اشاعت کے باوقار 30 سال

بھا رت میں بھی سموگ سے نظام زندگی مفلوج

بھا رت میں بھی سموگ سے نظام زندگی مفلو ج

نئی دہلی: بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں فضائی آلودگی کی سنگین صورت حال کے پیش نظر ریاستی حکومت نے تمام پرائمری سکول بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ دلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسوڈیا نے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد کہا کہ صورت حال کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ سکولوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ بچوں کو باہر نہ کھیلنے دیں۔ دلی میں دھند چھائی ہوئی ہے اور لوگ سانس لینے میں دقت اور آنکھوں میں جلن کی شکایت کر رہے ہیں۔ دلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ہر سال دلی اس موسم میں ایک مہینے کے لیے گیس چیمبر میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ہم سب کو مل کر اس کا کوئی حل تلاش کرنا ہو گا۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ دلی میں آلودگی کی سطح کے پیش نظر پبلک ہیلتھ ایمرجنسی کا اعلان گیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لوگوں کو خاص طور پر صبح کے وقت ٹہلنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس وقت ہوا سب سے زیادہ آلودہ ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ آنکھوں میں جلن اور گلے میں خراش کی شکایت کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ مشکل بچوں اور بزرگوں کے لیے ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں تک ممکن ہو لوگوں کو ماسک کا استعمال کرنا چاہیے۔ نینشنل گرین ٹریبیونل نے یو پی، پنجاب اور ہریانہ کی حکومتوں سے پوچھا ہے کہ انھوں نے صورت حال کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے کیا اقدامات کیے تھے۔ دھند کی وجہ سے دلی ائر پورٹ پر کئی پروازوں میں تاخیر ہوئی ہے اور شمالی ہندوستان میں کئی ریل گاڑیاں بھی تاخیر سے چل رہی ہیں۔گذشتہ برس بھی دلی میں صورت حال اتنی خراب ہو گئی تھی کہ سانس لینا مشکل ہو گیا تھا۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ یہ صورت حال دیوالی کے موقع پر پٹاخوں کے استعمال اور ہریانہ پنجاب میں کھیتوں میں آگ لگائے جانے کی وجہ سے ہوئی تھی۔ اس کے بعد سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا کہ حکومت ہوا کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے منصوبہ تیار کرے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ تمام اقدامات ہوا خراب ہونے کے بعد کیے جاتے ہیں، اسے خراب ہونے سے روکنے کے لیے نہیں۔

loading...