اشاعت کے باوقار 30 سال

اماراتی خاتون کی جنس تبدیلی کے لیے قانونی جنگ

اماراتی خاتون کی جنس تبدیلی کے لیے قانونی جنگ

دبئی: متحدہ عرب امارات کی ایک خاتون نے جنس تبدیل کر کے مرد بننے کے لیے قانون سے اجازت مانگ لی۔ اماراتی میڈیا کے مطابق 25 سالہ خاتون نے جنس کی تبدیلی اور سرکاری کاغذات میں زنانہ نام کی جگہ مردانہ نام درج کرانے کے لیے ابوظہبی کی عدالت میں درخواست دائر کی جس میں خاتون نے مؤقف اپنایا کہ وہ بیرون ملک جا کر اپنی جنس تبدیل کرانا چاہتی ہے۔ عدالت نے خاتون کی استدعا مسترد کرتے ہوئے درخواست خارج کر دی تاہم جنس تبدیلی کی خواہاں خاتون نے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے وفاقی اپیلٹ کورٹ سے رجوع کر لیا اور اپیل دائر کردی جو زیر سماعت ہے۔ وکیل علی عبداللہ نے دلیل پیش کی کہ پہلی عدالت کی قائم کردہ طبی کمیٹی نے ان کی مؤکلہ کا جائزہ لے کر اس کی تبدیلی جنس کے اہل ہونے کی رپورٹ جاری کی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ خاتون کو ایسے جنسی مسائل کا سامنا ہے جنہیں کسی بھی طرح ٹھیک نہیں کیا جا سکتا، تاہم اس میں جنس کی تبدیلی کا مشورہ نہیں دیا گیا تھا۔ وکیل نے کہا کہ 2016ء کے وفاقی قانون کی شق 4 کے تحت ایک ایسے شخص کو تبدیلی جنس کی اجازت ہے جس کی جنس واضح نہ ہو۔ یا پھر طبی آزمائش سے ثابت ہو جائے کہ اس کے ظاہری خد و خال اور کیفیت اس کے طبعی، فعلیاتی اور جینیاتی تفصیلات سے بالکل الگ ہوں۔

loading...