اشاعت کے باوقار 30 سال

نواز شریف نے قومی سلامتی اداروں کو کھلی دھمکی دے ڈالی

نواز شریف نے قومی سلامتی اداروں کو کھلی دھمکی دے ڈالی

اسلام آباد: سعودی عرب سے ناکام واپسی کے بعد سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف قومی سلامتی کے اداروں کے لئے سکیورٹی رسک بن کر سامنے آئے ہیں۔ میاں نواز شریف سعودی عرب کے شاہ سلیمان اور ولی عہد محمد بن سلیمان سے رات کے آخری پہر ہونے والی ملاقات میں اپنے سیاسی مستقبل کے لئے کچھ حاصل کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں۔ وطن واپسی پر انہوں نے پنجاب ہاؤس میں کی گئی پریس کانفرنس میں قومی سلامتی کے اداروں کو کھلی دھمکی دی ہے کہ اگر ان کا راستہ روکا گیا تو وہ تمام راز فاش کر دیں گے۔ سابق وزیر اعظم کی یہ دھمکی ملکی سلامتی کے اداروں کے لئے سیکیورٹی رسک قرار دی جا رہی ہے۔ 2018ء کا سال شروع ہوتے ہی امریکہ، بھارت اور میاں نواز شریف بیک وقت پاکستان کی سالمیت پر حملہ کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ دھمکی امیز گفتگو کرنے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بھارت سے دوستی اور امریکہ کی افواج پاکستان سے رنجش کسی سے اب ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ یکم جنوری کا سورج طلوع ہوتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹوئیٹ کے ذریعے پاکستان پر الزام لگایا کہ پاکستان نے 33 ارب ڈالر لے کر ہم سے جھوٹ بولا۔ میاں نواز شریف نے اس پر کہا کہ ہمیں سوچنا چاہیے کہ دنیا ہمارے خلاف کیوں بول رہی ہے؟ ڈونلڈ ٹرمپ جب پاکستان کے خلاف محاذ کھول رہے تھے اور پاکستان کو دی جانے والی 25 کروڑ ڈالر کی امداد پر پابندی لگا رہے تھے تو پاکستان کا تین دفعہ وزیر اعظم رہنے والا شخص میاں نواز شریف سعودی عرب میں شاہ سلیمان اور ان کے ولی عہد محمد بن سلیمان سے ملاقات کے لئے ترس رہا تھا۔ ایک وفاقی وزیر کے بقول پیر اور منگل کی درمیانی رات سعودی پروٹوکول کی گاڑیاں میاں نواز شریف کی رہائش پر آئی تھیں اور پھر چلی گئیں اور پھر رات تقریباً ایک بجے سعودی شاہ سلیمان نے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میاں نواز شریف کو دیا۔ اس سے پہلے میاں نواز شریف کے برادر خورد میاں شہباز شریف سعودی عرب کے چھ روزہ قیام کے بعد وطن واپس جا چکے تھے۔ اسلام آباد کے مصدقہ ذرائع بتارہے ہیں کہ اگر دونوں بھائی اپنے سیاسی مستقبل کے لئے سعودی عرب اور امریکہ سے کسی بھی قسم کی ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے تو محترمہ مریم نواز ملاقات کے فوری بعد ہی ٹوئیٹ کا سٹیئرنگ سنھبال لیتیں اور قوم کے بیدار ہونے سے پہلے سوشل میڈیا پر مسلم لیگ (ن) کے ورکروں اور مقامی لیڈروں کا رقص شروع ہو چکا ہوتا مگر سعودی عرب میں بدترین ناکامی نے شریف برادران خاص طور پر میاں نواز شریف کو شدید ڈپریشن کا شکار کر دیا ہے اور وہ مزید چڑ چڑے ہو گئے ہیں۔ بدھ کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے دورہ سعودی عرب کا ذکر تک کرنا گوارا نہیں کیا اور کاغذ پر لکھی ہوئی دھمکیاں پڑھ کر چلے گئے۔ میاں نواز شریف جب سے پاناما کے ہنگامہ میں پھنسے ہوئے ہیں اس وقت سے بھارت مختلف بہانوں سے پاکستانی سرحدوں پر فائرنگ شروع کرتا چلا آ رہا ہے۔ بھارت کی بلا اشتعال فائرنگ کے پیچھے بھی میاں نواز شریف کی ہمدردی چھپی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ میاں نواز شریف جب وزیر اعظم تھے اس وقت بھی انہوں نے بھارت کی بلوچستان کے اندر کارروائیوں پر آواز نہیں اٹھائی حتیٰ کہ کلبھوشن کی گرفتاری پر بھی میاں نواز شریف نے خاموش رہ کر بھارتی لابی کے زیر اثر ہونے کا ثبوت دیا۔ ذرائع کے مطابق سعودی عرب کے حکمرانوں نے میاں نواز شریف کو صاف بتا دیا ہے سعودی عرب ملزم نواز شریف کی حمائت کر کے پاکستان کے عوام کی نفرت کا شکار نہیں بن سکتا۔ چنانچہ وطن واپسی پر میاں نواز شریف نے قومی اداروں کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔ اس سے پہلے جے آئی ٹی میں پیشی کے موقع پر بھی میاں نواز شریف نے اداروں کو دھمکایا تھا لیکن اس بار انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا ہے کہ مین سب رازوں سے واقف ہوں اگر میرا راستہ روکا گیا تو سب راز فاش کر دوں گا۔ ملکی سلامتی کے اداروں اور قوم کے لئے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ تین بار ملک کا چیف ایگزیکٹو رہنے والا شخص کیا اپنی چوری پکڑے جانے کے خوف سے اس حد تک گر جائے گا کہ ملکی سلامتی داؤ پر لگ جائے۔

loading...