اشاعت کے باوقار 30 سال

سوشل میڈیا پر آنکھ بند کر کے اعتبار نہ کریں

آج کل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ قومی اور مذہبی جوش و جذبے سے شئیر کی جارہی ہے جسے اب تک مولانا، پروفیسر، اسلامک سکالرز، خطیب، حافظ اور قاری سمیت ایسے تمام باعمل اور باکردار لوگ شئیر کر چکے ہیں_ اس پوسٹ میں نہایت چشم کشا قسم کے مندرجہ ذیل انکشافات کئے گئے ہیں:
" آج کل پاکستان میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، جرمنی، فرانس اور انڈیا کے جو سفیر تعینات ہیں، یہ وہی سفیران ہیں جو 2003 میں عراق کی تباہی کے وقت بغداد میں تعینات تھے، 2011 میں لیبیا کی تباہی کے وقت طرابلس میں تعینات تھے اور بعد میں شام کی تباہی کے وقت بھی یہی سفیر شام میں تعینات تھے۔ اب یہ چھ کا ٹولہ اسلام آباد میں جمع ہو چکا، اس لئے خدا نخواستہ پاکستان میں بھی تباہی کا پلان بنا رہے ہوں گے "
یہ پوسٹ ان جغادریوں نے خود نہیں لکھی کیونکہ مذہبی اور سماجی ذمے داریوں کی وجہ سے ان کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ تحقیق کر کے کچھ لکھ سکیں، انہیں یہ پوسٹ انٹرنیٹ پر نظر آئی اور انہوں نے بسم اللہ پڑھ کر آگے شئیر کر دی۔
آج صبح کسی نے اس کا سکرین شاٹ ان باکس کیا تو بقول اشتیاق احمد کے جاسوسی ناولوں کے، میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی، تمام رونگٹے کھڑے ہو گئے اور جسم سے ٹھنڈا پسینہ بہنے لگ گیا۔ پھر میں نے اپنا سر جھٹکا، لیپ ٹاپ اٹھایا اور سوچا کہ تھوڑی ریسرچ کر لی جائے۔ انٹرنیٹ پر 5 منٹ کی ریسرچ کا نتیجہ درج ذیل ہے:
امریکہ: آجکل اسلام آباد میں امریکی سفیر کا نام ڈیوڈ ھیل ہے جو کہ دو سال سے یہیں پر تعینات ہے۔ عراق جنگ کے دنوں میں یعنی 2003 میں موصوف واشنگٹن میں تعینات تھے اور اسرائیل اور فلسطین کے تعلقات کے امور کے ڈائریکٹر تھے۔
برطانیہ: سفیر کا نام تھامس ڈریو ہے جسے اسلام آباد میں ایک سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا۔ 2002 سے 2006 تک، یعنی جب عراق جنگ شروع ہو کر ختم بھی ہو چکی تھی، یہ صاحب لندن میں برطانیہ اور یورپ کے درمیان تعلقات کو وسیع کرنے کے مشن پر مامور تھے۔
جرمنی: سفیر کا نام مارٹن کوبلر ہے جو حال ہی میں اسلام آباد تعینات ہوا ہے۔ عراق جنگ کے دنوں میں یہ مصر میں تھا اور پھر وہاں سے افریقی ملک چلا گیا۔
کینیڈا: سفیر کا نام پیری کیلڈرووڈ ہے اور یہ بھی حال ہی میں اسلام آباد تعینات ہوا تھا۔ عراق جنگ کے شروع ہونے سے پہلے اور ختم ہونے کے بعد تک یہ صاحب نائجیریا میں تعینات تھے۔
فرانس: خاتون سفیر کا نام مارٹین ڈورانسے ہے جو پچھلے 3 سال سے اسلام آباد میں ہی تعینات ہے اور عراق جنگ کے دنوں میں وہ برازیل میں سفارت کے فرائض سرانجام دے رہی تھی۔
انڈیا: سفیر کا نام گوتم بمبے والا ہے جو کہ دسمبر 2016 سے اسلام آباد میں ہے۔ اس سے پہلے اس کی سفارت کا ریکارڈ صرف چین اور بھوٹان تک کا ہے۔
یہ عالم ہے ہمارے عالم حضرات کی ریسرچ کا۔ بریکنگ نیوز دینے کے چکر میں یہ لوگ کوئی پوسٹ شئیر کرنے سے پہلے تھوڑٰی سی ریسرچ کرنے کی تکلیف بھی گوارا نہیں کرتے۔ چونکہ پاکستانیوں کو اس قسم کی سازشی تھیوریاں ہمیشہ سے پسند آتی رہی ہیں، اس لئے لائکس اور شئیرز بڑھانے کے چکر میں یہ پڑھے لکھے مذہبی سکالر حضرات افواہ سازی کا ایندھن بننا بھی گوارا کرلیتے ہیں۔ آپ یقین کریں کہ ہماری تباہی کے پیچھے نہ تو امریکہ کا ہاتھ ہے اور نہ ہی انڈیا کا۔ پاکستان کے مسائل کے ہم خود ذمے دار ہیں۔ نہ تو آج تک ہم نے اچھے حکمران منتخب کئے اور نہ ہی ادارہ سازی کی۔ نتیجہ وہی ہونا تھا جو اب ہو رہا ہے۔ اپنی خامیوں کو دوسروں کی سازشوں میں چھپانا چھوڑیں اور کھل کر اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا سیکھیں۔ ورنہ آج سے 100 سال بعد بھی ہم ادھر ہی کھڑے ہوں گے اور باقی قومیں چاند پر پہنچ چکی ہوں گی!!!

نوٹ: ادارہ معذرت خواہ ہے کہ سوشل میڈیا میں شائع ہونے والی اس تحریر کے مصنف کا علم نہیں ہو سکا۔ مگر تحریر کی افادیت کے پیش نظر اس کو اردو ٹائمز میں جگہ دینا ناگزیر سمجھا گیا۔ اگر کسی کو مصنف کے نام کا علم ہو یا مصنف خود اس تحریر کو پڑھیں تو مصنف کے نام سے ادارہ کو آگاہ فرمائیں تاکہ اس فروگذاشت کا ازالہ کیا جا سکے۔ ادارہ اس کے لئے آپ کا ممنون ہو گا