اشاعت کے باوقار 30 سال

خوراک کا عالمی دن اوراقوام متحدہ کی رپورٹ

خوراک کا عالمی دن اوراقوام متحدہ کی رپورٹ
تحریر میاں نصیراحمد
خوراک کا عالمی دن جس کا مقصد بھوک فاقہ کشی اور خوراک کی ناکافی فراہمی کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے، جس کا مقصد پیٹ بھرے لو گوں کو اس با ت کا احساس دلانا ہے ،کہ اپنی اس خوش نصیبی میں دوسروں کو برابر کا شریک سمجھیں۔پاکستان میں بھی لا کھ افراد بنیادی سہولتوں سے بھی محروم ہیں،دنیا بھر میں ورلڈ فوڈ ڈے کا آغاز انیس سو اناسی سے ہوا، جس کا مقصد دنیا سے خوراک کی قلت کا خاتمہ کرنا ہے عالمی اداراہ فوڈ نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ دو ہزار سولہ تک دنیا سے بھوک اور غربت میں کمی واقع ہوجائیگی مگر دوسال پہلے غر بت کی نچلی تر ین سطح پر گزر بسر کر نے والوں کی تعداد ایک ارب سے بڑھ کردو ارب پر پہنچ چکی ہے بھوک کا شکار افراد کی تعداد میں تشویشناک اضافہ ہوگیا ہے ۔ یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ دنیا جدید ہونے پر فخر کر رہی ہے ،جبکہ جدید دنیا میں عوام کی کثیر تعداد بھوک و پیاس کا شکار ہے ۔گلوبل ہنگر انڈیکس کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں اسی کروڑ سے زیادہ افراد دو وقت کی روٹی سے محروم ہیں، جن میں بائیس ممالک ایسے ہیں، جو شدید غذائی بحران کا شکار ہیں، ان میں سے سولہ ممالک میں قدرتی آفات کی وجہ سے غذائی بحران بڑھا،دنیا بھر کا جائزہ لیا جائے تو بھوک کی شرح سب سے زیادہ ایشیاء کے ممالک میں ہے، پاکستان کی 20کروڑ سے زائد آبادی میں سے پانچ کروڑ افراد ایسے ہیں، جنھیں پیٹ بھرکر روٹی میسر نہیں،جبکہ دنیا بھر میں آنے والے خوراک کے بحران نے پاکستان کو بھی شدید متاثر کیا ہے، جس کی وجہ سے ملک میں غذائی عدم تحفظ اور بھوک کے شکار افراد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔پاکستان میں ایسے لوگ، جن کے پاس صحت مند اور اچھی زندگی گزارنے کے لیے خوراک موجود نہیں، ان کی تعداد اڑتالیس فیصد تک پہنچ گئی ہے اور پاکستان میں سیلاب نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا ہے اور اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق مزید پچاس لاکھ لوگ غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں،اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے تحت ہر سال عالمی یوم خوراک منایا جاتا ہے۔انیس سو اناسی میں اس ادارہ کی بیس ویں جنرل کانفرنس میں یہ دن باقاعدہ طور پر منانے کی منظوری دی گئی۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک میں عالمی یوم خوراک منایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر خوراک کی پیداوارمیں اضافہ کرناہے ۔ غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان ان چھ ممالک میں شامل ہوگیا ہے جن کی ساٹھ فیصد آبادی کو خوراک ضرورت سے کم ملتی ہے۔ پاکستان کی سترہ کروڑ سے زائد آبادی میں سے پانچ کروڑ افراد ایسے ہیں جنھیں پیٹ بھر روٹی میسر نہیں۔جبکہ پانچ سال سے زائد عمر کے ایک لاکھ پانچ ہزار بچے سیلاب کے بعد شدید قحط کا شکار ہیں،عالمی یوم خوراک کے مسئلہ سے متعلق عوام میں بیداری پیدا بنیادی مقصد ہیں ، تاکہ بھوک ،ناقص غذا اور غربت کے خلاف جدوجہد میں اتحاد کو مستحکم کرنے کیلئے کام کیاجاسکے، اقوام متحدہ کے ممبر ممالک عالمی یوم خوراک کے طور پر مناتے ہیں اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد عالمی سطح پر خوراک کی پیداوار میں اضافہ کرنا ہے، ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے کل 70 کروڑ 95 لاکھ سے زائد افراد بھوک کا شکار ہیں، پاکستان 118ممالک کی فہرست میں11ویں نمبر پر موجود ہے جس کی کل ابادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے ،غورطلب بات یہ ہے کہ حکومتی اقدامات محض کاغذوں تک محدود ہیں غربت کے خاتمے کے لیئے اقدامات ناگزیر ہیں، دنیا کی ابادی سات ارب چالیس کروڑ (7.4 بلین) ہوچکی ہے، اقوام متحدہ کے نئے اندازوں کے مطابق 2050 تک دنیا کی ابادی بڑھ کرنو ارب سترکروڑ (9.7 بلین) تک پہنچ جائے گی، اور اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ آبادی کے عالمی گروتھ ریٹ میں کمی ہوئی ہے جو دس سال قبل 1.24 فیصدتھی جبکہ اب 1.18 فیصد ہے،اس وقت پاکستان کی آبادی 20 کروڑ کے قریب ہے جبکہ 2030 تک آبادی 24 کروڑ 40 لاکھ ہونے کا امکان ہے، اقوام متحدہ کے نئے اندازوں کے مطابق 2050 تک پاکستان ان ممالک میں شامل ہوگا جن کی آبادی 30 کروڑ سے زائد ہوگی ۔یہاں پر سب سے زیادہ غور بات یہ ہے کہ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ایک بڑی تعداد اس کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں مثلاًکینسر اور دیگر کا شکار ہوتی ہے ،تمباکو کے علاوہ دیگر روایتی فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی نہ صرف کسانوں کی مالی معاونت کا باعث بنے گی بلکہ اس سے ملک میں خوراک کے عدم تحفظ کے مسئلے کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی ۔ انٹرنیشنل فوڈ پالیسی ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے بھوک کا شکار ممالک کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ادارے کی جانب سے گلوبل ہنگر انڈیکس 2016ء میں مختلف ممالک کے لوگوں کو خوراک کی دستیابی کی صورتحال کے مطابق انہیں صفر سے 100 پوائنٹس کے درمیان تقسیم کیا گیا ہے۔پاکستان 118 ممالک میں 11ویں نمبر پر ہے اور اس کے 33.4 پوائنٹس ہیں، پاکستان سے صرف 11 ملک ایسے ہیں جہاں بھوک کا شکار لوگوں کا تناسب زیادہ ہے۔ رپورٹ بتایا گیا ہے، کہ دنیا کے کل 70 کروڑ 95 لاکھ افراد بھوک کا شکار ہیں،2008 میں پاکستان کے پوائنٹس 35.1 تھے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اب یہاں بھوک میں کمی کچھ کم ہوئی ہے۔لیکن درجہ بندی سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی غذا کی قلت کے شکار ممالک میں پاکستان تشویشناک صورتحال سے دوچار ممالک میں شامل ہے،پاکستان میں کل ابادی کا 22 فیصد حصہ غذا کی کمی کا شکار ہے اور 8.1فیصد بچے پانچ سال سے کم عمر میں ہی وفات پا جاتے ہیں،افغانستان کا نمبر 8واں جبکہ بھارت کا نمبر 22واں ہے۔بھارت ،نائیجریااور انڈونیشیا ء سمیت 43 ممالک بھی تشویشناک کیٹیگری میں شامل ہیں۔2016 کے انڈیکس کے مطابق 7ممالک میں بھوک کی صورتحال خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ان میں صحارا، وسطی افریقہ، چاڈ، میڈاگاسکر، سیرالیون اور زمبیا شامل ہیں،بتایا گیا ہے کہ2000 سے لے کر اب تک بھوک کی شرح میں 29 فیصد کمی ہوئی ہے اور اس وقت صورتحال یہ ہے کہ کوئی بھی ترقی پذیر ملک غذائی قلت کی وجہ سے شدید خطرے سے دوچار نہیں اور13 ممالک ایسے ہیں جہاں سے ڈیٹا اکھٹا نہیں کیا جا سکا ان میں سے دس ممالک ایسے ہیں جہاں بھوک و افلاس کی صورتحال شدید خطرناک ہے، ان میں شام، سوڈان اور صومالیہ شامل ہیں،118 ممالک میں سے نصف ایسے ہیں جو بھوک کے شکار ہونے والوں میں خطرناک صورتحال میں شامل ہیں اورادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2030 تک دنیا سے بھوک کا خاتمہ کرنے کا ہدف تب ہی حاصل ہوسکتا ہے جب سیاسی طور پر اس کے حصول کی کوشش کی جائے اور جنگ و جدل کا خاتمہ ہو۔ پاکستان میں محض بھوک کے خاتمے اور لوگوں کو روزگار کی فراہمی کے بلند و بانگ دعوے صرف سیاسی بنیادوں پر کیئے جاتے ہیں، لیکن اقتدار میں اکر حکمران غریب کی غربت اور بھوک کا احساس نہیں کرتے نہ ہی روزگار کی فراہمی کے لیئے اقدامات کیئے جاتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرکہ بے روزگاروں کوکھپایا جائے یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان میں تقریبا32,470ایکڑ رقبہ تمباکو کے ز یرکاشت ہے اورچالیس ہزار سے زائد افراد اس کی کاشت سے وابستہ ہیں۔ دنیا بھر میں تمباکو کی صنعت ڈھکے چھپے طریقے سے تمباکو کی کاشت کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے جبکہ دوسری طرف ملک میں تمباکو نوشی کے باعث مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ہر سال ایک لاکھ سے زائد افراد تمباکو نوشی کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں اور ایک بڑی تعداد اس کے باعث پیدا ہونے والی بیماریوں مثلاًکینسر اور دیگر کا شکار ہوتی ہے ،تمباکو کے علاوہ دیگر روایتی فصلوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی نہ صرف کسانوں کی مالی معاونت کا باعث بنے گی بلکہ اس سے ملک میں خوراک کے عدم تحفظ کے مسئلے کو ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی آج دنیا میں بہت زیادہ لوگ بھوک کا شکار ہیں، ان کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنا ہوگا اور اس بات کی ضمانت حاصل کرنی ہوگی کہ ان میں سے کوئی بھی دوبارہ بھوک کا شکار نہ ہو۔ پاکستان میں مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے، جس کے باعث کروڑوں پاکستانی غربت اور قیط جیسی صورتحال سے دو چار ہیں پاکستان ان ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں غیر مستحکم ہونے کی وجہ سے خوراک کو بحران پایا جاتا ہے ،اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خوراک کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور یہ مہنگائی میں اضافے کا سبب ہیں مسئلہ یہ ہے کہ صرف سیلاب ذدگان کو خوراک یا بھوک کا مسئلہ درپیش نہیں بلکہ اس سے پوری آبادی متاثر ہوئی ہے یہاں پربڑی غور طلب بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان خوراک کی وافر دستیابی کو یقینی بنانے کے لئے کسان دوست پالیسیاں متعارف کرانے پر توجہ دے.

Author: