اشاعت کے باوقار 30 سال

افغانستان میں ہنٹ اینڈ کِل آپریشن کا آغاز

افغانستان میں ہنٹ اینڈ کِل آپریشن کا آغاز

واشنگٹن: امریکی میڈیا کے مطابق طالبان جنگجوں کو نشانہ بنانے کے لیے امریکی سی آئی اے نے افغانستان میں ہنٹ اینڈ کِل یا شکار آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ سی آئی اے کے ڈائریکٹر مائیک پومپیو نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ کابل حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر دباو ڈالنے سے قبل امریکا جنگ کے میدان میں طالبان کو شکست دینا چاہتا ہے، یاد رہے کہ یہ بات 21 اگست کو امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کی گئی نئی افغان حکمت عملی کا اہم حصہ بھی ہے۔ گذشتہ ہفتے واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک کو پومپیو نے بتایا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ واضح کیا تھا کہ افغانستان میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے ہمیں جو کچھ کرنا پڑا وہ کریں گے ساتھ ہی طالبان کو اس کی قطعی امید نہیں ہونی چاہیے کہ وہ یہ چیز جنگ کے میدان میں چیت سکتے ہیں۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) انتہائی ماہر افسران اور ٹھیکیداروں پر مشتمل چھوٹی ٹیمیں ملک بھر میں بھیجے گی جس کا مقصد طالبان جنگجوں کا شکار کرنا ہے۔ دیگر میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ ٹیمیں افغان فورسز کے ساتھ کام کریں گی تاہم ان کے ساتھ امریکی فوجی موجود نہیں ہوں گے۔ مذکورہ رپورٹس میں دعوی کیا گیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں جاری 16 سالہ جنگ کو ختم کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات میں سی آئی اے کو کردار میں لازمی اضافے کا فیصلہ کیا ہے، یہ جنگ امریکا کی اب تک کی سب سے طویل ترین جنگ ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ جیسا کہ ایجنسی افغانستان اور پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں میں ملوث جبکہ جنگ کے میدان میں وہ القاعدہ کے خلاف کوششوں میں مصروف ہے اور افغان انٹیلی جنس سروسز کو مدد فراہم کر رہی ہے لیکن اب واشنگٹن نے فیصلہ کیا ہے کہ اسے اب ایک بڑا کردار ادا کرنا ہو گا۔ مذکورہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی فوج بڑے پیمانے پر آپریشن پر توجہ مرکوز کرے گی اور سی آئی اے کا پیراملٹری ڈویژن یہ شکار آپریشن کرے گا، جبکہ ایجنسی افغانستان میں موجود داعش کے جنگجوں کے خلاف لڑ رہی ہے۔ سی آئی اے کے کردار میں اس اضافے سے ایجنسی کے نئے ڈائریکٹر مائیک پومپیو کا عالمی طور پر عسکریت پسندی کے خلاف جارحانہ کردار ظاہر ہوتا ہے۔ ایجنسی افغانستان میں ڈرون حملوں کے اپنے پروگرام میں پہلے ہی توسیع کا ارادہ رکھتی ہے، اس کے علاوہ وہ پاکستان میں بھی کارروائیوں میں ملوث ہے جبکہ شام اور یمن میں بھی کبھی کبھی ڈرون حملے کرتی ہے۔

loading...