اشاعت کے باوقار 30 سال

شہید اسامہ بن لادن ہمارا امیر ہے

اس وقت بحیثیت قوم ہماری تمام تر توجہ اس مسئلے پر ہے کہ کسی طرح وطن عزیز سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو۔ ریاست سے قتل و غارت اور شورش کا مکمل قلع قمع ہو ۔ تعلیمی ادارے، عبادت گاہیں اور پبلک مقامات محفوظ ہوں ۔فتووں کی تلوار واپس نیام میں چلی جائے تاکہ ترقی یافتہ، پر امن اور تعمیری اقدار کا حامل شعور پنپ سکے اور مردہ سماج کی سوچ نکھر کر جینے کے قابل ہو سکے لیکن یہ سب کچھ نا ممکن ہے کیونکہ اس ضرر رساں ’’بیانیے‘‘کو عوامی سطح پر مضبوط کیا جا رہا ہے ۔جس نے ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹے ۔قتل عام پر ایک عام آد می کو اکسایا ۔تعلیمی اداروں میں ہمارے معصوم بچوں کو خون میں نہلا دیا ۔(جوطلب علم کا مقدس فریضہ سر انجام دے رہے تھے ۔) اور تو اور ذہن سازی کا جو فارمولا طے پایا گیا ہے اس کے تحت ہماری انتظامیہ بھی ایک طرح سے دہشت گردی کی معاون ہے ۔

ایک طرف تو یہ شور ہے کہ ملک میں شدت و انتہاء پسندی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی مگر دوسری طرف جب ایک عام آدمی کو اس بحث میں الجھا ہوا پاتے ہیں کہ شہید اسامہ بن لادن ہمارا امیر ہے ۔تو شک یقین میں بدل جاتا ہے کہ ممکن ہی نہیں پاکستان سے دہشت گردی کا رائج فارمولا ختم ہو ۔ راقم نے باربار اپنی تحریروں میں اس بات پر زور دیا کہ نصاب تبدیل کیا جائے تاکہ بچپن سے ہوئی ہمار ی ذہن سازی کا رخ تبدیل ہو سکے ۔ہم اپنی آئندہ نسل میں مثبت فکر انجیکٹ کر سکیں ۔کہیں بھی چائے کے ڈھابے پر بیٹھے عام آدمی سے جب آپ فرقہ وارانہ بنیادوں پر چلنے والے مدارس کے حوالے سے محض اس کا مائنڈ سیٹ چیک کرنے کے لیے بات کر کے دیکھیں جو صر ف اور صرف کاروباری مقاصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں کہ ان مخصوص مدارس کو دہشت گردوں کی نرسری قرار دے کر پابندی لگا دی جائے تو رد عمل کے طور پر مخاطب توہین مذہب کا مرتکب کہہ کر اسلام کی خود ساختہ تشریح کی روشنی میں آپ کو جہنم واصل کر دے گا ۔ کچھ اسی طرح کی ایمانی و ذہنی کیفیت ہمارے تفتیشی افسران کی بھی ہے ۔ پولیس اسٹیشنز میں تفتیشی افسران زیر حراست افراد کی جب جسمانی چھترول کرتے ہیں ۔ تو سب سے پہلے ان سے نماز سنی جاتی ہے جب کہ ملزم کی تفتیش میں قانونی حوالے سے یہ عمل کوئی اہمیت نہیں رکھتا ۔علاوہ ازیں تعلیمی اداروں میں تعینات کر نے سے قبل اساتذہ کی نفسیاتی حالت کا ضرور جائزہ لیا جائے کہ کہیں یہ حضرات عمارت کی بنیاد میں شدت پسندی اور دہشت گردی کے اجزاء تو شامل نہ کردیں گے؟ بصورت دیگر ایک عام آدمی، تعلیم یافتہ نوجوان اور انتظامی افسر (بیورکریٹ) کیوں نہ یہ کہے کہ ’’شہید اسامہ بن لادن ہمارا امیر ہے ۔۔۔!

تحریر: منشاء فریدی

Author: