اشاعت کے باوقار 30 سال

مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ

سری نگر: بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں 40 ہزار سے زائد فوجی اہل کار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں 40 ہزار سے زائد مزید نیم فوجی اہل کار تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ یہ اہل کار آنے والے نام نہاد پنچایت انتخابات کے دوران سیکیورٹی کے نام پر تعینات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے گناہ نوجوانوں کی حالیہ شہادت پر ضلع شوپیاں میں ہفتے کو مسلسل 10ویں روز بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ دکانیں اور کاروباری مراکز بند رہے جب کہ سڑکوں پر ٹریفک معطل تھی۔ بھارتی فوجیوں نے 24 جنوری کو شوپیاں کے علاقے چائی گنڈ میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی کے دوران 3 نوجوانوں فردوس احمد، سمیر احمد اور شاکر میر کو شہید کر دیا تھا۔ بھارتی پولیس کی طرف سے گھر گھر تلاشی کے دوران متعدد نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف ضلع بڈگام کے علاقے سوئیہ بگ میں بھی مکمل ہڑتال کی گئی۔ بھارتی فورسز نے علاقے میں گھر گھر تلاشی کے دوران قیمتی گھریلو اشیا کی توڑ پھوڑ کی اور کھڑکیوں کے شیشے توڑ دئے۔ ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں حملے میں 2 بھارتی اہل کار زخمی ہو گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجیوں نے ضلع کپواڑہ کے علاقے نوگام میں ایک نہر میں زہریلا کیمیکل ڈال دیا جس کے باعث ہزاروں ٹراؤٹ مچھلیاں ہلاک ہو گئیں۔ خبر پھیلنے کے بعد علاقے میں سخت خوف و ہراس پھیل گیا اور انتظامیہ کو نہر کا پانی روکنا پڑا۔ ادھر سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے شوپیاں چلو مارچ کو طاقت کے بل پر ناکام بنانے کے کٹھ پتلی انتظامیہ کے ناروا اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آمرانہ اور ظالمانہ اقدامات کے ذریعے کشمیریوں کو زیر کرنے کا بھارتی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا۔ مقبوضہ کشمیر میں کٹھ پتلی حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ 2 برس کے دوران بھارتی فورسزکی پیلٹ فائرنگ سے 18 شہری جاں بحق ہوئے۔

loading...