اشاعت کے باوقار 30 سال

یمن کو دنیا کے سب سے بڑے قحط کا سامنا

یمن کو دنیا کے سب سے بڑے قحط کا سامنا

نیو یارک: اقوام متحدہ نے سعودی اتحاد سے یمن کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اس سے یمن کو بد ترین قحط کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق انڈر سیکریٹری جنرل مارک لوکاک نے یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیوں میں مصروف اتحاد پر زور دیا کہ وہ یمن کی ناکہ بندی ختم کرے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو یمن کے بارے میں بریفنگ دینے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے مارک لوکاک کا کہنا تھا کہ انھوں نے کونسل کو آگاہ کیا ہے کہ 'جب تک یمن کی ناکہ بندی ختم نہیں کی جاتی وہاں قحط ختم نہیں ہو گا۔ انھوں نے مزید کہا کہ'یہ دنیا میں گذشتہ کئی دہائیوں میں سب سے بڑا قحط ہو گا جو دسیوں لاکھوں افراد کو متاثر کرے گا۔ واضح رہے کہ سعودی فوجی اتحاد نے گذشتہ پیر کو یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے ریاض پر داغے جانے والے میزائل کو ناکارہ بنانے کے بعد یمن کے تمام فضائی، زمینی اور سمندری راستوں کو بند کر دیا تھا۔ سعودی عرب نے کہا ہے کہ یمن کی ناکہ بندی در اصل ایران کی جانب سے باغیوں کو ہتھیار فراہم کرنے سے روکنے کی کوشش ہے۔ ایران نے باغیوں کو ملسح کرنے کی تردید کی ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں اقوام متحدہ اور ریڈ کراس نے یمن کی صورتِ حال کو 'تباہ کن' قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے یمن کے دسیوں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو خطرہ ہے جو امداد پہنچانے والے اداروں پر انحصار کرتے ہیں۔ ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ اس کی روکی جانے والی امداد میں ملیریا سے بچاؤ کی گولیاں بھی شامل تھیں جس سے نو لاکھ افراد کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں جب کہ اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ70 لاکھ یمنی شہریوں کو قحط کا سامنا ہے۔

loading...