اشاعت کے باوقار 30 سال

فیس بک نے ’ہندوتوا ورتا‘ کے عنوان سے صفحہ ہٹا دیا

فیس بک نے ’ہندوتوا ورتا‘ کے عنوان سے صفحہ ہٹا دیا

لند ن: فیس بک نے ان مسلمان مردوں پر تشدد کا مطالبہ کرنے والے صفحے کو ہٹا دیا ہے جن پر ہندو خواتین کے ساتھ تعلقات کا الزام ہے۔ آن لائن صارفین کی جانب سے اس صفحے پر جس میں ہندوؤں سے کہا گیا ہے کہ وہ ’اس فہرست میں موجود لڑکوں کا پتہ لگائیں، غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ اس فہرست میں موجود افراد کی فیس بک پروفائل کے لِنک بھی دیے گئے ہیں جس سے ان افراد کی حفاظت کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا گیا۔ اگرچہ اس صفحے کا نام ’ہندوتوا ورتا‘ ہے تاہم ابھی تک کسی بھی ہندو گروپ نے اس کی ملکیت کی تصدیق نہیں کی۔ گذشتہ ہفتے کے اختتام پر اس صفحے کے بارے میں اس وقت پتہ چلا جب ایک ٹویٹر صارف نے اس کی جانب توجہ دلوائی۔ ’ہندو دہشت گردوں نے بین المذاہب شادیوں کی ایک طویل فہرست شائع کی ہے اور ہندوؤں پر زور دیا ہے کہ ان خواتین کے شوہروں کو مار دیں‘۔اگرچہ اب یہ صفحہ فیس بک پر موجود نہیں ہے تاہم انڈین نیوز ویب سائٹ آلٹ نے اس کی کچھ پوسٹس محفوظ کر لی تھی۔ ان پوسٹس میں لوگوں کو ’لو جہاد‘ کے خلاف تشدد کرنے کا پیغام دیا گیا تھا۔ آلٹ نیوز کے شریک بانی پراتیک شینا نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ خطرناک ہے کہ اس قسم کی کوئی فہرست موجود ہے۔ ’مگر سوچنے کی بات ہے اور یہ اتنا ہی پر خطر ہے کہ کسی نے اس قسم کے تعلقات اور لوگوں کے نام جاننے کے لیے وقت لگایا ہے‘۔ یہ فہرست 102 مسلمان مردوں اور ہندو خواتین کی پروفائلز سے جڑی ہوئی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ فہرست متعلقہ افراد کے فیس بک پروفائل میں ’ریلیشنشپ سٹیٹس‘ کو دیکھ کر مرتب کی گئی ہے۔ پراتیک شینا کا کہنا ہے کہ نومبر 2017 میں ایک اور فیس بک پیج بھی دیکھا گیا تھا جس کا عنوان تھا ’جسٹس فار ہندوز‘ لیکن اس صفحے میں ان پر تشدد کے لیے نہیں کہا گیا تھا۔ اس سے پہلے ایک پوسٹ میں ہندو والدین سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنی بیٹیوں کو گن چلانا سکھائیں تاکہ وہ اپنے آپ کو ’لو جہاد‘ سے بچا سکیں۔ ایک اور پوسٹ میں ایک ویڈیو کے ذریعے بتایا گیا تھا کہ ایک مسلمان شخص پر مختلف افراد کا ایک گروہ پرتشدد حملہ کر رہا ہے۔ انڈیا کے قدامت پسند خاندانوں میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شادی ایک طویل عرصے سے ممنوع ہے۔ اب حالیہ عرصے میں اس قسم کی شادیوں کو ’لو جہاد‘ کا نام دیا گیا ہے۔ ایک شخص کو بین المذہبی تعلق رکھنے پر قتل کیا گیا اور ایک ہندو خاتون نے اس وقت خود سوزی کر لی جب انھیں مسلمان مرد سے دوستی کرنے پر واٹس ایپ پر ہراساں کیا گیا۔ 2017 میں نچلی عدالت نے ہندو خواتین کی مسلمان مردوں کے ساتھ شادی اور مذہب کی تبدیلی کو رد کر دیا تھا۔ اس کے بعد یہ کیس انڈیا کی سپریم کورٹ تک گیا جہاں یہ الزام لگا کہ شادی کرنے والے مسلمان مردوں کا دہشت گرد گروہوں سے تعلق ہے۔

loading...