اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

تاریخ کا شدید ترین زلزلہ

برطانوی نائب وزیر اعظم مستعفی

برطانوی نائب وزیر اعظم مستعفی

لندن: برطانوی وزیر اعظم تھریسا مے نے اپنے سینئر ترین وزیر ڈیمیئن گرین کو انکوائری کے بعد جرم ثابت ہونے کے باعث کابینہ سے برطرف کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برطانیہ کے نائب وزیر اعظم ڈیمیئن گرین پر تحقیقات میں یہ ثابت ہو گیا تھا کہ انہوں نے وزارتی ضابطہ کار کی خلاف ورزی کی۔ اس بات کی تصدیق ہونے کے بعد کہ انہوں نے 2008 میں اپنے دفتر کے کمپیوٹر سے ملنے والے فحش مواد سے متعلق غلط اور گمراہ کرنے والے بیانات دیئے تھے، انہیں مستعفی کر دیا گیا۔ 61 سالہ ڈیمیئن گرین نے وزیر اعظم تھریسا مے کو اپنے استعفے میں لکھا ہے کہ واقعے سے متعلق بیان دینے کے موقع پر انہیں واضح انداز اپنانا چاہیے تھا، ڈیمیئن گرین نے مصنفہ کیٹ میٹلبی کو 2015 میں پریشانی ہونے پر معذرت بھی کی۔بی بی سی کی سیاسی مدیرہ لارا کوئنزبرگ کا کہنا ہے کہ ڈیمینئن گرین وزیراعظم تھریسا مے کے قریبی دوستوں میں سے تھے لیکن ان کے خلاف تحقیقات میں جرم ثابت ہونے کے بعد وزیر اعظم کے پاس کوئی اور راستہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ ان سے مستعفی ہونے کو کہا جاتا۔ واضح رہے کہ ڈیمیئن گرین پر صحافیوں اور مصنفہ کیٹ میٹلبی کے ساتھ برا رویہ رکھنے کے الزامات کی تحقیقات چل رہی تھیں۔ ڈیمیئن گرین اس سے قبل سیکریٹری اسٹیٹ تھے اور اس کے فوراً بعد ہی نائب وزیر اعظم بن گئے۔ وہ دو ماہ کے عرصے میں مستعفی ہونے والے کابینہ کے تیسرے وزیر بھی ہیں۔

loading...