اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

پہلے ہوائی جہاز کی پرواز

پاکستان غیر ملکی قرضے میں کیوں ڈوب گیا۔؟

پاکستان غیر ملکی قرضے میں کیوں ڈوب گیا۔؟
بلاگ۔ میاں نصیراحمد
پاکستان جب وجود میں آیا تو معاشی لحاظ سے بہت کمزور تھا، ساری معیشت کا انحصار زراعت پر تھا اور زراعت بھی جدید طریقہ سے نہیں کی جاتی تھی، جسکی وجہ سے پیداوارا تنی زیادہ نہیں تھی، کہ اسے غیر ملکی منڈیوں میں بیچ کر زرمبادلہ کمایا جا سکے، اور اس وقت ایک امریکی ڈالر تین پا کستانی روپے کے برابر تھا،پھر بھی پاکستان کے لوگوں کو جو روکھی سوکھی ملتی اس پر صبر وشکر کرلیتے تھے ان کی خواہشات اتنی زیادہ نہیں تھی۔
جیسے جیسے وقت گزرتا گیا پاکستان کی معیشت ترقی کرتی گئی اور پاکستان کے لوگ کا رجحان صنعتوں کی طرف بڑھتا گیا ،جس سے پیداور میں اضافہ ہوتا گیا اورپاکستان غیر ملکی زرمبادلہ کمانے لگا، اور اس کے ساتھ ساتھ عوام کی خواہشوں کادائرہ بڑھتا گیا اور وہ دوسرے ملکوں سے چیزیں منگوانے لگے جس سے ادائیگیاں وصولیوں سے بڑھتی گئی اور پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہوتی گئی لیکن پھر بھی غیر ملکی سرمایا کاری سے ا ن ادائیگیوں کے تناسب کو کم کر نے میں بہت مد د ملی ،کیونکہ ان کی نظر میں پاکستان جیسا ملک سرمایاکاری کے لیے بہت اہم تھا۔
لیکن پاکستان کی سیاسی ہل چل نے غیر ملکی سرمایا کاروں کو بہت مایوس کیا ،جس کی وجہ سے انہوں نے اپنی سرمایا کاری پاکستان کی بجائے دوسرے ملکوں میں کرنا شروع کر دی
جیسے جیسے غیر ملکی سرمایا پاکستان کی معیشت سے نکلا پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں مزید کم ہوتی چلی گئی، حکومت کی ناکام پالیسوں اور غلط فیصلوں نے ملک میں سکیورٹی خدشات پیدا کر دیے جس سے ملک میں انرجی کی قلت پڑ گئی ،صنعتوں کا پیہ جام ہو گیا، ملکی پیداوار کم سے کم ہوتی گئی۔
ملکی پیداوار میں کمی کے باعث پاکستان کے لوگوں نے اشیاء دوسرے ممالک سے منگوانا شروع کر دی جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی آگئی اور اس کمی کو پورا کر نے کے لیے غیر ملکی قرضے لیے جانے لگے پاکستان نے ترقی تو بہت کی ، بڑے بڑے شاپنگ مال بن گئے موٹر وے بن گئی بڑے بڑے گھر بن گئے لیکن جب قرضوں کی ادائیگی کا وقت آیا تو مزید قرضے لینے پڑ گئے جس سے پاکستانی روپیہ کی قدر ڈالر کے مقابلے میں کم ہوتی گئی اور نوبت اس بات تک پہنچ گئی ہے۔
کہ ہر پاکستانی قرضے میں ڈوب گیا اور اس قرضے کی ادائیگی بہت مشکل ہوگئی ہے یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ پاکستان کا مجموعی غیر ملکی قرضہ 85 کھرب روپے سے زائد ہے جبکہ مقامی قرضوں کی مد میں 131 ارب روپے ادا کرنے ہیں۔واضح رہے کہ حکومت مالیاتی خسارے میں چل رہی ہے لہذا ملکی قرضہ واپس کرنے کے لیے مقامی مارکیٹ سے نئی شرائط پر دوبارہ قرضہ لیا گیا۔
مالی سال 2013 سے جنوری 2016 کے دوران حکومت نے 10 ارب73 کروڑ ڈالر کا غیر ملکی قرضہ واپس کیا ہے جس میں سے 4 ارب 41 کروڑ روپے عالمی مالیاتی فنڈ کو قرضے کی مد میں چکائے گئے ہیں پاکستان کے ذمے مجموعی واجب الادا بیرونی قرض 53 ارب 40 کروڑ ڈالر ہے۔موجودہ حکومت برسراقتدار آئی تو یہ قرضے 48 ارب دس کروڑ ڈالر تھے۔ موجودہ حکومت کے دور میں بیرونی قرضوں میں پانچ ارب 30 کروڑ ڈالر کا اضافہ ہوا۔ گذشتہ پانچ برسوں کے دوران بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے مجموعی طور پر 72 ارب 86 کروڑ ڈالر وطن بھجوائے ہیں۔
جبکہ سال 2014۔2015 میں ترسیلات زر کی مد میں 18 ارب 72 کروڑ ڈالر بھجوائے گئے ہیں،یاد رہے کہ پاکستان میں قرضوں سے متعلق قانون سازی کے مطابق ملک کا مجموعی قرضہ خام ملکی پیداوار یعنی جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تجاوز نہیں کر سکتا ہے۔لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بیرونی قرضوں کی بوجھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اگر قرضے لینے کا رجحان ایسے ہی جاری رہا اور کوئی ٹھو س اقدامات نہ کیے گئے۔
تو موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے تک قرضوں کا حجم خام ملکی پیداوار کے 65 فیصد تک پہنچ جائے جو ملک کی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ثابت ہوگاپاکستان نے گذشتہ برس میں 50 کروڑ ڈالرز کے یورو بانڈز تاریخ کی بلند ترین شرح سود 8.25 فیصد پر جاری کیے تھے جبکہ اسی عرصے میں نایجیریا اور سری لنکا سمیت دیگر ممالک نے 5 سے 6 فیصد کی شرح سود پر یورو بانڈز جاری کیے تھے حکمرانوں نے پاکستان کی آنے والی نسلوں کو بھی قرضے میں جکڑ دیا ہے۔
آج تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کمی کے باوجود مہنگائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے، یہاں بڑ ی غور طلب بات یہ بھی ہے کہ جن کاموں کے لیے باری مقدار میں قرضہ لیا جارہا ہے ان سے عوام کو بھی فائدہ ہو رہا ہے یا حکمران اسے اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ملک میں گرم بازاری کا دور شروع ہوگیا ہے۔ غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر تر جس سے ملک میں بے روز گاری کی شرح میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
آج ہم بات کرتے ہیں پاکستان نے بہت ترقی کی ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ آج ایک ڈالر 105پاکستانی روپے کے برابر ہوگیاہے جو کہ کبھی تین پاکستانی روپے کے برابر تھاہماری عوام کو مصنوعی ترقی تو دیکھا دی جا تی ہے ،لیکن حقیقت اس کے بر عکس ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری حکومت مستقل بنیادوں پر پاکستان کی ترقی کے لیے فیصلے کرے جس سے پاکستان کے ہر شہری کو یکساں فائدہ حاصل ہو۔
میرانام میاں نصیراحمدہے اورمیرا تعلق پنجاب کے شہرلاہور سے ہے
میڈیا کی آواز اور چند دوسرے اخبارات میں ایڈیٹر کی خدمات سر انجام دے چکا ہوں
پیشہ: صحافی و کالم نگار
www.facebook.com/miannaseerofficials

Author: