اشاعت کے باوقار 30 سال

علاج اگر بزنس ہے تو کم از کم ڈھنگ سے کیجئے

یقیناکسی بھی کیلئے بھی باپ بننے کی خوشی سب خوشیوں سے بڑھ کر ہے اور پہلی مرتبہ باپ بننے کی خوشی کے کوئی الفاظ نہیں ہیں۔ مجھے بھی اللہ نے چند قبل ہی بیٹے کی نعمت سے نوازا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے نصیب، قسمت اور مقدر میں اپنی آسانیاں ‘خیر و برکت اور فضل عطا کریں، اس کو صحت والی لمبی زندگی دیں اور اس کو شیطان مردور کے شر، نظر اور حسد و جادوسے اپنی حفاظت میں رکھیں ۔
تاہم، یہ خوشیاں ہمارے مسیحا کیسے ٹینشن میں بدلتے ہیں، اس کیلئے میں آپ کواپنا تجربہ ہی سناتا ہوں۔ مجھے ڈاکٹرز نے 2نومبر کی تاریخ ڈلیوری کیلئے دی تھی تاہم میری والدہ کا کہنا تھا کہ چاند کی تاریخوں کے حساب سے 22اکتوبر کے بعد کبھی بھی اللہ تعالیٰ خوشخبری دیں گے۔ اسی وجہ سے میں اپنے اہم ترین دفتری امور بھی انجام دینے سے قاصر تھا اور میں ابراہیم سہیل کا مشکور ہوں کہ اُس نے میری بات کو سنا، سمجھااور میرے ساتھ غیر مشروط تعاون کیا۔ 22اکتوبر کی رات کو ہی میری بیگم کو زچگی کی تکلیف شروع ہو گئی تھی۔ اس سے قبل ہم نے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پرائیوٹ کلینک کی بجائے ہم کسی اچھے ہسپتال سے یہ کیس کروائیں گے ، کیونکہ یہ ہمارا پہلا بچہ تھا اور میں اس ضمن میں کوئی بھی رسک لینے کوتیا ر نہیں تھا۔اس پورے دورانئے میں میری بیگم کا چیک اپ علاقے کے بہترین پرائیوٹ کلینک سے ہوا تھا۔اب میری بیگم ایک جانب اپنی سہیلیوں سے اس حوالے سے پوچھ رہی تھی اور اُن کی رائے پر توجہ دے رہی تھی جبکہ دوسری جانب میں لاہور کے ہسپتالوں کو کھنگال رہا تھا۔ سرکاری ہسپتالوں میں تو اللہ کسی دشمن کو بھی نہ لے کر جائے۔ پرائیوٹ ہسپتالوں نے کیس لینے سے انکار کرنا شروع کر دیا کہ چونکہ آپ نے ہمیں چیک اپ نہیں کروایا ہے لہذا ہم آخر میں یہ کیس نہیں لیں گے ۔ سب کرنے کے بعد ہماری نگاہ انتخاب لاہور کے معروف ہسپتال ’مڈ سٹی ہسپتال، جیل روڈ‘ ٹھہری۔ اس کے بارے میں کافی کچھ سن رکھا تھا لیکن اس کے باوجود میرا دل کسی خطرے سے گھبراتا بھی تھا۔ آغاز کے دو چیک اپ اور ایک آخری چیک اپ اسی ہسپتال سے تھا تو اُنہوں نے اس کیس کو قبول کرنا ہی تھا۔ میں اس ضمن میں اللہ سے بھی دعا کر رہا تھا کہ جو میری بیگم اور ہونے والے بچے کے حق میں بہترہے وہی ہو۔
تکلیف شروع ہونے کے بعد ہم صبح مڈ سٹی پہنچے تو شاید اتوار کی وجہ سے وہاں عملہ کم تھا، میں نے ایمرجنسی میں موجود ایک نرس کو کہا کہ اِن کو لیبر روم میں لے کر جانا ہے ۔ ہم لیبر روم پہنچے تو سینئر ڈاکٹرز ابھی وہاں موجود نہیں تھے۔ میں باہر راہداری میں بیٹھا تھا جبکہ میری والدہ اور میری سب سے بڑی سالی اندر میری بیگم کے ساتھ گئیں تھیں ۔ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرز نے اُس کو دیکھا اور کہا کہ ابھی وقت ہے لہذا اس کو زچگی کی تکلیف لینے دیں، انشااللہ دوپہر کو دو تین بجے تک آپ صاحب اولاد کو جائیں گے ۔ استفسار پر انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ انشااللہ بچہ نارمل ہی ہوگا۔
میری بیگم نے تکلیف لینا شروع کی ۔ یہ دس پوائنٹس ہوتے ہیں اور اگر 6پوائنٹس بھی ہو جائیں تو نارمل ڈلیوری کے چانسز نوے فیصد ہو جاتے ہیں۔ صبح دس سے دوپہر دو بجے تک میری بیگم 4پوائنٹس سے آگے جاچکی تھی اور ہم سب کو یہ یقین تھا کہ نارمل ڈلیوری ہی ہوگی ۔ ڈاکٹر جہاں آراء اس ہسپتال کی سینئر ڈاکٹر ہیں، اُن سے اُن کے عملے کا رابطہ بھی تھا۔ میں نے اپنی بیگم کو ایپی ڈرل لگانے کی اجازت دی۔ یہ ایک انجکشن ہوتا ہے جو نارمل ڈلیوری کی صورت میں لگایا جاتا ہے ، تاہم یہ انجکشن ریڑھ کی ہڈی میں لگتا ہے ۔ یہاں تک سب کچھ نارمل تھا اور ڈاکٹر بھی کہ رہے تھے کہ بس ابھی نارمل طریقے سے بچہ پیدا ہو جائے گا۔ ہم سب بھی مطمئن تھے۔ اب یہاں سے صورتحال تبدیل ہونا شروع ہوئی۔ اچانک ہی سینئر ڈاکٹرز نے کہنا شروع کر دیا کہ نارمل ڈلیوری کے امکانا ت کم ہیں اور اب اس کا سی سیکشن ہوگا۔ یہ بات میرے لئے بھی پریشان کن تھی۔ میری بڑی سالی ، جن کو سب ہی احترام اور محبت میں باجی کہتے ہیں، اُن کے ماشااللہ پانچ بچے ہیں۔ وہ ان مراحل سے گزر چکی ہیں لہذااُن کو سمجھ آ رہی تھی کہ ڈاکٹرز کیا کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نہیں، ڈلیوری تو نارمل ہی کرنی ہے، آپ اس کیلئے کوشش کیجئے ۔ ڈاکٹرز حضرات ڈر کا کاروبار کرناخوب جانتے ہیں۔ انہوں نے مجھے ڈراناشروع کر دیا۔انہوں نے کہا کہ آپ کی بیگم کی جان اب خطرے میں ہے اور بچے کی ہارٹ بیٹ بھی کم ہو رہی ہے ، ہم ایسی صورت میں رسک نہیں لے سکتے ہیں، لہذا سی سیکشن کرنا ہوگا۔ میں نے اُن کو کہا کہ آپ دکھائیں تو یہاں سے ٹال مٹول شروع ہو گئی، فون پر سینئر ڈاکٹرز سے بات کروائی تو انہوں نے بھی یہی کہا لیکن اس کے باوجود بھی کسی مشین پر ایسا کچھ بھی نہیں دکھایا گیا۔ میری بیگم چونکہ شدید تکلیف میں تھی، لہذا میں نے اللہ کا نام لیتے ہوئے سی سیکشن کی اجازت دے گی۔ باجی اُس وقت بھی کہ رہی تھیں کہ یہ سی سیکشن جان بوجھ کر رہے ہیں۔ بچہ نیچے کی جانب آ رہا ہے اور اُس کے پوائنٹس بھی بہتر ہو رہے ہیں، اس کے ساتھ موجود ڈاکٹر ز بھی کہ رہے تھے کہ نارمل ہوگا لیکن بعد میں سب نے ہی کہنا شروع کر دیا ہے کہ سی سیکشن کرنا ہوگا۔
سی سیکشن ہوا، اللہ نے مجھے بیٹے کی نعمت سے نوازا۔ رات کو مجھے میری کزن ڈاکٹر مائدہ کی کال موصول ہوئی۔ ڈاکٹر مائدہ گائنی کی ڈاکٹر ہیں اور کیوبا کی بہترین یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔اس سارے دورانیے میں میری بیگم کو کنسلٹنسی بھی انہوں نے فراہم کی ہے اور اُن کی فنگر ٹپس پر سب کچھ تھا، ڈاکٹر مائدہ کے مطابق بھی یہ نارمل کیس تھا ،بعد ازاں ا نہوں نے ساری بات کو غور سے سنا اور کہا کہ ڈاکٹر ز نے پیسے کے لالچ میں نارمل ڈلیور ی کو سی سیکشن میں تبدیل کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ کیسے؟ تو انہوں نے کہا کہ جب نارمل تکلیف شروع ہوتی ہے تو تب ہی انداز ہ ہوجاتاہے کہ سی سیکشن ہوگا یا نارمل ہوگا۔ آپ کو ڈاکٹرز نے کہا تھا کہ نارمل ہوگا اور اسی لئے انہوں نے ایپی ڈرل کا انجکشن دیا تھا۔ آپ کی بیگم کو تکلیف بھی قدرتی طریقے سے ٹھیک آ رہی تھیں اور پوائنٹس بھی 6کی حد سے آگے جا چکے تھے۔ ایسی صورت میں سی سیکشن تب ہوتا ہے جب یا تو بچے کی ہارٹ بیٹ بند ہو رہی ہواور یا آپ کی بیگم مزید تکلیف برداشت کرنے کے قابل نہ ہو۔ یہ صورتحال بھی نہیں تھی تو تیسرا معاملہ یہ ہوتا ہے کہ بچہ ماں کے پیٹ بھی ہی پاخانہ کر دے تو ایسا بھی نہیں تھا اور بچے کی پوزیشن بھی ٹھیک تھی تو کیسے انہوں نے سی سیکشن کر دیا؟ جب سب کچھ ٹھیک جا رہا تھا تو کیسے انہوں نے سی سیکشن کردیا؟ جب اُن کے پاس کوئی معقول وجہ نہیں تھی تو کیسے انہوں نے آپریشن کیسے کیا؟اگر آپریشن ہی کرنا تھا تو پھر نارمل زچگی کی تکلیف کیوں دی؟ یہ وہ سوالات تھے جن کے جوابا ت میں ڈاکٹرز آئیں بائیں شائیں کرنے لگے تھے۔ جب میری بیگم ہوش میں آئیں اور گفتگو شروع کی تو انہوں نے بتایا کہ اُن کی جونیئر ڈاکٹرز تو کہ رہی تھی کہ یہ نارمل کیس ہے اور سینئرز نے اس کو سی سیکشن کا شور شروع کیا تھا۔ اب خدا بہتر جانے کہ حقیقت حال کیا ہے لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ڈاکٹرز کے لالچ کی وجہ سے میری بیوی اس وقت شدید تکلیف میں ہے ۔ اب جب حالات کا تجزیہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ نہ کوئی ہارٹ بیٹ کا مسئلہ تھا، نہ سانس کا، نہ بلڈ پریشر اور نہ کچھ اور، کیونکہ اگر ایسا کچھ ہوتا تو جیسے ایپی ڈرل لگانے سے قبل ڈاکٹرز نے ’بمعہ ثبوت‘ مجھ سے انجکشن کی اجازت لی تھی، اب کی وفعہ بھی وہ ثبوت لازمی دیتے۔ میرے بیٹے کے سر پر دباؤ کا نشان موجود ہے، اگر بچہ نیچے کی جانب نہیں آ رہا تھا تو کیا دباؤ فرشتے ڈال گئے ہیں؟ میں نے وہ دباؤ کئی ڈاکٹرز کو دکھایا ہے اور انہوں نے کہا ہے کہ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ بچہ قدرتی طریقے سے کافی نیچے آ چکا تھا اور اس کا مطلب یہ تھا کہ نارمل ڈلیوری ممکن تھی۔ اب کیا آپ کے ڈاکٹرز مریخ سیپریکٹسکر کے آئے تھے کہ باقی ڈاکٹرز جھوٹے اور آپ کے سچے؟؟ ویسے اطلاع کیلئے عرض ہے کہ اس کا انکشاف آپ ہی کے ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے کیا تھا کہ بچے کے سر پر یہ نشان اس وجہ سے ہے کہ وہ قدرتی طریقے سے آخری حد تک نیچے آ چکا تھا۔
چلیں سی سیکشن بھی کر دیا تاہم اُس کے بعد ہسپتال کا عملہ اس حد تک فارغ تھا کہ اللہ کی پناہ۔ مڈ سٹی لاہور کے مہنگے ترین ہسپتالوں میں شمار ہوتا ہے ۔ ہم نے پرائیوٹ روم لینے کو ترجیح دی تو روم کی حالت دیکھ کر میرا دما غ خراب ہوگیا ۔ انہوں نے اُسی ٹائم کمرے کو صاف کیا، اس کے بعد ہم نیچے چلے گئے کہ سامان وغیرہ لیکر کمرے میں آ جائیں۔جب ہم اوپر آئے تو وارڈ بوائے کا کوئی اتا پتا نہیں تھا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ میں ، میری والدہ، وہاب بھائی اور میری سالیاں سامان لیکر راہداری میں کھڑی ہیں اور وارڈ بوائز میں سے کوئی نہیں آ رہا۔ ریسیپشن والے ایک دوسرے پر ڈال کر بری الذمہ ہو رہے ہیں تاہم کمرے کی چابی نہیں آ رہی ہے ، وہی کمرہ جس کی صفائی ابھی دو منٹ پہلے میں نے کروائی تھی۔ یہاں آکر میرا صبر جواب دے گیا اور میں نے اُن کے سامنے پنجابی کے پہاڑے پڑھے ، جس پر فوری طور پر وارڈ بوائے بھی بھاگا ہوا آیا، چابی بھی حوالے کی اور لگے معافیاں مانگنے۔ میں نے استقبالیہ پر واضح الفاظ میں کہا کہ آپ کیلئے ہم ’کسٹمرز‘ ہیں ، ہم ابھی اندر جاتے ہی ہیں کہ آپ لوگ کہتے ہیں کہ پہلے ایڈوانس جمع کروائیں،علاج بعد میں شروع ہوتا ہے تو کم از کم اپنی سروس تو ٹھیک کیجئے۔ کمرے میں آ ئے، واش روم کھولا تو بدبو کا ایک بھبوکا میری ناک سے ٹکرایا، فوری استقبالیہ کو کہا تو انہوں نے واش روم صاف کیا تاہم اُس میں موجود ٹوکری وہی موجود رہی، اس ٹوکری میں بلڈ بیگز، سینٹری پیڈز اورنا جانے کیا تھا۔ میری بیگم جب واش روم سے باہرآئیں تو انہوں نے مجھے کہا کہ ٹوکری بھی گندی ہے ۔اب پھر استقبالیہ نے اپنی شان میں اضافہ کروایااور ٹوکری کو صاف کیا۔ آپ ستم دیکھئے، اِنہوں نے حفاظتی انجکشن کا بھی اپنا ہی شیڈول رکھا ہوا ہے، یہ حفاظتی انجکشن پیدائش کے فوراً بعد لگتے ہیں اور اِس حوالے سے ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی گائڈ لائنز واضح موجود ہیں۔ انہوں نے ایک انجکشن لگا کر باقی کیلئے 8دن بعد کی تاریخ دی۔ میں نے اس ضمن میں لاہور کے ہی دیگر ہسپتالوں اور ڈاکٹرز سے رابطہ کیا تو اُن کا متفقہ فیصلہ تھا کہ یہ مڈ سٹی ہسپتال نے یہ حرکت صرف پیسہ بنانے کیلئے کی ہے، درحقیقت یہ حفاظتی انجکشن حکومت کے کسی بھی سنٹر سے لگ سکتے ہیں، جو کہ بالکل مفت ہوتے ہیں اور حکومت کا یہ منصوبہ ڈبلیو ایچ او کی براہ راست نگرانی میں ہے ۔ مڈ سٹی والوں سے رابطہ کیا تو اُنہوں نے کہا کہ آپ بچہ لے آئیں، ہم اِس کو انجکشن لگا دیں گے جبکہ فیس کی بابت اُن کا کہنا تھا کہ ’صرف‘ 2ہزار روپے اس کام کی فیس ہو گی۔میں نے اپنے علاقے کے قومی توسیعی پراگرام برائے حفاظتی ٹیکہ جات کے مرکز سے رابطہ کیا تو وہاں سے موجود شخص نے ہمیں کارڈ بنا کر دیا اور بتایا کہ یہ شیڈول کے مطابق لگنے ہیں۔ کوئی پیچھے مڈ سٹی سے کہ یہ کس اتھارٹی سے باپ کا راج بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں؟ جب یہ بات سیدھی سی ہے کہ پیدائش کے بعد ہی تمام انجکشن لگنے ہیں اور اُس 6ہفتے کے بعد دوسرا کورس ہوگا تو اِنہوں نے کیسے اور کس طرح سے پیدائش کے محض 8دن بعد انجکشن لگانے کی تاریخ دی؟ اس کا سادہ سا مطلب ہے کہ پیدائش پر مکمل انجکشن نہیں لگائے گئے تھے تاکہ بعد میں انجکشن لگا کر مزید پیسے اینٹھے جا سکیں۔ یہ کیا وائٹ کالر کرائم نہیں ہے؟ ان میں اور ڈاکوؤں میں کتنا فرق ہے؟
مڈ سٹی ہسپتال میں سب ہی اپنی مجبوری سے تھے، تاہم سب ہی اس بات پر سخت نالاں تھے کہ جب یہ اتنے مہنگے علاج کر رہے ہیں تو حرکتیں کسی عام سے ہسپتال والی کیوں ہیں، کسی کے واش رومز میں مچھر ہیں تو کوئی عملے کے رویے سے نالاں ہے، کسی کو ڈاکٹرز کے رویے سے شکایت ہے تو کوئی معاون عملے سے گلہ رکھتا ہے۔ جب آپ سروسز ہی ٹھیک نہیں دے سکتے ہیں تو دو لاکھ روپے کس بات کے لیتے ہیں؟ ’برانڈ نیم کے‘؟؟ چلیں ، آپ کو سی سیکشن سے اتنی ہی محبت ہے ، کیونکہ پیسے کمانے کا آسان ترین ذریعہ یہی ہے تو کم از کم ’سروسز‘ ہی ٹھیک دے دیں۔ ریٹس آپ نے فائیو اسٹار ہوٹلز والے رکھے ہوئے ہیں اور سروسز آپ کی ماجھے کے ڈھابے سے بھی گئی گزری ہے ۔ چلیں ہم نے مانا کہ ہم آپ کے کسٹمرز ہیں اور غور کریں تو کسٹمر کے نام میں ہی ’مر‘ لکھا ہے لیکن آپ کیوں ہمیں اتنا بد ظن کرتے ہیں کہ ہم مجبور ہو کر آپ کے سٹاف کو اُس کی ’اعلیٰ خدمات‘ پر ’سراہیں‘۔۔۔؟؟کیا یہ ضروری ہے کہ جب کوئی احتجاج کرے گا تو ہی آپ کے کانوں پر جوں رینگے گی؟ آپ کے ہسپتال میں آنے والی سب ہی ’آسامیاں‘ ہوتی ہیں جو کہ ویل کنیکٹڈ ہوتی ہیں لیکن اُس کے باوجود جیسے آپ اُن سب کی مجبوریوں کا فائدہ اُٹھاتے ہیں، اُس پر کوئی شرم ؟ کوئی حیا؟؟؟ پوری دنیا میں آپریشن کے بعد کے ٹانکے مفت میں کھولے جاتے ہیں لیکن آپ کے ہسپتال میں اُس کے بھی پیسے ہیں، پاکستان بھر میں ویکسینشن مفت ہے لیکن آپ کے ہسپتال میں اِ سکے بھی ٹھیک ٹھاک پیسے وصول کئے جاتے ہیں۔ ادھر مریض اندر علاج کیلئے جاتا ہے اور اُدھر آپ کا ’حکم ‘ آتا ہے کہ استقبالیہ سے جا کر فوری فائل بنوائیں ۔ جب ہم پے منٹ ایڈوانس میں کر رہے ہیں تو سروسز کا معیار ہی ٹھیک کر لیں۔ ویسے اتنی عرض کر دیجئے کہ جب ہسپتال میں صرف دکھاوے کی صفائی ہے، بجلی کے بورڈز تک کھلے ہیں، نکلوں سے پانی بہہ رہا ہے اور عملہ آپ کا انتہائی ’قابل‘ ہے تو آپ پیسے کس بات کے وصول کر رہے ہیں؟ ہم نے تسلیم کیا کہ ہم کسٹمرز ہیں، لیکن کیا آپ اپنی ’سروسز‘ اچھی کر سکتے ہیں کیونکہ بزنس کا بنیادی اصول تو یہی ہے۔