اشاعت کے باوقار 30 سال

عدلیہ جمہوریت کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں

عدلیہ جمہوریت کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں

اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عدلیہ جمہوریت کے خلاف کسی مہم کا حصہ نہیں اور عدالتوں نے کارکردگی نہ دکھائی تو ریاست عدم توازن کا شکار ہو جائے گی۔ اسلام آباد میں چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی زیرصدارت خصوصی ٹریبونلز اور انتظامی عدالتوں کے ججز کا اجلاس ہوا جس میں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ججز کو اپنے رویے درست کرنا ہوں گے، انصاف وہ ہے جو ہوتا نظر آئے، آپ کو پوری ایمان داری سے قوم کی خدمت کرنی ہے اور حقائق پر فیصلے کرنے ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ عدلیہ پاکستان سمیت کسی بھی ریاست کا بہت اہم ستون ہوتی ہے، اگر اس ستون نے کارکردگی نہیں دکھائی تو ریاست عدم توازن کا شکار ہو جائے گی، ہائی کورٹ کا جج ماہانہ 9 لاکھ روپے اور روزانہ کی 40 ہزار روپے تنخواہ لیتا ہے، جب کہ سپریم کورٹ کے جج کی تنخواہ اس سے بھی زیادہ ہوتی ہے، تو کیا یہ ججوں کا فرض نہیں ہے کہ وہ روزانہ اتنے روپے کا کام بھی کریں۔ میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ بڑے بڑے مگرمچھوں کو کٹہرے میں لانا ہو گا، ہم پاکستان میں جمہوریت کو ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، ملک میں عظیم رہنما اور عظیم منصف آ گئے تو ترقی کو کوئی نہیں روک سکے گا، ہمیں بنیادی حقوق لاگو کرنے ہیں، یہ ہماری ذمےداری ہے ،ججز کو چاہئے کہ جتنی تنخواہ لیتے ہیں اتنا کام کر کے اٹھیں، میں نے فیصلے میں یہ لکھ دیا کہ ایک ماہ میں مقدمات کے فیصلے سنائے جائیں، مولانا طارق جمیل نے بتایا ہے کہ جب روز محشر ہو جائے گا اور سورج سوا نیزے پر ہو گا تو ایک خطے میں چھاؤں اور اللہ کی رحمت ہو گی جس میں عادل قاضی کو جگہ ملے گی۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ڈی ریل نہیں ہونے دیں گے، جمہوریت کو کچھ ہوا تو میں بھی عہدے پر نہیں رہوں گا، نظریہ ضرورت کو دفن کر چکے ہیں، لوگ ہمیں کچھ مقدمات کھولنے کا طعنہ دیتے ہیں، مانتا ہوں ماضی میں عدلیہ سے غلطیاں ہوئیں، کہا جا رہا ہے عدلیہ جمہوریت کے خلاف کسی مہم کا حصہ ہے اور کوئی خاص پلاننگ ہو رہی ہے، تاہم بتا دیتا ہوں کہ عدلیہ کسی مہم اور کسی پلاننگ کا حصہ نہیں، ججز نہ کسی کا ساتھ دے رہے ہیں نہ نا انصافی کریں گے، نا انصافی کر کے نبی کریم کی شفاعت سے محروم نہیں ہونا چاہتا، ججز پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں، اونچی آواز میں بات اس لیے کی ہے کہ ہال سے باہر والوں کو بھی سنائی دے۔

loading...