بیوی اکثر بیویوں کی مانند ایک خاص بیوی ہے ۔۔۔ ایسا نہیں کہ وہ یہ بات کہتی ہے لیکن دوسروں کی بیویوں کی طرح وہ یہی ثابت کرنے میں ہمہ وقت مصروف رہتی ہے،،، یہ جو میرے اندر کیلشیئم کے علاوہ اعتماد کی کمی پائی جاتی ہے اسکی وجہ بھی میری بیوی کا میرے بارے میں عجیب برتا ہے ۔۔۔ غصے کی نوک پہ آکر وہ کہتی ہے "آپ بڑے وہ ہیں" ۔۔۔لیکن وہ سے اسکی کیا مراد ہے، کبھی واضح نہیں کرتی۔۔۔ محض اندازے سے ہی قیاس کرتا ہوں اور یہ قیاس بھی بتانے کے قابل نہیں ہوتا۔

میری لائی ہوئی کوئی چیز کبھی پسند نہ آنا (یا کم ازکم فوری پسند نہ آنا) شاید اسکے ان ازدواجی اعتقادات کا حصہ ہے کہ جو اسے سینہ بہ سینہ ورثے میں ملے ہیں اور جسکے تحت شوہر کو خدانخواستہ فوری خوشی فراہم کرنا عورت کے مفتوح ہوجانے کی نشانی ہے۔۔۔ میں جب بھی شہر سے باہر جاتا ہوں مختلف اشیا خصوصا کپڑوں کی سوغات ساتھ لے کر آتا ہوں۔۔۔ اس سلسلے میں مہارت تامہ حاصل کرنے اور اپنے جوہر خریداری کو منوانے کیلئے کئی بار اپنی عزت سادات کو بے پناہ خطرے میں بھی ڈالا ہے اور آس پاس خریداری کرتی خواتین کے ہنر سے استفادہ کرنے کیلئے میں نے کسی ایک کو چن کر اسکے ساتھ ساتھ رہنے کی معصومانہ کوشش متعدد بار کی ہے تاہم ایسی زیادہ تر کوششیں خاصے نامناسب انداز میں ختم ہوئی ہیں یا کرائی گئی ہیں۔۔۔ کیونکہ کسی ناخلف دکاندار کی نگرانی میں مارکیٹ کے باہر چھڑوائے جانے سے خریداری کے ولولے آنافانا ًماند بھی پڑجاتے ہیں اور دائیں بائیں دیکھے بغیر آگے ہی آگے چلتے رہنے اور یکایک پاس سے گزرتی کسی سواری میں سوار ہو جانے سے ہی اعصاب کا تناؤ کم ہو پاتا ہے، ایسے ہر موقع پہ میں دانت پیس کراپنے آپ سے یہ کہتا ہوں کہ " لعنت ہے ایسی خریداری پر اور فوری عہد کرتا ہوں کہ آئندہ یہ غلطی نہ کروں گا۔۔۔ لیکن آخرکو انسان ہوں،غلطی کرتے رہ کر خود کو فرشتہ ہونے سے بچانے اور شرف انسانیت پہ فائز رہنے میں جتا رہتا ہوں۔

ایک خریداری ہی کی بات نہیں، نکاحی حراست میں لیئے جانے کے تھوڑے ہی عرصے میں میرے خانہ زاد تفتیشی افسر نے میرے اندر ایسے بہت سے قابل اعتراض پہلو ڈھونڈھ نکالے تھے کہ میں انکی روشنی میں خود اپنے آپ سے مل کر بہت دنوں تک شرمندہ شرمندہ سا رہا اور اگر خدانخواستہ اکثر مردوں کی طرح مردانہ ڈھٹائی کی لازوال قوت کا اثاثہ میرے پاس نہ ہوتا تو کبھی کا منہ لپیٹ کر اک طرف کو پڑ رہتا، اس خرابی میں بھی مگر اچھائی کا ایک پہلو پھر بھی ہے اور وہ یہ کہ پھر یہ بھی ہے کہ جیسے کہتے ہیں کہ "قدر کھودیتا ہے، روز کا آنا جانا" تو اسی طرح "اثر کھو دیتا ہے روز کا طنز اور طعنہ" اور رفتہ رفتہ زندگی اک "مضطرب امن" کی عادی ہو جاتی ہے۔ یہ بات نہیں کہ میں نے خود کو ڈھب پہ لانے کی کوئی کوشش نہیں کی، ابھی خریداری کی ضمن میں اپنی بے پایاں مشقت کا تو زکر کر ہی چکا ہوں۔ تاہم یہ زرا بھی کافی نہیں کیونکہ میرے گھریلو کولمبس نے میرے اندر نقائص کے دفینوں سے پر نجانے کتنے ہی جزائر دریافت کر لیئے ہیں اور یہ کھوج پیہم جاری و ساری ہے۔ اس کھوج کا مرکزی خیال یہ عقیدہ ہے کہ شوہر ایک ایسی مخلوق ہے جو صرف برا کرنے اور برا سوچنے ہی پہ قادر ہے تاہم زوجہ کا باپ اور بھائی قطعی نایاب کے درجے میں ہیں اورمستثنیات میں داخل ہیں۔

یہ شوہرانہ مسئلہ بھی بڑا مشترکہ سا اور آفاقی نوعیت کا ہے کہ گھر سے باہر تیس مارخان کہلانے والے اپنی زوجہ کیلئے محض چڑی مار کا ہی سا مقام رکھتے ہیں۔ خود ہمارے واقف ایک بڑے محترم عالیجناب کا گھریلو رتبہ "موئے نگوڑ مارے" سے زیادہ نہیں۔ انہیں دیکھ کر ایک پیر صاحب کا حوالہ یاد آتا ہے کہ ایک دنیا انکی کرامتوں اور فضائل کی معترف تھی لیکن انکی بیگم انکا مذاق ہی اڑاتی رہتی تھیں۔ تنگ آکر انہوں نے بڑی مشقت سے ہوا میں اڑنے کا خطرناک عمل سیکھا اور پھر ایک دن فضا میں بلند ہو کر خوب اڑتے پھرے اور طے شدہ منصوبے کے تحت اپنے مکان کے ارد گرد کافی بلندی سے فضا میں خوب چکر لگائے۔ بیگم کو صحن میں کھڑا دیکھا اور اس نظارے پہ حیران ہوتے ہوئے پایا تو بانچھیں کھل گئیں۔ ذرا دیر بعد کہیں جاکر اترے اور کشاں کشاں گھر آئے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی بیگم نے آڑے ہاتھوں لیا،" تم کہاں کے پیر بنے پھرتے ہو، صاحب کرامت تو ایسے ہوتے ہیں کہ جیسے وہ پیر صاحب ہیں کہ جنہوں نے آج فضا میں جہاز کی مانند اڑکر دکھایا اور یہ منظر میں نے خود دیکھا تھا۔ کافی اونچائی پہ اڑرہے تھے وہ۔"
اس پہ تو پیر صاحب بیحد مسرور ہوئے اور ایک احساس فتحمندی کے ساتھ بیگم کو اطلاع دی کہ
"وہ پیر میں ہی تو تھا۔۔"۔۔۔
اس پہ بیگم نے کسی قدر بیزاری کے ساتھ فرمایا کہ" اچھا وہ آپ تھے۔۔۔ جبھی میں کہوں کہ ذرا ترچھے کیوں اڑ رہے تھے"۔۔!!

دنیائے خاوندیت کا ہر باسی شادی کے پہلے چند برسوں میں اپنے طور پہ اس خوش فہمی میں مبتلا نظر آتا ہے کہ گھر چلانے کے لیئے بیگم کو ساری تنخواہ دینے اور بچوں کی پیدائش میں ناگزیر مدد فراہم کرنے کی وجہ سے وہ اپنے گھریلو نظام شمسی کا گویا اک سورج ہے لیکن اک طویل مشاہدے بلکہ تجربے کے بعد اب مجھے کامل یقین ہے کہ اکثر بیگمات کی کائنات میں شوہر کا کردار دمدار ستارے سے زیادہ ہرگز نہیں۔ پھر ڈھلتی عمر کے آتے آتے تو شوہر اور بوسیدہ فرنیچر میں کوئی خاص فرق نہیں رہ جاتا۔ ناکارگی یہ شعر سوبار سنائے جاتی ہے۔ع۔ غالب خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں۔۔۔ اس روزمرہ حقیقت سے بھلا کون انکار کرسکتا ہے کہ زیادہ تر شوہروں کا کوئی بھی کام اپنی ہی بیگمات کی نظر میں کوئی خاص وقعت نہیں رکھتا۔ کیونکہ انکی تنقیدی بصیرت انکے ہر کام میں وہ وہ عیب ڈھونڈھ نکالتی ہے کہ جو اس معصوم کے حاشیہ گمان میں پیشگی کبھی آہی نہیں سکتے تھے ورنہ وہ اتنا برا کام کرنے پہ بھلا مائل ہی کیوں ہوتا، لیکن مسئلہ یہ بھی تو ہے نا کہ اگر ان "برے کاموں"سے اجتناب کا ہلکا سا ارادہ بھی ِ دلِ خاوند سے ہو گزرے تو نجانے کس طرح وہ ارادہ بیگم کی گرفت سے بچ نہیں پاتا۔۔۔ اور نکمے پن سے جڑے ان گنت محاورے اور تشبیہات اور ضرب الامثال انکی زبان پہ فی الفور رواں ہو جاتے ہیں۔۔۔ اس روانی کا نقطہ عروج ٹیپ کا بند وہ لافانی و بین الاقوامی واویلا ہوتا ہے کہ "آپکے ساتھ تو میری قسمت ہی پھوٹ گئی"۔۔۔ بالائے ستم یہ کہ اس ازدواجی استغاثے میں شوہر کو جواب دعوی داخل کرنے کا استحقاق بھی میسر نہیں۔

ایک اور سنگین مسئلہ جو بنیادی طور پہ سراسر مشرقی نوعیت کا ہے اور جو شوہروں کے لبوں کو اکثر رومانی گانوں اور برجستہ قہقہوں سے محروم کر دیتا ہے اور مسلسل منہ بسورے رکھنے پہ مجبور رکھتا ہے۔ وہ ہے شک کا مسئلہ۔ اسکی زد میں سب سے پہلے تو بیگم آپکی عمر کے آس پاس کی وہ کزنز لاتی ہیں کہ آپ جنکے چکر میں امکانی طور پہ ذرا بھی مبتلا ہو سکتے تھے مگر بوجوہ ایسا کرنے کی ہمت نہ جٹا سکے۔ اور پھر بتدریج اس شک کا دائرہ ہر عمر اور ہر تعلق تک وسیع کر دیا جاتا ہے۔ یہ دائرہ دن دونی رات چوگنی ترقی کے اصول پہ تمام عمر ہی بڑھایا ہی جاتا رہتا ہے اور یوں آپ تا عمر ازدواجی ریمانڈ پہ رہتے ہیں اور تفتیش کبھی مکمل نہیں ہوپاتی۔۔۔۔جبکہ اس دوران آپکو بالجبر نہ جانے کتنی ہی نازنینوں کا بھائی صاحب بنا دیا جا چکا ہوتا ہے اور یہاں بھائی جان والی آپشن بھی کسی کو نہیں دی جاتی (بجز سگی بہنوں کے۔۔۔!!) کیوں کہ اس خطاب کے آخر میں پھر وہی ازیتناک "جان" براجمان ہے۔۔۔ کہ جس سے بیگمات کی جان جاتی ہے، آپ کہیں بھی جائیں اور بیگم کو منزل کی بابت بالکل درست اطلاع فراہم کریں تب بھی انکی آنکھوں میں بے یقینی کے قلزم ہلکورے لیتے صاف محسوس کیئے جاسکتے ہیں، کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ وہ عورت صرف ایک بیوہ ہی ہوسکتی ہے کہ جسے کامل یقین ہوتا ہے کہ اس وقت اسکا شوہر کہاں ہے۔ تاہم زندہ شوہر اپنی زندگی کا ثبوت فراہم نہ کرتے رہیں، ایسا بھی کم ہی ہوتا ہے۔
ایک پہلو مگر ایسا ہے جس سے میں بہت حیران رہتا ہوں اور مجھے یقین ہے کہ میرے دیگر "شوہر بھائی" بھی اس ہی قسم کی حیرانی سے دوچار رہتے ہونگے کہ انکی بیگمات کی طرح میری بیوی بھی میرے اکثر خیالات پڑھ سکنے کی بلا کی صلاحیت رکھتی ہے اور کئی بار مجھے میری سوچ کا کھویا ہوا سرا بھی پکڑا دیتی ہے۔ میری بہت سی ایسی باتیں اس پہ کھلی ہوئی ہوتی ہیں کہ جنہیں چھپائے رکھنا میرے لیئے بہت اہم ہوتا ہے۔ اک یہ ہی نہیں اکثر بیگمات کا دعوی بھی یہی ہوتا ہے کہ وہ اپنے شوہروں کو خوب اچھی طرح سمجھتی ہیں۔ تاہم انکے سامنے یہ فقرہ بھی انکے لبوں پہ کبھی کبھار آہی جاتا ہے کہ
" میں آپکو ابھی تک سمجھ ہی نہیں سکی۔

مستورات کے اس تضاد میں شوہروں کیلئے ایک تسلی بخش راحت مستور ہے، کیونکہ یہ انکی اس بے پناہ صلاحیت کا لاچارانہ اعتراف بھی ہے کہ جسکے ذریعے وہ پھر بھی کچھ نہ کچھ اپنی بیگمات سے چھپائے رکھنے میں کامیاب ہی رہتے ہیں اور وہ ایسا کچھ ضرور ہوتا ہے کہ جسکے چھپے ہی رہنے میں ازدواجی مسرتوں کی عافیت ہے۔