اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

معمر قذافی کو ہلاک کر دیا گیا

جو کہتے تھے میں نہیں آؤں گا وہ دیکھ لیں میں آ گیا ہوں

جو کہتے تھے میں نہیں آؤں گا وہ دیکھ لیں میں آ گیا ہوں

کراچی: پیپلز پارٹی کراچی ڈویژن کے صدر ڈاکٹر عاصم حسین نے حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دوغلے لوگ ہیں ان کے قول و فعل میں فرق ہے، نواز شریف ملک کو توڑنا چاہتے ہیں اور خطے میں 200 سال پہلے والا نوابوں کی حکمرانی کا دور واپس لانا چاہتے ہیں۔لندن واپسی پر کراچی ایئرپورٹ پر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ ن لیگ والے ملک کو 200 سال پیچھے لے کر جانا چاہتے ہیں،ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی پاکستان بچایا ہے اب بھی پاکستان بچائیں گے، یہ ملک تمہارا نہیں 20 کروڑ عوام کا ہے۔سابق وزیر پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ ہماری سیاست پاکستان کی بقا کے لیے ہے، ہم پاکستان سے بھاگنے والوں میں سے نہیں۔پیپلز پارٹی کراچی نے کہا کہ جو کہتے تھے میں نہیں آؤں وہ دیکھ لے میں آ گیا ہوں، جنہوں نے میرے خلاف جھوٹے مقدمات بنوائے وہ خود مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ڈاکٹر عاصم کا مزید کہنا تھا کہ وہ عسکری قیادت کے ساتھ کھڑے ہیں۔سابق وزیراعظم نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے دیگر رہنماؤں کی جانب سے ملک کے عسکری اداروں کو مبینہ طور پر تنقید کا نشانہ بنانے کے حوالے سے ڈاکٹر عاصم حسین نے نواز شریف کو تجویز دی کہ عسکری قیادت کے ساتھ لڑنا اچھا نہیں۔انہوں نے نااہل قرار دیئے جانے والے وزیراعظم پر الزام لگایا کہ نواز شریف پاکستان کو توڑنا چاہتے ہیں اور زمین کے ایک حصے پر حکمرانی کرنے کے خواہاں ہیں۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا کہ نواز شریف خطے میں 2 سو سال پرانے دور حکمرانی پر دوبارہ عمل کروانا چاہتے ہیں، ’جہاں نواب حکمرانی کیا کرتے تھے‘۔خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے بعد ڈاکٹر عاصم حسین کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ ( ای سی ایل) سے نکال دیا گیا تھا جس کے بعد وہ علاج کے سلسلے میں لندن روانہ ہوئے تھے۔عدالت نے اپنے حکم میں کہا تھا کہ ڈاکٹر عاصم ایک مہینے بعد علاج کرا کے واپس آجائیں۔ عدالت نے ان کی ضمانت 60 لاکھ روپے میں منظور کی تھی۔سندھ ہائیکورٹ نے 29 مارچ کو ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منظور کی تھی جس کے بعد انہیں 31 مارچ کو رہا کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ ڈاکٹر عاصم کو رینجرز نے دہشت گردوں کے علاج و معالجے کی سہولت کے الزام میں گرفتار کیا تھا جب کہ ان پر 479 ارب روپے کی کرپشن کا بھی الزام ہے جس میں ان کے خلاف نیب نے ریفرنس دائر کیا۔