اشاعت کے باوقار 30 سال

کینیڈین نسل منشیات کے ہاتھوں موت کے منہ میں جانے لگی

کینیڈین نسل منشیات کے ہاتھوں موت کے منہ میں جانے لگی

ٹورنٹو: گزشتہ سال افیون سے بننے والی مختلف قسم کی نشہ آور ادویات کے مقدار سے زیادہ استعمال کے نتیجہ میں کم از کم 2816 کینیڈین باشندے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے یہ تعداد سال رواں میں 3000 سے تجاوز کر سکتی ہے۔ کینیڈا کے چیف پبلک ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر تھریسا ٹم کے مطابق نشہ آور ادویات کے استعمال نے کینیڈین نوجوانوں میں وباء کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کینیڈا کے مغربی صوبے اس وبا کا بری طرح شکار ہوئے ہیں جہاں وینکوور بی سی میں 978 جب کہ صوبہ البرٹا میں 536 افراد کی موت واقع ہوئی ہے۔ مشرقی حصوں میں بھی زیادہ مقدار میں نشہ آور ادویات کے نتیجہ میں مرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی طرح انٹاریو میں 865 افراد جب کہ نوواسکوشیا میں 53 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر تھریسا ٹم نے اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا کا کوئی حصہ بھی نشہ آور ادویات کے زیادہ استعمال سے محفوظ نہیں رہا اور یہ اب بہت بڑا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مرنے والوں کی عمریں 30 اور 40 سال کے درماین ہیں جو خاص نشہ آور ادویات کے استعمال سے موت کے منہ میں چلے گئے۔