اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

تاریخ کا شدید ترین زلزلہ

ایران: حکومت مخالف مظاہروں میں پولیس سٹیشن پر قبضے کی کوشش

ایران: حکومت مخالف مظاہروں میں پولیس سٹیشن پر قبضے کی کوشش

تہرا ن: ایران میں جاری مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کو 2009 کے بعد پہلی مرتبہ شدید مزاحمت کا سامنا ہے جس کے دوران مظاہرین نے رات گئے ایک پولیس سٹیشن پر بھی حملہ کر دیا۔ جب کہ احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ پاکستان کی سرحد کے نزدیک واقع ایرانی شہر زاہدان تک پھیل گیا ہے، سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مظاہرین پولیس سٹشین پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اس سے پہلے ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں حکومت مخالف مظاہروں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 20 تک پہنچ گئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف مظاہروں میں ایک پولیس اہل کار کو بھی گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ پولیس کے ترجمان کے مطابق پولیس اہل کار کی ہلاکت کا واقعہ وسطی شہر نجف آباد میں پیش آیا ہے۔ ایران میں جمعرات سے شروع ہونے والے ان مظاہروں میں کسی پولیس اہل کار کی ہلاکت کا یہ پہلا واقعہ کہا جا رہا ہے۔ اس سے قبل اتوار کی شب صوبہ خوزستان کے شہر ایذہ میں دو افراد گولیاں لگنے سے مارے گئے۔ اپنے تازہ بیان میں ایران کے صدر حسن روحانی کا کہنا ہے کہ ایرانی قوم 'قانون توڑنے والی اقلیت' سے نمٹ لے گی۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی ہے کہ ایران میں اب تبدیلی کا وقت آن پہنچا ہے۔ ایذہ سے ایرانی پارلیمان نے رکن ہدایت اللہ خادمی نے ان ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ یہ واضح نہیں کہ ان ہلاکتوں کا ذمہ دار مظاہرین تھے یا پولیس۔ اس سے قبل چار افراد مغربی صوبے لورستان کے شہر دو رود میں مارے گئے تھے۔ بقیہ چار ہلاکتوں کے بارے میں کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ صدر حسن روحانی کے خطاب کے بعد بھی ایران میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ تہران کے علاوہ کرمان شاہ، خرم آباد، شاہین شہر اور زنجان میں بھی جلوس نکالے گئے۔ اپنے خطاب میں صدر روحانی نے کہا کہ ایرانی عوام حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کے لیے آزاد ہیں لیکن سکیورٹی کو خطرے میں نہیں ڈالا جائے۔ انھوں نے تسلیم کیا تھا کہ کچھ معاشی مسائل ہیں جن کا حل کرنا ضروری ہے لیکن ساتھ ہی متنبہ بھی کیا کہ پرتشدد کارروائیاں برداشت نہیں کی جائیں گی۔فرا نسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق تہران کے میدانِ انقلاب میں ایک مظاہرے کے شرکا کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور آبی توپ استعمال کی۔ ان مظاہروں کا آغاز جمعرات کو ایران کے دوسرے بڑے شہر مشہد سے ہوا تھا۔ ایران میں عوام کے گرتے ہوئے معیارِ زندگی اور کرپشن کے خلاف ہونے والا یہ احتجاج 2009 میں اصلاحات کے حق میں ہونے والی ریلی کے بعد سب سے بڑا عوامی احتجاج ہے۔ ان مظاہروں کے آغاز پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹویٹ کی تھی کہ ایرانی عوام میں بالآخر عقل آ رہی ہے کہ کیسے ان کی دولت کو لوٹا جا رہا ہے اور دہشت گردی پر خرچ کی جا رہی ہے۔ دوسری جانب ایران کے طاقتور فوجی دستے پاسدارانِ انقلاب نے حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کو خبردار کیا ہے کہ ملک میں سیاسی عدم استحکام جاری رہنے پر مظاہرین سے ’سختی سے نمٹا‘ جائے گا۔ ایران میں پاسدارانِ انقلاب کا شمار بااثر فوج میں ہوتا ہے اور ملک میں اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے ملک کے رہبرِ اعلیٰ کے ساتھ اْن کے گہرے روابط ہیں۔۔ علا وہ ازیں صوبہ تہران کے نائب گورنر علی اصغر ناصر بخت نے کہا ہے کہ مقامی پولیس نے اتوار کی شب شاہراہوں پر احتجاج کرنے والے قریباً دو سو افراد کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے چالیس افراد مظاہروں کی قیادت کر رہے تھے۔ صوبہ مرکزی کے میئر کے مطابق غیر مجاز احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ایک سو سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

loading...