|
Friday, 20 November 2009 12:07 |
اسلام آباد : سپریم کورٹ نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ خواجہ سراﺅں کو وراثت میں حصہ دینے اور ان کو نادرا کی جانب سے شناختی کارڈ کے اجراء کیلئے حکمت عملی تیار کی جائے جبکہ اٹارنی جنرل شاہ خاور نے عدالت کو بتایا ہے کہ خواجہ سراﺅں کے حقوقو مسائل کے حوالہ سے قومی کمیشن کے قیام کی تجویز زیرغور ہے اور ضرورت پڑنے پر حکومت قانون سازی بھی کرے گی۔ جمعہ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس چوہدری اعجاز احمد اور جسٹس خلجی عارف پر مشتمل بینچ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ عدالت نے یہ بھی حکم دیا کہ پی پی او (آئی جی پولیس) پنجاب اور درخواست گزار ڈاکٹر اسلم خاکی ایڈووکیٹ اور متعلقہ محکمہ باہمی اجلاس منعقد کریں اور حکمت عملی تیار کریں تاکہ خواجہ سراﺅں کو حراساں کرنے کے واقعات کی شکایات کا تدارک ہو سکے۔ قائم مقام اٹارنی جنرل شاہ خاور نے عدالت میں اب تک کے اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ عدالتی ہدایات پر کتنا عمل ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہاکہ تمام صوبوں کے نمائندوں کا اجلاس بلایا گیا تھا جس میں درخواست گذار ڈاکٹر اسلم خاکی نے بھی شرکت کی۔ اس اجلاس میں خواجہ سراﺅں کو درپیش مسائل کے تمام پہلوﺅں پر غور کیا گیا اور یہ تجویز زیرغور ہے کہ ”ٹرانس جینڈرز، کی بہبود کیلئے قومی کمیشن“ تشکیل دیا جائے۔ یہ کمیشن خواجہ سراﺅں کے حقوق کے حوالہ سے پالیسی مرتب کرے گا۔ اس ضمن میں ایک روزہ ورکشاپ بھی منعقد کی جا رہی ہے جس میں ملک بھر سے تمام متعلقہ فریقین شرکت کریں گے۔
|