اشاعت کے باوقار 30 سال

فیفا ورلڈ کپ 2018 کے دوران دہشت گردی کا خطرہ

فیفا ورلڈ کپ 2018 کے دوران دہشت گردی کا خطرہ

ماسکو : روس میں آئندہ سال ہونے والے فیفا ورلڈ کپ کے دوران دہشت گردی کا خطرہ ہے جس کے پیش نظر غیر معمولی اقدامات اٹھائے جائیں گے ۔ روس کے سلامتی امور کے ایک ماہر الیگزینڈر گولٹس کا کہنا ہے کہ 14 جون سے 15 جولائی 2018 تک ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران دہشت گردی کا خطرہ حقیقی طور پر موجود ہے۔ اس سے پہلے 20 سال تک روس کو شدید دہشت گردی کا سامنا رہا جب وہ چیچنیا میں دو مختلف جنگیں لڑ رہا تھا لیکن ستمبر 2015 سے جب روس نے بشار الاسد حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا دہشت گردی کے خطرات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ گولٹس نے فرانسیسی خبررساں ادارے کو بتایا کہ حکام تو دولت اسلامیہ کو تباہ کرنے کا دعوی کرتے ہیں لیکن ہزاروں روسی جو دہشت گردی میں ملوث رہے ہیں واپس روس آ رہے ہیں روسی خفیہ ادارے ایف ایس بی کے مطابق مسلم اکثریتی ممالک کے کیسس رپبلکس سے تعلق رکھنے والے 2900 روسی جنگجو اور 2000 سے 4000 کے درمیان وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے جنگجو ابھی روس میں موجود ہیں۔ ہر روز دولت اسلامیہ کی طرف سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ٹورنامنٹ کے دوران حملوں کی دھمکیاں دی جاتی ہیں جن میں اکثر کھلاڑیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی شامل ہوتی ہیں۔ لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ ایسی دھمکیاں محض توجہ حاصل کرنے کے لیے دی جاتی ہیں۔ تاہم حکام سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے خاموش ہیں روس کے ڈپٹی وزیر اعظم ویٹالے موٹکوکا کہنا ہے کہ سکیورٹی انتظامات کے لیے 30 بلین روبل (512 ملین ڈالر) مختص کئے گئے ہیں۔ اس سال جون میں ولادیمر پیوٹن نے ایک صدارتی حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں احتجاج کرنے، بغیر اجازت ان 11 میزبان شہروں میں داخلہ، اور ڈرائیونگ پر پابندی ہو گی اس کے ساتھ نو فلائنگ زونز بھی تشکیل دئے گئے ہیں مذکورہ صدارتی حکم نامے کا اطلاق 25 مئی سے 25 جولائی 2018 تک ہو گا۔قبل ازیں روس کے شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں اپریل میں ہونے والے دھماکے میں 15 افراد مارے گئے تھے جب کہ اگست میں سائبیریا میں چھری کے وار سے 7 افراد قتل کردئے گئے تھے اور اس واقعہ کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ اسی دوران حکام نے دہشت گردوں کے کئی ٹھکانے تباہ کرنے کا دعوی بھی کیا تھا ۔

loading...