اشاعت کے باوقار 30 سال

گجرات میں بی جے پی اسمبلی الیکشن ہار سکتی ہے

گجرات میں بی جے پی اسمبلی الیکشن ہار سکتی ہے

احمد آباد۔ گجرات میں دسمبر کے پہلے ہفتہ میں اسمبلی الیکشن ہونے کا امکان ہے۔ ایسے میں تمام جماعتوں نے انتخابات جیتنے کے لئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ کچھ دن پہلے راہل گاندھی نے گجرات کا دورہ کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے کسانوں اور تاجروں سے ملاقات کی اور جی ایس ٹی اور نوٹ بندی سمیت کئی مسائل پر بی جے پی حکومت کو نشانہ بنایا۔ وہیں امت شاہ نے بھی اسمبلی انتخابات میں 150+ نشستیں حاصل کرنے کے اپنے ہدف تک پہنچنے کی کوشش شروع کر دی ہے۔ گجرات میں بی جے پی 1995 سے اقتدار میں ہے۔ وزیر اعظم مودی کے گجرات چھوڑنے کے بعد، آنندی بین پٹیل اور اب وجے روپانی کو وزیر اعلی بنایا گیا ہے۔ بی جے پی کا دعوی ہے کہ اس انتخاب میں وہ تمام پرانے ریکارڈوں کو توڑ دے گی۔ لیکن سیاست کی ہوا کے رخ کو پہلے سے ہی بھانپنے والے شرد پوار کو لگتا ہے کہ اس بار تصویر گجرات میں بدل سکتی ہے۔ یہاں پر بی جے پی ہار سکتی ہے۔ اس کے لئے کانگریس سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں کو انتخاب لڑنے کے لئے صحیح حکمت عملی کے ساتھ متحد ہونے اور پوری طاقت جھونک دینے کی ضرورت ہے۔
شرد پوار نے کہا، "گجرات میں بی جے پی کو شکست دینے کے لئے ایک سنہری موقع ہے۔" گجرات میں کانگریس کے ساتھ این سی پی اتحاد میں الیکشن لڑنا چاہتی ہے۔ لیکن اب تک دونوں جماعتوں کے درمیان رسمی طور پر اتحاد کے لئے بات چیت شروع نہیں ہوئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ دو جماعتوں کے اعلی رہنماؤں کے بیچ مذاکرات جلد ہی شروع ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کی مانیں تو لگاتار پانچ بار اسمبلی الیکشن جیتنے والی بی جے پی کے لئے راستہ اس بار مشکل ہے۔ شرد پوار کہتے ہیں کہ بی جے پی کے خلاف حکومت مخالف لہر زبردست ہے۔ بے روزگاری ، کسانوں کی خودکشی اور مہنگائی کے مسئلہ پر ملک کے دیگر حصوں کی طرح گجرات کے لوگوں میں بھی ناراضگی ہے۔ پاٹیداروں کے آندولن کی وجہ سے بی جے پی کی فکرمندیاں پہلے سے ہی بڑھی ہوئی ہیں۔ پاٹیدار لیڈر ہارڈک پٹیل نے پچھلے دنوں ٹویٹ کر کے راہل گاندھی کے گجرات آنے کا خیر مقدم کیا تھا۔ اس سے یہ اشارہ ملا ہے کہ پاٹیدار اس بار کانگریس کے ساتھ آ سکتے ہیں۔

loading...