اشاعت کے باوقار 30 سال

کم سن طالبہ ’’ناجائز بچے‘‘ کو جنم دے کر خود ’’بے ہوش‘‘ گئی

کم سن طالبہ ’’ناجائز بچے‘‘ کو جنم دے کر خود ’’بے ہوش‘‘ گئی

نئی دہلی: بھارت میں خواتین کے بڑھتے ہوئے ریپ اور جبری زیادتی کے واقعات معمول کی بات بن چکی ہے لیکن مودی سرکار ایسے گھناؤنے اور شرمناک افعال میں ملوث افراد کو کڑی سزا دینے میں مسلسل ناکام دکھائی دیتی ہے، اب چند روز قبل ہی دہلی میں ریپ کا ایک ایسا واقعہ سامنے آیا ہے جس نے بھارت کے بد نما چہرے کو مزید گہنا دیا ہے ، دسویں کلاس کی کم سن طالبہ نے سکول کے باتھ روم میں بچے کو جنم دے کر پورے ہندوستان کو سکتے میں مبتلا کر دیا ہے ۔ بھارتی نجی ٹی وی چینل کے مطابق دہلی کے ملک پور نامی علاقے کے سرکاری سکول میں دسویں کلاس کی معصوم طالبہ ’’ناجائز بچے‘‘ کو جنم دے کر خود ’’بے ہوش ‘‘ گئی لیکن سب کے ’’ہوش ‘‘ اڑا دئے ،طالبہ کو جب ہوش آیا تو پتا چلا کہ وہ ریپ کا شکار ہوئی تھی اور اسے زیادتی کا نشانہ بنانے والا کوئی اور نہیں اس کے پڑوس میں رہنے والا 51 سال کا ایک رکشہ ڈرائیور تھا جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے ۔دہلی پولیس کی ابتدائی تفتیش میں ملزم نے معصوم طالبہ کے ساتھ زیادتی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس لڑکی کو چار, پانچ مرتبہ زیادتی کا نشانہ بنا چکا ہے ،سکول کی طالبہ کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانے کے لئے وہ اسے پیسوں کا لالچ دیتا تھا، سکول کی طالبہ کو شروع میں اپنے حاملہ ہونے کا علم نہ ہو سکا لیکن جب اس کا پیٹ بڑھنا شروع ہوا تو شیطان صفت رکشہ ڈرائیور نے بچہ گرانے والی دوائی پلا دی جس کی وجہ سے سکول کے باتھ روم میں دسویں کی طالبہ کے ہاں قبل از وقت ہی بچے کی پیدائش ہو گئی ۔طالبہ کے گھر والوں نے حیرت انگیز بیان دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی بیٹی کے حاملہ ہونے کا پتا ہی نہیں چل سکا ،انہیں لگ رہا تھا کہ کسی بیماری یا گیس کی وجہ سے ان کی بیٹی کا پیٹ پھول رہا ہے ،سکول سے جب انہیں یہ اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی نے باتھ روم میں بچے کو جنم دیا ہے تو وہ سب سکتے میں آ گئے ۔سکول انتظامیہ نے کمسن ماں اور نوزائیدہ بچے کو ایک سرکاری ہسپتال میں داخل کرا دیا ہے جہاں دونوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر نے اس شرمناک واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سکول میں بچے کی پیدائش کے دوران طالبہ بے ہوش ہو گئی تھی جسے فوری ہسپتال منتقل کیا گیا ،لڑکی نے ہوش میں آنے کے بعد آٹو ڈرائیور کے ’’کالے کرتوتوں ‘‘ کے بارے میں بتایا تو انکشاف ہوا کہ شیطان صفت رکشہ ڈرائیور سکول کی طالبہ کو پیسوں کا لالچ دے کر اپنی جنسی ہوس مٹاتا تھا ،وہ بچی کو کبھی 5 سو اور کبھی 8 سو روپے دیتا تھا ، واقعہ کا علم ہونے پر رکشہ ڈرائیور فرار ہو گیا لیکن پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ، ملزم کے بارے میں پتا چلا ہے کہ 51 سالہ آٹو ڈرائیور ملک پور میں تنہا کرائے کے مکان میں رہتا تھا جب کہ اس کی فیملی بہار میں رہائش پذیر ہے ۔

loading...