اشاعت کے باوقار 30 سال

روس کا تباہ کن ایٹمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ

روس کا تباہ کن ایٹمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ

ماسکو: روس نے نئے ایٹمی بیلسٹک میزائل، سیٹن ٹو کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جو 12 جوہری ہتھیار ایک ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق روسی فوج نے تربیتی مشقوں کے دوران اپنے نئے تباہ کن ایٹمی بیلسٹک میزائل کا تجربہ کیا ہے، جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ میزائل کسی بھی ملک کو ایک ہی حملے میں صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔ تجربے کے دوران میزائل نے 5 ہزار 793 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔ بیلسٹک میزائل کو ’آر ایس 28 سرمٹ‘ بھی کہا جاتا ہے، یہ 12 جوہری ہتھیار ایک ساتھ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اس میزائل کا وزن 100 ٹن ہے اور یہ میزائل ہیروشیما اور ناگاساکی پر گرائے گئے امریکی ایٹم بم سے 2 ہزار گنا زیادہ تباہ کن ہے اس سے قبل روس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس امریکا سے زیادہ خطرناک تمام بموں کا باپ ہے، یہ تھرمو بیرک غیر جوہری بم اپنے اندر 44 ٹن دھماکہ خیز مواد رکھتا ہے اور اس کی تباہی کا دائرہ کار ایک ہزار فٹ تک ہو سکتا ہے۔ سنہ 2007 میں تیار کیے جانے والا یہ بم غیر جوہری ہے اور تابکار مادوں و شعاعوں کا اخراج نہیں کر سکتا، تاہم یہ بم ہلاکت خیزی میں کہیں آگے ہے اور یہ فضا میں موجود آکسیجن کو استعمال کرتے ہوئے اپنے ٹارگٹ کو بھاپ بنا کر اڑا سکتا ہے، عمارتوں کو بالکل ملیا میٹ کر سکتا ہے، اور وقفے وقفے سے سماعت شکن دھماکوں کا باعث بن سکتا ہے۔

loading...