اشاعت کے باوقار 30 سال

آج کا دن تاریخ میں

عورت کامقام اسلامی نقطہ نظر سے

عورت کامقام اسلامی نقطہ نظر سے
تحریر میاں نصیراحمد
اسلامی نقطہ نظر سے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے چاہے کوئی یہ بات سمجھے یا نہ سمجھے مگر حقیقت تو یہ ہے, کہ اسلام میں عورت کو بہت ہی بلند و بالا مقام دیا گیا ہے, ایک معاشرے کے اندر مرد اور عورتوں کے درمیان برابری کی طرف پیش قدمی ایک بہتر معاشرہ کے قیام کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہے یہ حقیقت انسان کی ایک بنیادی اکائی ہے اور محض ایک ایسی پسندیدہ صورت حال نہیں جسے معاشرے کی بہبودکے لئے قائم کیا جائے جب اللہ کے رسول صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا سب سے زیادہ بہتر سلوک کا حق دار کون ہے, تو آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ماں، دوسری دفعہ بھی آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیری ماں اور تیسری دفعہ بھی فرمایا تیری ماں۔ جب چوتھی دفعہ پوچھا گیا تو آپ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تیرا باپ اور قران حکیم اس طرح مساوی طور پر مردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے کا رفیق مددگار بن کر کام کرنے کی ہدایت کرتا ہے، تاکہ معاشرے میں استحکام پیدا ہو یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ ہے کہ ہم خود دیکھ چکے ہیں کہ خواتین کے میدان عمل میں آنے سے معاشرتی اور اخلاقی برائیوں کا خاتمہ ہوتا ہے اور ایک تعلیم یافتہ عورت معاشرہ میں ماں کا کردار ادا کرتی ہے اور اپنے بچوں کی بہترین تعلیم کا سبب بنتی ہے مسلم معاشرہ اور اس کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والی فلاحی مملکت کی تشکیل تعلیم یافتہ ماؤں کے بغیر ناممکن ہے آپ بہ آسانی معاشرے میں یہ دیکھ سکتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی تعلیم و تربیت میں ماں کیا کردار ادا کرتی ہے آپ آج خواتین کو تعلیم سے محروم کردیجئے معاشرہ، تعلیمی اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہو کر دور جاہلیت میں واپس چلا جائے گاہمارے معاشرے میں عورت کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے اسے زندگی کے ہر رشتے میں مسائل برداشت کرنے پڑتے ہیں ان میں سب سے اہم یہ ہی کہ مرد کو عورت پر ترجیح دی جاتی ہے پہلے اسے کم تری کا احساس دلایا جاتا ہے شادی کے بعد اسے شوہر کے ظلم سہنے پڑتے ہیں خواتین کو ہمارے معاشرے میں اسلام سے ملنے والے وراثتی حق سے بھی محروم کر دیا جاتا ہے یہاں پر بڑی غور طلب بات یہ بھی ہے کہ معاشرے کے اہم پہلو و تعمیر میں عورت ایک خاص مقام رکھتی ہے اسلامی نقطہ نظر سے علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے لیکن آج بھی دیہاتی طبقہ لڑکیوں کو حصول تعلیم کی اجازت نہیں دیتا ہمارے ملک میں شرح خواندگی بہت کم ہے اس کی اہم وجہ تعلیم نسواں پر عدم توجہ ہے اور اسی طرح پہلے عورت کو بس گھریلو کام کاج کے لائق سمجھا جاتا تھا اور انہیں ملازمت کے لائق نہیں سمجھا جاتا تھا مگر آہستہ آہستہ لوگوں کی سوچ میں تبدیلی آئی اور انہیں ماننا پڑا کہ عورت زندگی کے ہر شعبے میں اپنا نام منوا رہی ہے اور مرد کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے اور اگر ہم دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کے برابر کھڑا ہونا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں اپنے سماج میں عورت کو اس کا اصل مقام دینا ہوگا,عورت بیشک رب کائنات کی انسانی تخلیق کی سب سے اہم اکائی ہے عورت ہو یا مرد جب تک اپنا اصل مقام اور اپنی اپنی حدود پہچانتے ہوئے فرائض ادا کرتے رہیں گے انسان کا انسان پر اعتبار قائم رہے گا اورہمارے معاشرے میں عورت کی سوچ اور فکر کی تازگی کے لیے سازگار ماحول کا ہونا انتہائی ضروری ہے, اسلام میں بیوی کے حقوق شوہر کے فرائض اور شوہر کے حقوق بیوی کے فرائض قرار پائے ہیں لیکن ہمارے ہاں اب بھی بیوی کو گھر کی نوکرانی سمجھا جاتا ہے، اس تصور کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے یہاں پر قابل غور بات یہ ہے کہ اسلام میں عورت پر شوہر کی طرف عائد فرائض میں یہ ہے کہ وہ اسے جب اپنی خواہش نفسانی پورا کرنے کے لئے بلائے اس کی تعمیل کرے، اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر کی حفاظت کرے اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نہ نکلے اور اپنی عصمت کی حفاظت کرے اور البتہ اگر وہ اپنے گھر کا کام کاج کرتی ہے تو یہ اس کا اخلاقی فریضہ ہے اور اگر شوہر اپنی بیوی کو سہولت دینے اور اس کی صحت کا خیال کرتے ہوئے اس کے لئے نوکر چاکر کا انتظام کرے یا اس کی مدد کرے تو یہ اس کا حسن سلوک ہوگا جسے اسلام پسند کرتا ہے, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک عورت کا وجود کتنی اہمیت کا حامل تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا راز نبوت بھی ایک عورت سے بیان فرمایا اور قربان جائیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے ایمان و ایثار پر جنہوں نے نبوت کی تصدیق بھی سب سے پہلے کی اور سیرت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سب سے پہلی راوی بھی حضرت خدیجہ قرار پائی اور ایک عرصہ تک حضور علیہ السلام کے معاش میں حضرت خدیجہ کا مال تجارت اور دولت ہی شامل رہا اس سے ثابت ہوتا ہے اسلام کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے والی بھی ایک عورت یعنی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا تھیں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہاخود بہت بڑی تاجرہ تھیں اور حضور علیہ السلام نے ان کے لئے کاروبار کرنے پر کوئی قدغن نہیں لگائی تھی لیکن آج کے دور میں معاشرے میں عورتوں کے حقوق غصب کیے جارہے ہیں اوران کوان کا جائز حق نہیں دیا جارہا جس کے لیے وہ تمام مرد قصور وار ہیں جو ایسا کر رہے ہیں اور بے شک اس کی سزا انہیں اللہ تعالیٰ کی عدالت میں ضرور ملے گی مگر اس کے ساتھ ہی یہ بھی نا جائز ہوگا کے عورت بلا ضرورت اپنی بنیادی ذمہ داری چھوڑ کر مردوں کے کام کرنا شروع کر دے اور اگر ہم اپنے معاشرے میں اسلامی احکامات پر مکمل طور پر عمل پیراہوں تو انشا اللہ ہمارا معاشرہ ٹھیک ہو جائے گا اور یہ ملک خوشحالی اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے

Author: