اشاعت کے باوقار 30 سال

نواز شریف مارشل لاء لگوانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں

نواز شریف مارشل لاء لگوانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں

پشاور: تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان نے کہا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف فوج اور سپریم کورٹ پر حملے کے لئے (ن) لیگ کو استعمال کر رہے ہیں، منی لانڈرنگ کا جرم ثابت ہونے پر بیرون ملک ان کی اربوں روپے کی جائیدادیں اور اثاثے منجمد ہو جائیں گے جنہیں وطن واپس لایا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما نے کہا کہ اس وقت وفاقی حکومت مفلوج ہے اور ایک نااہل شخص کو بچانے اور پروٹوکل میں لگی ہے، ایسا قانون منظور کیا گیا جس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ چور ہو یا ڈاکو کوئی بھی شخص پارٹی کا سربراہ بن سکتا ہے، نواز شریف مارشل لاء لگوانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، (ن) لیگ سپریم کورٹ پر کھلا حملہ کر رہی ہے، جبکہ عدلیہ پر حملہ جمہوریت پر حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کی بیرون ملک اربوں روپے کی پراپرٹی ہے۔ انھیں ڈر ہے کہ اگر ثابت ہو گیا تو ساری پراپرٹی فریز ہو کر پیسہ پاکستان آئے جائے گا۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ نواز شریف فوج اور عدلیہ پر حملہ کر رہے ہیں، اب وہ الیکشن نہیں لڑ سکتے۔ چیئرمین نیب کی تقرری کے سوال پر انہوں تھا کہ نواز شریف، آصف زرداری اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ پر کرپشن کے مقدمات ہیں۔ کرپشن کے مقدمات ہوتے ہوئے وہ کیسے چیئرمین نیب منتخب کر سکتے ہیں۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقہ جات میں اس وقت کوئی نظام نہیں، جنگ کی وجہ سے پرانا نظام ختم ہو گیا ہے، خصوصا وزیرستان کے حالات بہت زیادہ خراب ہیں، وہاں عمارتیں نہیں اور آئی ڈی پیز کو سر چھپانے کے لیے پناہ گاہ میسر نہیں، لوگوں کے گھر مویشی تباہ ہو چکے ہیں، فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں، صوبائی حکومت اس سلسلے میں انتظامی و معاشی طور پر تیار ہے، فاٹا میں ترقیاتی کاموں کے لیے بلدیاتی نظام کے ذریعے فنڈز تقسیم کیے جائیں گے۔چیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ مجھے خطرہ ہے کہ فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کا موقع ضائع کیا جا رہا ہے، وفاق اس سلسلے میں اقدامات نہیں کر رہا، فاٹا سیکرٹریٹ کرپشن کا اڈہ ہے، قبائلی علاقوں کو ان کے حصے کا پیسہ ملتا ہی نہیں، اربوں روپے کی اسمگلنگ ہوتی ہے، پولیٹکل ایجنٹس کی تعیناتی کے لیے کروڑوں روپے دیے جاتے ہیں، چوکیاں بکتی ہیں اور اربوں روپے کی کرپشن کی جاتی ہے، اسی وجہ سے قبائلی علاقوں کے لوگ پیچھے رہ گئے ہیں، حکومت 2023 تک فاٹا کا انضمام موخر کرنا چاہتی ہے جس کے نتیجے وہاں کے لوگ مزید پیچھے چلے جائیں گے۔ چیرمین پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا کہ فاٹا کے انضمام کا سلسلہ ابھی سے شروع کیا جائے جو 2018 تک مکمل ہو جائے تاکہ قبائلی نمائندے صوبائی اسمبلی میں پہنچیں اور اپنی بات کہہ سکیں، 2004 کے بعد قبائلی علاقوں کے ساتھ جو سلوک ہوا ان کی آواز سننے والا کوئی نہیں تھا، ایک طرف سے ان پر ڈرون حملے دوسری طرف سے فوجی آپریشن ہو رہا تھا اور بیچ میں قبائلی پھنسے ہوئے تھے، ان کی آدھی آبادی بے گھر ہو گئی، آئی ڈی پیز کی کوئی شنوائی نہیں، فاٹا کو ضم کرنے میں تاخیر سے کرپٹ مافیا کو فائدہ پہنچے گا اور دشمنوں کو انتشار پھیلانے کا موقع ملے گا۔

loading...