|
Monday, 08 February 2010 19:00 |
لاہور : بے نظیر قتل کیس کی تفتیش کرنے کے لئے پاکستان آنے والے اقوام متحدہ کے کمشن کو حکومت کی طرف سے سہولیات کی فراہمی میں دانستہ تاخیر پر سفارتی سیاسی حلقوں نے حیرت کا اظہار کیا ہے بتایا گیا ہے کہ تین رکنی وفد کو آمد کے بعد رہائش اور گاڑی کے حوالے سے ابتدائی دنوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ کمشن کے ارکان پاکستان کے مختلف علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے باعث سخت پریشان اور عدم تحفظ کا شکار تھے ان حالات میں پیپلزپارٹی کی حکومت کی طرف سے اپنی شہید قائد کے قتل کی انکوائری کرنے والے کمشن جسے خود حکومت کی درخواست پر بجھوایا گیا اور جس پر لاکھوں ڈالر کے اخراجات آ رہے تھے مگر حکومت نے وفد کو اس کی خواہش کے مطابق محفوظ رہائش گاہیں فراہم کرنے کے بجائے ایک عام اور غیر محفوظ گھر میں ٹھہرا دیا اور سفر کے لئے ایک کھٹارہ سی گاڑی فراہم کر دی اس صورتحال پر وفد نے شدید احتجاج کیا جس کے بعد وفد کو ایک فائیو سٹار ہوٹل میں کمرے فراہم کئے گئے جبکہ اسلام آباد میں پراپرٹی اور گاڑیوں کے کاروبار سے وابستہ ایک بڑی فرم کو کہا گیا کہ وفد کو بلٹ پروف گاڑی فراہم کی جائے خیال کیا جارہا ہے کہ گاڑی کرائے پر حاصل کی گئی ذرائع نے دعوی کیا کہ کمشن کی دوسری مرتبہ آمد پر بھی حکومت کی طرف سے روڑے اٹکائے گئے۔
|