اشاعت کے باوقار 30 سال

آنگ سان سوچی سے ’ فریڈم آف آکسفورڈ‘ ایوارڈ چھین لیا گیا

 آنگ سان سوچی سے ’ فریڈم آف آکسفورڈ‘ ایوارڈ چھین لیا گیا

لندن۔ سٹی آف آکسفورڈ کی طرف سے میانمار کی رہنما آنگ سان سوچی کو دیا گیا ’ فریڈم آف آکسفورڈ‘ ایوارڈ چھین لیا گیا۔ میانمار کی فوج کے ذریعہ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف بالکل خاموشی اختیار کرنے کی پاداش میں ان سے یہ اعزاز چھن گیا۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آنگ سان سوچی سے یہ اعزاز واپس لینے کی وجہ روہنگیا مسلمانوں پر برمی فوج کے مظالم اور قتل عام پر خاموشی اختیار کرنا اور حکمراں جماعت کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے ظلم و زیادتی کے اس سلسلے کو نہ روکنا ہے۔ سوچی کو یہ اعزاز جمہوریت کے لیے طویل جدوجہد کرنے پر 1997 میں دیا گیا تھا تاہم آکسفورڈ سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ اب سوچی اس اعزاز کو اپنے پاس رکھنے کی اہل نہیں رہیں۔ خیال رہے کہ میانمار کی ریاست راکھائن میں 25 اگست سے شروع ہونے والی کشیدگی میں اب تک سیکڑوں مسلمان جاں بحق ہو چکے ہیں اور 5 لاکھ کے قریب افراد بنگلہ دیش ہجرت کر چکے ہیں۔ میانمار میں نومبر 2015 میں نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی حکومت قائم ہوئی تھی اور آنگ سان سوچی اس پارٹی کی سربراہ ہیں۔ اس سے قبل روہنگیا مسلمانوں پر مظالم کے خلاف آواز نہ اٹھانے پر آکسفورڈ یونیورسٹی نے اپنے مرکزی دروازے سے آنگ سان سوچی کی تصویر ہٹالی تھی جب کہ سوچی سے امن کا نوبیل انعام واپس لینے کی مہم بھی چل رہی ہے۔