اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

سیارہ پلوٹو کی دریافت

مئی تک ہر صورت پاکستانی سٹنٹ چاہئیے

مئی تک ہر صورت پاکستانی سٹنٹ چاہئیے

اسلام آباد: چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے دل کے مریضوں کو غیر معیاری سٹنٹ کی فراہمی پر لئے گئے از خود نوٹس کیس کی سماعت کی۔ جس میں ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو روسٹرم پر بلایا ۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے سٹنٹ تیار کرنے کی ذمہ داری اٹھائی تھی۔ جس پر ڈاکٹر ثمر مبارک نے بتایا بطور چیئرمین نیسکام 2004 میں جرمنی سے مشین امپورٹ کی۔ سالانہ دس ہزار سٹنٹ تیار کئے جانے تھے۔ 37 ملین کی لاگت سے منصوبہ شروع ہوا تھا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ مجھے اپنی کاردگردگی سے تحریری طور پر آگاہ کریں۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 3 ملین روپے کا آڈٹ نہیں ہوا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک نے کہا کہ تمام ٹیکنالوجی نسٹ کو منتقل کر دی گئی تھی۔ نسٹ حکام نے بتایا کہ 30 ملین کی تو صرف مشین ملی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ مئی تک ہر صورت پاکستانی سٹنٹ تیار چاہئیں۔ خود اپنے طور پر سٹنٹ چیک کریں گے۔ جس نے کام نہیں کرنا وہ ملک چھوڑ کر چلا جائے۔ عدالت میں اسلام آباد کے نجی ہسپتال شفا کے شعبہ امراض قلب کے سربراہ بھی پیش ہوئے۔ اور بتایا کہ پنجاب کے ہسپتالوں میں جس قیمت پر اسٹنٹ فراہم کیا جا رہا ہے ہمیں مارکیٹ سے دوگنا قیمت پر ملتا ہے۔ اگر عدالت کوئی ایسا طریقہ کار بنانے کے لئے کہے جس سے ہمیں بھی اتنی ہی قیمت پر سٹنٹ ملے تو مریضوں کا بھلا ہو گا۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو سٹنٹ ڈالنے کے کل اخراجات میں کمی لانا ہو گی۔آپ کا ہسپتال بہت زیادہ پیسے لیتا ہے۔ہمارے ایک جج صاحب کی بچی کی معمولی قسم کی سرجری ہوئی آپ کو معلوم ہے اس پر کتنا خرچہ آیا جس پر ڈاکٹر نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم ہسپتال انتظامیہ جانتی ہو گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپنے چیف ایگزیکٹو کو بلائیں، سارا ریکارڈ اور دستاویزات بھی لائیں۔ آپ کے ہسپتال نے اس معمولی سے آپریشن کے 64 لاکھ وصول کئے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نجی شعبے کے میڈیکل کالجز کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ ایسا کاروبار نہیں جس سے آپ پیسہ کمانے پر نظر رکھتے ہوں۔ جو بھی ہسپتال چلا گیا ذبح کر کے واپس بھیج دو۔

loading...