اشاعت کے باوقار 30 سال

طلاق کی وجہ بننے والی عادات

 طلاق کی وجہ بننے والی عادات

لندن: جب کوئی شوہر یا بیوی دوسرے فریق سے طلاق کا مطالبہ کر دے تو اس فریق کو اس پر حیران نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی شخص طلاق کا فیصلہ یک لخت نہیں کرتا، دوسرے فریق کی کچھ مخصوص عادات کا ایک تسلسل ہوتا ہے جو اسے اس فیصلے پر مجبور کرتا ہے۔ ہر میاں بیوی کو اپنی ان عادات پر گاہے گاہے غور کرتے رہنا چاہیے تاکہ دوسرا فریق اس تلخ فیصلے پر مجبور نہ ہونے پائے۔ ازدواجی تعلقات کے ماہرین نے میاں بیوی کی یہ مخصوص عادات اپنی نئی تحقیقاتی رپورٹ میں بیان کی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ماہرین انڈیا کنگ اور ایرنی کروگ نے تحقیقاتی نتائج میں بتایا ہے کہ شوہر یا بیوی کی بعض مخصوص عادات ہوتی ہیں جس سے مخالف فریق اس قدر تنگ آ جاتا ہے کہ وہ علیحدگی کا فیصلہ کر لیتا ہے، لیکن ان بری عادات کے مالک فریق کو ان کا احساس اسی وقت ہو پاتا ہے جب برا دن آ چکا ہوتا ہے۔
ان مخصوص بری عادتوں میں کسی ایک فریق کا بے جا دوسرے فریق سے شکایات کرتے رہنا اور مسلسل اس پر تنقید کرنے کے بہانے ڈھونڈتے رہنا، جنسی تعلق سے احتراز برتنا، اپنے شریک حیات پر دوسروں کو ترجیح دینا، دوسرے کے سامنے شریک حیات کی برائی کرنا، شریک حیات پر غلبہ پانے اور اسے اپنے کنٹرول میں کرنے کی کوشش کرنا، ازدکی زندگی کی وجہ سے اپنے مشاغل ترک کر دینا، شریک حیات کی حدود اور شخصی آزادی کا احترام نہ کرنا، شریک حیات سے کبھی اظہار تشکر نہ کرنا، ہر وقت کڑھتے اور منہ بسورے رہنا شامل ہیں۔ یہ 9 بری عادتیں ایسی ہیں کہ جس مرد یا عورت میں ہوں اس کا شریک حیات لا محالہ اس سے علیحدگی پر غور کرنے لگتا ہے اور بالآخر اس پر مجبور ہو جاتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا ازدواجی تعلق خوشگوار اور طویل ہو تو غور کیجیے کہ کہیں آپ میں یہ عادات تو موجود نہیں ہیں۔ اگر ہیں تو انہیں دور کرنے کی کوشش کیجیے۔

loading...