اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

چین کے ساحل کے پاس فیری ڈوب گئی

پدماوتی کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں کے احتجاج میں اضافہ

پدماوتی کے خلاف انتہا پسند ہندوؤں کے احتجاج میں اضافہ

ممبئی: بولی وڈ ہدایت کار سنجے لیلا بھنسالی کی فلم پدماوتی جیسے جیسے اپنی ریلیز کے قریب آتی جا رہی ہے، ویسے ویسے انتہا پسند ہندو جماعتوں نے فلم کے خلاف احتجاج میں اضافہ کر دیا ہے۔ رواں سال یکم دسمبر کو ریلیز ہونے والی فلم پدماوتی چتور گڑھ کی رانی پدمنی کی کہانی ہے، تاہم فلم کی ٹیم پر کئی مرتبہ ایسا الزام عائد کیا گیا کہ ہدایت کار فلم میں رانی پدماوتی کے کردار کو غلط انداز میں پیش کریں گے۔ اور ایسا کرنے پر انتہا پسند ہندو جماعت شیو کرنی سینا نے سینما گھر جلانے کی دھمکی بھی دی۔ اس سے قبل بھی ایسی قیاس آرائیاں سامنے آئیں تھی کہ سنجے لیلا بھنسالی اپنی فلم میں رانی پدماوتی اور علاالدین خلجی کے درمیان نامناسب سین پیش کریں گے، یہ کردار دپیکا پڈوکون اور رنویر سنگھ ادا کرتے نظر آئیں گے۔تاہم بعدازاں فلم کی پروڈکشن کمپنی نے اپنے جاری کردہ بیان میں اعلان کیا کہ یہ جھوٹی افواہیں ہیں اور فلم میں ایسا کوئی نامناسب سین پیش نہیں کیا جائے گا۔تاہم ایک مرتبہ پھر اس قسم کی خبروں نے سنجے لیلا بھنسالی کو کافی پریشان کر دیا ہے، جس کے بعد انہوں نے اب اپنا ایک ویڈیو بیان بھی جاری کر دیا۔ ویڈیو میں سنجے لیلا بھنسالی کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے رانی پدماوتی کی کہانی سے متاثر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ فلم رانی پدماوتی کی قربانی کو خراج عقیدت پیش کرے گی۔ میں نے یہ فلم بے حد ایمانداری، ذمہ داری اور محنت سے بنائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند جھوٹی افواہوں کی وجہ سے میری فلم تنازعات کا شکار بنی، میں نے پہلے بھی اس بات کی وضاحت کی، لکھ کر دیا، اور اب اس ویڈیو کے ذریعے دوبارہ بتانا چاہتا ہوں کہ فلم میں ایسا کوئی نامناسب سین نہیں جس سے کسی کو تکیلف پہنچے۔ سنجے لیلا کے مطابق انہوں نے یہ فلم راجپوتی ثقافت اور ان کی عزت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کی ہے۔

loading...