اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

جونز ٹاؤن میں اجتماعی خود کشی

جارج بش کے کہنے پر حماس کی مخالفت بہت بڑی غلطی تھی

جارج بش کے کہنے پر حماس کی مخالفت بہت بڑی غلطی تھی

لندن: برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے کہا ہے کہ 2006 میں فلسطین میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں تحریک حماس کی بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی کے بعد عالمی سطح پر اس کا بائیکاٹ جاری رکھنا بہت بڑی غلطی تھی۔ برطانوی میڈیا کے مطابق سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اعتراف کیا کہ عالمی رہنماؤں کی طرف سے 2006 کی بعد حماس سے قطع تعلق نہیں کرنا چاہیے تھا، کیونکہ حماس کو فلسطینی عوام نے اپنی نمائندہ جماعت منتخب کیا تھا۔ خیال رہے کہ ٹونی بلیئر نے 2006 میں اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کے فیصلے کی حمایت کرتے ہوئے فلسطین میں حماس کی قیادت میں قائم ہونے والی 10ویں کابینہ کو تسلیم نہ کر کے غلطی کی تھی۔ صدر بش نے کہا تھا کہ جب تک فلسطینی حکومت گروپ چار کی شرائط جن میں اسرائیل کو تسلیم کرنا، تشدد ترک کر کے سابقہ معاہدوں کو تسلیم کرنا شامل تھا پر عمل درآمد نہیں کرتی تب تک فلسطینی حکومت کی امداد بند کر دی جائے گی۔ برطانوی صحافی ڈونلڈ ماسنیٹیر کو دئے گئے ایک انٹرویو میں ٹونی بلیئر نے کہا کہ حماس کو مذاکرات کی میز پر لاتے ہوئے حماس کے مؤقف کو تبدیل کرنا ہو گا۔ مجھے یقین ہے کہ مستقبل قریب میں ایسا ممکن ہو گا۔ سابق برطانوی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ بہت مشکل کام ہو گا کیونکہ اسرائیل کے شدت پسند حماس کے ساتھ معاہدے کی حمایت نہیں کریں گے مگر ہمیں فریقین میں معاہدے کے لیے سر توڑ کوششیں کرنا ہوں گی۔ اس سے قبل ٹونی بلیئر حماس کے مندوبین کے ساتھ 2007 میں بی بی سی کے نامہ نگار آلان جونسن کے اغوا کے دوران خفیہ رابطوں میں رہے ہیں۔ جونسن کو ایک انتہا پسند گروپ نے یرغمال بنا لیا تھا۔رپورٹ کے مطابق ٹونی بلیر نے حماس اور اسرائیل کے درمیان فائر بندی کے لیے حماس کے سیاسی شعبے کے سابق سربراہ خالد مشعل کے ساتھ چھ بار ملاقات کی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی کی ناکہ بندی کے باعث حماس کو ایران کے مزید قریب کر دیا تھا۔

loading...