|
Wednesday, 18 November 2009 04:58 |
|
لندن : برطانیہ نے اس رپورٹ کو مسترد کردیاہے جس میں کہاگیاتھاکہ افغانستان میں برطانوی فوجیوں سے کہاگیاہے کہ وہ مضبوط طالبان ریکروٹس کو نقد رقم دے کر خریدیں۔ وزارت دفاع نے کہاہے کہ نئے آرمی فیلڈ مینول کاحوالہ دے کر جو اخباری رپورٹ شائع کی گئی ہے وہ مکمل طور پر جھوٹ پر مبنی ہے۔ ترجمان نے یہ بھی کہاکہ برطانیہ کی جانب سے مقامی افغان آبادی کا دل جیتنے کیلئے فوری طور پر اثر ڈالنے والے منصوبوں کی حمایت کی گئی ہے۔ ٹائمزنے اپنی رپورٹ میں بتایاتھاکہ نئی انسداد بغاوت ہدایات میں فوجی افسران کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ افغانوں کو طالبان میں شمولیت سے باز رکھنے کیلئے اچھی خاصی رقم دیں جو اس حوالے سے معروف ہیں کہ مقامی جنگجوؤں کی تربیت کیلئے وہ روزانہ 10 ڈالر لیتے ہیں۔ میجر جنرل پال نیوٹن نے اخبار کو بتایاتھاکہ باغیوں کے مقابلے کیلئے سب سے بہترین ہتھیار انہیں مارنا نہیں ہے اور اس کے مقابلے میں مختصر مدت کیلئے سیکورٹی حربے کے طور پر رقم خرچ کی جائے۔ منسٹر ی آف ڈیفنس ( ایم او ڈی ) کے ترجمان کاکہناہے کہ طالبان کو رقم کی ادائیگیوں کا کوئی بھی حوالہ جھوٹ پرمبنی ہے ، اس نظرےئے کا مقصد یہ گائیڈنس فراہم کرناہے کہ جلد اثر انگیز منصوبوں پر خرچ کرنے کی اہمیت کیاہے جس سے مقامی آبادی کی رضامندی اور اعتمادکو جیتنے کے تیز فوائد حاصل کئے جائیں۔ ان کا کہناتھاکہ رضااوراعتماد تعمیر نو اور ترقی کے منصبوبوں پر رقم خرچ کرتے ہوئے لوگوں کی فوری ضروریات کو پورا کرکے حاصل کی جاسکتی ہے اور اس کا مقصدکسی بھی مرحلے میں ساتھیوں کوخریدنے کیلئے باغیوں کو رقم دینا نہیں ہے۔ مینول جوکہ نئے آرمی افسران کو دیاجائے گا میں کہاگیاہے کہ کمانڈرز لازمی طور پر لوگوں کے قتل وعام کے ذمہ دار طالبان لیڈروں کے ساتھ بھی بات چیت کریں تاکہ افغان تنازع کو ختم کرنے کیلئے کوشش تیز کی جائے۔
|