اشاعت کے باوقار 30 سال

لندن میں مسجد الیاس شہید کرنے کا فیصلہ برقرار

لندن میں مسجد الیاس شہید کرنے کا فیصلہ برقرار

لندن: مشرقی لندن میں تبلیغی جماعت کی جانب سے یورپ کی سب سے بڑی مسجد تعمیر کرنے کے منصوبے کو اس وقت ایک اور دھچکا لگا، جب ہائی کورٹ نے اسی مقام پر قائم مسجد الیاس کو شہید کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق عدالت نے اپنے فیصلے میں تبلیغی جماعت کو اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کرنے سے بھی منع کر دیا ہے، جس کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کچھ ہفتوں میں مسجد کا موجودہ انفرا اسٹرکچر منہدم کر دیا جائے گا۔ تاہم انسانی حقوق کے یورپین ہائی کورٹ کا ایک حکم امتناعی مسجد الیاس کو منہدم ہونے سے بچا سکتا ہے اور اس حوالے سے ٹرسٹیز نے رواں ماہ کے دوسرے ہفتے میں درخواست دائر کی تھی، ہائی کورٹ بینچ کے جج ویلڈن اسمتھ نے تبلیغی جماعت کے ٹرسٹیز کو مزید حکم دیا ہے کہ وہ نیوہیم کے لندن بورو کو 4 ہفتوں کے اندر 22 ہزار 207 پاؤنڈ بھی ادا کریں گے اور اگر 23 فروری تک یہ رقم ادا نہیں کی گئی تو کونسل کی جانب سے رقم کی وصولی کے لیے کارروائی کا آغاز کیا جائے گا۔ عدالت کے مذکورہ فیصلے کے سامنے آتے ہی دیگر مقامی گروپوں کی جانب سے مقامی انتظامیہ پر دباؤ ڈالنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا گیا ہے تاکہ موجودہ مسجد کو جلد منہدم کیا جا سکے۔ جج نے کہا کہ ٹرسٹیز کی جانب سے 12 مہینے کے معطلی کے وقت میں سے 5 ماہ گزر چکے ہیں جب کہ ٹرسٹیز کی جانب سے پالیسی پر بہت کم کام ہوا ہے، لہٰذا عدالت اس فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کرتی ہے۔ دوسری جانب اگر انسانی حقوق کے یورپین ہائی کورٹ کی جانب سے کوئی حکم امتناعی جاری نہیں ہوتا اور ٹرسٹیز 6 ماہ میں جگہ خالی نہیں کرتے تو نیو ہیم بورو کونسل کی جانب سے مسجد کو منہدم کرنے کا عمل شروع کیا جائے گا، اس کے علاوہ تبلیغی جماعت یا ان کے ماننے والوں کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت پر (ضروری خریداری آرڈر) سی پی او حاصل کرنے کے لیے قانونی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔ واضح رہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کے فیصلے کو ایک سال تک مؤخر کرنے کے حوالے سے تبلیغی جماعت کے 3 ٹرسٹیز کی جانب سے درخواست دائر کی گئی تھی۔۔خیال رہے کہ 17 ایکڑ پر مشتمل اس زمین پر صدیوں سے ایک کیمیکل فیکٹری تھی لیکن 1995 میں تبلیغی جماعت کے ٹرسٹیز کی جانب سے اسے 16 لاکھ پاؤنڈ میں خریدا گیا تھا۔

loading...