اشاعت کے باوقار 30 سال

اف یہ مارننگ شوز

اف یہ مارننگ شوز

’’ساره! ذرا ایک کپ چائے تو بنا دو،‘‘ امی کی آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی۔ اور اگر نہیں پہنچ رہی تھی تو وہ ساره کے کان تھے کیونکہ وه ٹیلی ویژن کے آگے تیز آواز میں مارننگ شو دیکھ رہی تھی اور اِس حد تک مشغول تھی کہ جب امی نے آ کر آنکھوں کے آگے ہاتھ ہلایا تو اسے ہوش آیا۔ سارہ نے چونک کر ماں کی جانب دیکھا اور ٹی وی کا والیوم کم کر دیا۔ ’’جب سے تمہارا کالج ختم ہوا ہے روز صبح اِن فضول مارننگ شوز کے آگے بیٹھ جاتی ہو۔ نہ ناشتے کا ہوش نہ ہی کسی اور کام کا، ایک چائے کا کپ بھی مانگ لو تو مجال ہے کہ تمہارے کانوں پہ جوں بھی رینگ جائے،‘‘ امی نے سارہ کی کلاس لے ڈالی۔ ’’اوہ! امی آپ بھی کیا صبح صبح شروع ہو گئی ہیں، کچھ ہی مہینوں کی مہمان ہوں آپ کے گھر میں۔ جب شادی کے بعد چلی جاؤں گی ناں تب یاد کریں گی۔ اصل میں امی جان مارننگ شو میں ’’ویڈنگ ویک‘‘ چل رہا ہے۔ امی کیا بتاؤں میں آپ کو حرا نادر کی ڈریسنگ اور جیولری کتنی حسین ہوتی ہے کہ دیکھو تو دیکھتے ہی رہ جاؤ۔‘‘
’’امی ویڈنگ ویک میں جس ڈیزائنر نے ڈریس تیار کیا ہے، میں نے اُن کا نمبر بھی محفوظ کر لیا ہے۔ اور ہاں امی، جیولری تو سیماز سے ہی لوں گی، اُن کا کراچی میں کوئی آؤٹ لیٹ نہیں ہے۔ ابّو سے کہیے گا کہ لاہور میں اُن کے دوست ظفر انکل سے کہہ کر منگوا لیں۔ مہندی مجھے لیوش سے جب کہ میک اپ مجھے گیبز سے کروانا ہے۔ شوز فائیلو سے اور فرنیچر ریبیٹ سے لینا ہے۔ فوٹو گرافی سپر اسٹوڈیو سے، کھانا مشہور کیٹرنگ سے، بینکوئیٹ ہال، ڈی جے میوزک… امی میں نے تو اپنی شادی کے بارے میں سب سوچ لیا ہے۔‘‘ سارہ کی والدہ اپنی بیٹی کی فرمائشوں کی لمبی چوڑی فہرست سُن کر حیران و پریشان تھیں۔ بے ساختہ گویا ہوئیں، ’’سارہ! تم تو بالکل ہی عقل سے پیدل ہوتی جارہی ہو۔ تمہں نہیں معلوم کہ تمہارے ابّو کی کوئی مل یا فیکٹری نہیں۔ وہ تو ایک سرکاری ادارے کے معمولی سے ملازم ہیں۔ بھلا وہ یہ سب کیسے کریں گے؟‘‘ ’’اُف امی! آپ پریشان نہ ہوں۔ ابّو نے مجھ سے کہا تھا کہ وہ شادی کا انتظام ویسا ہی کریں گے جیسے میں چاہوں گی اور یوں بھی شادی زندگی میں ایک ہی بار ہوتی ہے۔ بس اب آپ مجھے پریشان نہ کیجئے اور مارننگ شو دیکھنے دیجیے۔ چائے میں آپ کو یہ پروگرام ختم ہونے کے بعد بنادوں گی،‘‘ سارہ نے ٹی وی کا والیوم بڑھاتے ہوئے کہا۔
شام میں جب سارہ کے والد گھر آئے تو اپنی بیگم کو پریشان دیکھ کر چونک گئے اور دھیمے لہجےمیں دریافت کیا، ’’شاہدہ بیگم کچھ الجھی الجھی سی لگ رہی ہیں آپ، کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ ’’کچھ نہیں، آپ کے لیے کھانا لگا دوں؟‘‘ ’’ہاں بیگم! لگا دو، بہت بھوک لگ رہی ہے۔‘‘ ’’اچھا آپ منہ ہاتھ دھو لیجیے، میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘
کھانے سے فارغ ہونے کے بعد بیگم شاہدہ اپنے شوہر سے مخاطب ہوئیں، ’’سنیے!‘‘ ’’ہاں کہو کیا بات ہے؟‘‘
’’آپ نے سارہ کی شادی کےلیے کتنے پیسے جمع کیے ہوئے ہیں؟‘‘ شوہر مسکراتے ہوئے کہنے لگے، ’’اچھا تو تمہیں یہ فکر ہے، ارے بیگم پریشان نہ ہو ہم سفید پوش لوگ ہیں۔ بس اللہ مالک ہے وہ تمام معاملات خوش اسلوبی سے طے کروادے گا۔ ان شاء اللہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی نوبت نہیں آئے گی۔ کچھ میں نے جمع کیے ہوئے ہیں، کچھ سارہ کے نام بیمہ پالیسی لی تھی۔ سب کچھ ملا کر پانچ لاکھ تک تو ہوں گے۔ لیکن آپ یہ سب کیوں پوچھ رہی ہیں؟ کیا ہوا؟ آج اچانک سے یہ سب پوچھنے کا خیال کیوں آگیا؟ شادی کی تیاری کے لیے پیسے چاہئیں تو بتاؤ، میں ابھی دے دیتا ہوں یا سارہ نے کوئی فرمائش کی ہے؟‘‘
’’ارے کیا بتاؤں… آپ کے لاڈ پیار نے تو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس نادان لڑکی کو عقل نہیں اور رہی سہی کسر اِن مارننگ شو والوں نے پوری کر دی ہے۔ بچیوں کے معصوم ذہنوں کو اتنا برانڈ کے چکر میں جکڑ دیا ہے کہ اب وہ اُس سے نیچے بات کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتیں۔ اور یہ ڈیزائنرز دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں، اب ہم مڈل کلاس والے کہاں سے لائیں اتنے پیسے؟ ڈیزائنرز کا ایک سادہ جوڑا دس سے پندره ہزار سے کم نہیں ہوتا اور آپ کی بیٹی کی فرمائش ہے کہ سارے جوڑے اُس کے ڈیزائنر ہوں گے۔ اور جو شادی کا جوڑا وہ آج مارننگ شو میں پسند کر کے بیٹھی ہے وہ ڈیڑھ لاکھ کا ہے، بھلا ہم کیسے لیں گے؟‘‘ ’’ریبیٹ کا فرنیچر دو لاکھ کا ہے، بینکوئیٹ ہال ڈیڑھ لاکھ کا ہے، اِس کے علاوہ ایئر کنڈیشنر، فریج، واشنگ مشین، سلائی مشین، جوسر، بلینڈر، گرائنڈر، پردے، قالین، صوفے، برتن اور نہ جانے کیا کیا؟ اف خدایا! کیسے ہوں گے میری بیٹی کے خواب پورے… وہ نادان تو نہ جانے اپنے معصوم ذہن میں کیا کیا خواب سجا کر بیٹھی ہوئی ہے اور اگر ہم اپنی اولاد کے خواب پورے نہیں کرسکے تو کیا فائدہ؟‘‘
’’چلو اللہ سب خیر کرے گا، میں اپنے دوست و احباب سے کچھ ادھار لے لوں گا، کچھ ایڈوانس لے لوں گا۔ اپنی بیٹی کی خواہشات پوری ہو جائیں لیکن فکر تو مجھے سنیعہ کی ہے۔ بڑی بہن کی ایسی شادی دیکھ کر جب کل کو وه بھی یہی سب فرمائشیں کرے گی تو تب ہم کہاں سے کریں گے۔ ابھی تو وه چھوٹی ہے لیکن اس کی شادی کی عمر تک تو میں ریٹائر بھی ہو جاؤں گا اور ہمارا تو کوئی بیٹا بھی نہیں جو اپنی بہنوں کے ناز نخرے اٹھا لے۔‘‘ ’’ٹھیک کہتے ہیں آپ بیٹیاں بوجھ نہیں ہوتی لیکن ہمارے معاشرے نے انہیں ماں باپ پر بوجھ بنا دیا ہے۔‘‘
ابھی یہ گفتگو دونوں میاں بیوی کے درمیان جاری تھی کہ اچانک سارہ کمرے میں بھیگی آنکھوں کے ساتھ داخل ہوئی جو دروازے کے پیچھے کھڑی خاصی دیر سے یہ ساری گفتگو سن رہی تھی۔
’’معاف کر دیجیے بابا جان، مجھے کچھ نہیں چاہیے۔ میں اتنی خود غرص ہو گئی تھی کہ آپ لوگوں کا سوچا ہی نہیں تھا، میں نے آپ دونوں کی ساری باتیں سن لی ہیں، مجھے نہیں لینے کوئی برانڈڈ کپڑے۔ میں عام کپڑوں میں بھی اتنی ہی خوبصورت لگوں گی۔ نہیں چاہیے مجھے سیماز کی جیولری، نہ ہی ریبیٹ کا فرنیچر، نہیں بننا مجھے میرے والدین پر بوجھ۔‘‘
والدین کی بھی آنکھوں میں اپنی بیٹی کی باتیں سن کر آنسو چھلک گئے، اور ماں نے بیٹی کو گلے سے لگا لیا۔
یہ تو تھی سارہ کی کہانی لیکن ہمارے معاشرے میں ہزاروں سارائیں یہ خواب دیکھتی ہیں اور پورے نہ ہونے پر اُن کے دل ٹوٹتے ہیں تو کہیں والدین قرضوں تلے دب جاتے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ آخر اِن فضول مارننگ شوز کا مقصد کیا ہے؟ صرف اپنی ریٹنگ کےلیے یہ عوام کو کس طرف لے جا رہے ہیں؟ مارننگ شوز کے نام پر بیہوده ناچ گانے، برانڈز کی نمائشیں، فضول ٹوٹکے، بیہوده مذاق، کیا ایسی ہونی چاہیے ہماری صبح؟

تحریر: فرحین ناز بشکریہ ایکسپریس نیوز

loading...