اشاعت کے باوقار 30 سال

ملاوی میں ’آدم خوروں‘ کے باعث کرفیو نافذ

ملاوی میں ’آدم خوروں‘ کے باعث کرفیو نافذ

نیو یا رک: جنوبی ملاوی میں آدم خوروں جیسا برتاؤ کرنے کے الزام میں کم از کم پانچ افراد کو ہلاک دیا گیا ہے۔ ملک کے جنوبی حصے میں آدم خوروں کے باعث خوف پھیلنے کے بعد اقوام متحدہ نے دو اضلاع میں سے اپنے عملے کے ارکان کو نکل جانے کا کہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ان افراد کو تحفظ کرنے والے ہجوم نے کالا جادو کرتے ہوئے انسانوں کا خون پینے کے شبہے میں مارا۔ حکومت کی جانب سے مزید ہلاکتوں کو روکنے کے پیش نظر رات کے وقت کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کرفیو کے دوران دن میں صرف صبح سات بجے سے شام پانچ بجے تک ہی باہر نکلنے کی اجازت ہو گی۔ اقوام متحدہ کا ایک رپورٹ میں کہنا تھا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آدم خوروں کے حوالے سے یہ افواہیں موزمیبیق سے شروع ہوئیں اور ملاوی کی سرحد تک پھیل گئیں۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آخر یہ خوف و ہراس پھیلا کیسے لیکن خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں کے رہائشیوں نے ’آدم خوروں‘ کو پکڑنے کے لیے سڑک پر ناکہ بندی کر رکھی تھی۔ اسی بنا پر اقوام متحدہ نے اپنے عملے کے ارکان کو کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ملاوی کے صدر پیٹر موتھریکا نے ان ہلاکتوں کی تحقیقات کرنے کا کہا ہے۔ ان کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ معاملہ ساری حکومت کے لیے انتہائی باعث تشویش ہے۔ خیال رہے کہ ملاوی دنیا کے غریب ترین ممالک میں سے ایک ہے اور یہاں کئی امدادی ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں کام کرتی ہیں۔

loading...