اشاعت کے باوقار 30 سال

پاکستان ہاکی کی بیٹری چارج کرنے کے لئے پی ایچ ایف سرگرم

پاکستان ہاکی کی بیٹری چارج کرنے کے لئے پی ایچ ایف سرگرم

کراچی: پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سیکریٹری شہباز احمد سینئر نے ملک میں ہاکی لیگ کے انعقاد کو قومی کھیل کی بقا قرار دے دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ ہونے والے ورلڈ الیون کے دور ے کے بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ واضح رہے کہ آئندہ برس جنوری میں ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان متوقع ہے اور پی ایچ ایف ہاکی لیگ کے انعقاد کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ ایک انٹرویو میں پی ایچ ایف کے سیکریٹری شہباز احمد سینئر کا کہنا تھا کہ ہاکی لیگ سے اوسط درجے کے پاکستانی کھلاڑیوں کو بھی اچھی آمدنی ہو سکے گی جبکہ ان میں مزید محنت کے ذریعے اچھی کیٹگری میں شامل ہونے کی بھوک بھی بڑھ جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ انڈین ہاکی لیگ سے پڑوسی ملک کو بڑا فائدہ ہوا اور ان کی نیشنل ٹیم کافی مضبوط ہو گئی۔ امید ہے کہ مجوزہ لیگ سے پاکستان ہاکی پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ غیر ملکی کوچز اور اسٹاف کے لئے پی ایچ ایف کے پاس فنڈز نہیں تاہم ملک میں قومی کھیل کو فروغ دینے کے لئے محدود وسائل میں کام کر رہے ہیں۔ اگر ہاکی لیگ منصوبے کے تحت ہو گئی تو کھلاڑیوں کی نئی کھیپ سامنے آ سکتی ہے ۔ اولمپیئن سمیع اللہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ الیون کو بلا کر ملک کا امیج بہتر کرنے سے پاکستان ہاکی کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ پی ایچ ایف فنڈز کے غیر ضروری استعمال کے بجائے اگر رقوم کو کھلاڑیوں پر لگائے تو زیادہ فائدہ ہو گا۔ ایک سوال پر سابق کپتان کے مطابق وہ یہ نہیں کہتے کہ غیر ملکی کوچ قومی ٹیم کے لئے ناگزیر ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ فٹنس اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے غیر ملکی ٹرینر، ماہر غذائیت اور ویڈیو انالسٹ کی خدمات حاصل کرنا چاہئے۔ سمیع اللہ نے پی ایچ ایف کو مشورہ دیا کہ وہ مختلف کارپوریٹ اداروں سے اپنے تعلقات کو بہتر کرے تاکہ کھلاڑیوں کو ماضی کی طرح اچھی نوکریاں ملیں۔ اسی طرح ملک میں قومی کھیل کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پی ایچ ایف کو سب سے پہلے پاکستانی ٹیم کی ورلڈ رینکنگ کو بہتر کرنا ہو گا جو 13 درجے تک گر چکی ہے۔

loading...