اشاعت کے باوقار 30 سال

ڈرون کو مار گرانے والی منفرد بندوق

ڈرون کو مار گرانے والی منفرد بندوق

لندن: دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر ڈرونز بنائے جا رہے ہیں جو کئی مسائل کی وجہ بن رہے ہیں تاہم اب ایک بہت مؤثر اور جدید دستی گن سے ان ڈرون کو جام کر کے گرانا بہت آسان ہو گا۔ پاکستان میں تو نہیں لیکن ترقی یافتہ ممالک میں ڈرونز شوقیہ بھی استعمال ہو رہے ہیں اور اب ان سے جان چھڑانے والی ٹیکنالوجی پر بھی کام جاری ہے۔ اس کے علاج کے لیے ڈرون شیلڈ کمپنی نے ایک ڈرون گن بنائی ہے۔ یہ ڈرون گن کئی طرح کی فریکوئنسی بلاک کر کے کئی اقسام کے ڈرونز کو گرا سکتی ہے۔ اگرچہ اب فوٹو گرافی اور پیزا پہنچانے کے لیے ڈرون عام طور پر استعمال ہو رہے ہیں لیکن کئی مقامات پر یہ خطرناک بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ان میں نو فلائی زون، حساس ادارے، ایئرپورٹ اور دیگر حکومتی تنصیبات شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جیلوں اور دیگر مقامات پر ڈرون منشیات اور ممنوعہ اشیا بھی اسمگل کرنے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ اس ضمن میں پہلی ڈرون گن سال 2016ء میں بنائی گئی تھی جسے اب مزید بہتر بنایا گیا ہے۔ اس کی خاص صلاحیت یہ ہے کہ یہ دو کلو میٹر کی دوری تک ڈرون کو ملنے والے سگنلز میں رخنہ ڈال دیتی ہے جس سے گارڈ کو ہمیشہ گن اٹھائے چوکنا رہنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اس طرح یہ گن ایک طرح کا غیر مرئی بلبلہ بناتی ہے تاکہ ڈرون کو ناکارہ کر کے گرایا جا سکے۔ اس گن میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ آپ ڈرون کنٹرول کر کے اسے دوبارہ وہیں دھکیل سکتے ہیں جہاں سے یہ اڑا تھا، یعنی آپ دوسرے کے ڈرون کے پائلٹ بن سکتے ہیں۔ دوسرے آپشن میں ڈرون کے جی پی ایس سگنل کو متاثر کر کے اسے فوری طور پر لینڈ کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ اس صورت میں ڈرون کو تفتیش کے لیے ’گرفتار‘ بھی کیا جا سکتا ہے۔ یہ ڈرون گن بہت ہلکی پھلکی ہے اور 433 میگا ہرٹز سے لے کر 5.8 گیگا ہرٹز تک کے بینڈ استعمال کرنے والے ڈرون کو ناکارہ بنا سکتی ہے۔

loading...