اشاعت کے باوقار 30 سال

مسلمان جاگ اٹھے، انتہا پسند مودی سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور

مسلمان جاگ اٹھے، انتہا پسند مودی سرکار گھٹنے ٹیکنے پر مجبور

نئی دہلی: بھارت میں گائے کی خریدوفروخت اور گوشت کھانے پر پابندی کے بعد بنگلور سمیت کئی ریاستوں کے مسلمانوں سڑکوں پر نکل آئے ا ور بھارت کی انتہا پسند مودی سرکار کے خلاف شدید نعرے بازی کی جب کہ گوشت کے تاجروں نے نئی دہلی حکومت کے حکم نامے پرسپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کی وفاقی حکومت کی جانب سے مویشیوں کی خرید و فروخت اور ذبیحے پرپابندی سے متعلق قانون کے خلاف بھارت کی کئی ریاستوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔بنگلور میں مسلمانوں اوردیگرکمیونیٹیز کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ پابندی مذہبی وجہ سے نہیں لگائی گئی ہے بلکہ حکومت سارا بزنس نجی کمپنیوں کے ہاتھ میں دینا چاہتی ہے۔گوشت کے تاجروں نے قریش ایکشن کمیٹی اوردیگر تاجروں اورمتعلقہ صنعتی ایسوسی ایشنوں کے ساتھ مل کرآئندہ چند روزمیں سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ وفاقی حکم کومنسوخ کرایا جاسکے۔ ریاست کیرالہ کے وزیراعلیٰ پی وجین نے وفاق کے فیصلے پرکڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم کیا کھائیں کیا نہیں یہ دہلی یا ناگپور سے جاننے کی ضرورت نہیں۔ ریاستی حکومت اپنے عوام کو اْن کی پسند کا ہر کھانا اور سہولتیں دے گی۔ انہوں نے اتوار کو وزیر اعظم کو خط لکھ کر مرکز کے فیصلے کی مخالفت کی تھی۔بھارتی ریاست مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ ممتا بینر جی مودی سرکار کے سامنے چٹان بن گئیں اور گائے کی خرید وفروخت پر پابندی کے فیصلے کو غیر آئینی قرار دے دیتے ہوئے کہا کہ جانوروں کی خریدوفروخت سے متعلق قانون سازی وفاق کی نہیں ،ریاستوں کی ذمے داری ہے۔دوسری جانب بعض میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مودی سرکار نے مسلمانوں کے آگے گھٹنے ٹیک لئے ہیں اور وہ عدالت میں جانے سے پہلے ماہ رمضان کے دوران ہی گائے کے گوشت پر لگائی گئی پابندی اٹھا لے گی ۔

loading...